بجٹ 2026 ’وکست بھارت‘ کی سمت مضبوط قدم: وزیر اعظم نریندر مودی
32
M.U.H
16/02/2026
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بجٹ 2026 کسی مجبوری میں لیا گیا ’اب یا کبھی نہیں‘ کا فیصلہ نہیں بلکہ تیاری، عزم اور تحریک سے پیدا ہونے والا ’ہم تیار ہیں‘ کا لمحہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ بھارت کے ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے خواب اور عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ نئی دہلی میں اتوار کے روز اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کا کوئی بھی بجٹ محض رسمی ’بہی کھاتا‘ تیار کرنے کی سوچ کے تحت نہیں بنایا گیا، کیونکہ یہ ان کا طریقہ کار نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہمیشہ بجٹ کو قومی تعمیر کے ایک مؤثر آلے کے طور پر دیکھا ہے، نہ کہ صرف آمدنی اور اخراجات کے اعداد و شمار کے مجموعے کے طور پر۔ وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ چند برس قبل لال قلعہ کی فصیل سے انہوں نے کہا تھا، ’’یہی وقت ہے، صحیح وقت ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’اب وقت ہے‘ کی یہی سوچ ان کی حکومت کی رہنمائی کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ جذبہ صرف حکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے ملک کا اجتماعی یقین بن چکا ہے۔ ملک میں ایک نیا خوداعتمادی کا ماحول نظر آ رہا ہے اور عوام میں ترقی کے سفر کا حصہ بننے کا جذبہ بڑھ رہا ہے۔
مودی نے کہا کہ مختلف عالمی چیلنجز کے باوجود بھارت نے اپنی مضبوط شناخت برقرار رکھی ہے اور مشکل عالمی حالات میں بھی ترقی کا روشن مرکز بن کر ابھرا ہے۔ ان کے مطابق وبا کے بعد کی دنیا بھارت کے لیے نئے مواقع لے کر آئی ہے اور کئی ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور جدت طرازی کے میدان میں بھارت کے ساتھ شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اب 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب اگلا بڑا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کیا یہ واقعی ’اب یا کبھی نہیں‘ جیسی صورتحال ہے، کہا کہ موجودہ حالات بھارت کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے پاس نوجوان اور ہنر مند آبادی کی بڑی طاقت موجود ہے، جو مستقبل کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت مضبوط معاشی ترقی، کم مہنگائی اور مستحکم اقتصادی نظام پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ بھارت کے نوجوان خلائی تحقیق، کھیلوں اور اسٹارٹ اپ جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام اور اصلاحات پر مبنی پالیسی ماحول سرمایہ کاروں اور صنعتوں کے لیے اعتماد کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی عوامل کی بنیاد پر لوگ اسے بھارت کے لیے ایک تاریخی موقع تصور کر رہے ہیں۔ اسی دوران ملک نے ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ بھی منایا، جس نے عوام میں قومی مشن کا احساس مزید مضبوط کیا۔ ان کے مطابق اس جذبے نے ملک کو آئندہ 25 برسوں کے اہداف کے لیے متحد کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں عوام کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ صفائی ہو یا دیگر سماجی امور، لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ترقی یافتہ قوم بننا صرف بنیادی ڈھانچے یا معیشت کا سوال نہیں بلکہ سماجی عادات اور اجتماعی ذمہ داری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق معاشرتی شعور میں یہ تبدیلی طویل المدتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مودی نے زور دے کر کہا، ’’یہ کسی دباؤ میں لیا گیا ’اب یا کبھی نہیں‘ کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ تیاری اور تحریک سے پیدا ہونے والا ’ہم تیار ہیں‘ کا لمحہ ہے۔ یہی جذبہ اس بجٹ کی روح ہے اور یہی بھارت کو ترقی یافتہ قوم بنانے کی سمت میں ہماری رہنمائی کرے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو محض بجٹ 2026 کے طور پر نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے دوسرے مرحلے کے پہلے بجٹ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق 2014 سے اب تک کی کامیابیوں کو یہ بجٹ مزید مضبوط بناتا ہے اور آئندہ 25 برسوں کے لیے نئی رفتار فراہم کرتا ہے۔ جس طرح 1920 کی دہائی میں لیے گئے فیصلوں نے 1947 کی آزادی کی بنیاد رکھی تھی، اسی طرح آج کے فیصلے 2047 کے ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد استوار کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے دہرایا کہ ان کی حکومت کا کوئی بھی بجٹ محض روایتی دستاویز نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں، پہلے ریاستی سطح پر اور اب قومی سطح پر، انہوں نے ہمیشہ جامع حکمت عملی، واضح منصوبہ بندی اور مؤثر نفاذ پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق 2014 کے بعد سے بجٹ صرف اعداد و شمار یا اعلانات کا مجموعہ نہیں رہا بلکہ اس میں واضح نیت، روڈ میپ اور مقررہ مدت کے ساتھ اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بجٹ میں شروع ہونے والی اسکیم کو اگلے بجٹ میں مزید آگے بڑھایا جاتا ہے، تاکہ تسلسل برقرار رہے اور نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔ ان برسوں میں حکومت نے سابقہ ادوار سے ملنے والی ساختی کمزوریوں کو دور کرنے، بڑے اصلاحی اقدامات کرنے، غریبوں کے لیے مواقع بڑھانے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، خواتین کے کردار کو مضبوط کرنے اور کسانوں کے وقار اور تحفظ کو یقینی بنانے پر کام کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق حکومت نے ٹیکنالوجی پر مبنی مگر انسانی ہمدردی سے سرشار فلاحی ڈھانچہ تیار کیا ہے، جو معاشرے کے آخری فرد تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر قدم پر قومی تعمیر، معیشت کو مضبوط کرنا اور ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد رکھنا ہی بنیادی مقصد رہا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ بجٹ اس سفر کا اگلا مرحلہ ہے جو ملک کی ’ریفارم ایکسپریس‘ کو نئی رفتار دے گا۔ ان کے مطابق یہ بجٹ نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے اور یہی وژن بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کی سمت میں رہنمائی فراہم کرے گا۔