گرینڈ مفتی کانتھاپورم ابوبکر احمد کی وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات، مسلمانوں کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال
28
M.U.H
16/02/2026
نیو دہلی: ہندوستانی گرینڈ مفتی کانتھاپورم اے پی شیخ ابو بکر احمد مسلیار نے نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے دوران مختلف سماجی انسانی تعلیمی اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اقلیتی بہبود سے متعلق معاملات اور بین الاقوامی حالات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں ملک میں سماجی ہم آہنگی تعلیم کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ عالمی صورتحال اور اس کے اثرات پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔
تمام طبقات کو ساتھ لے کر ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور اس بات کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ معاشی پیش رفت کے ساتھ ساتھ خوشحالی کے اشاریے اور انسانی ترقی کو بھی مناسب ترجیح دی جائے۔ وسائل کی تقسیم آبادی کے تناسب اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی گئی۔
وقف سے متعلق ایس آئی آر خدشات قدیم مساجد اور اسلامی ورثے کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ اور آزاد نیشنل فیلوشپ سمیت اقلیتی تعلیمی فلاحی منصوبوں کی بحالی جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملپّورم سینٹر کی ترقی اور ملک کی اقلیتی برادری کے ساتھ مرکزی حکومت کے مؤثر رابطے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
اس ملاقات کے دوران ہز ایمیننس نے وزیر اعظم کے ساتھ سماجی انسانی تعلیمی اور ترقیاتی امور کے وسیع دائرے پر بامعنی گفتگو کی۔ اقلیتی بہبود سے متعلق اہم مسائل اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ شیخ ابوبکر احمد نے کیرالہ کے حالیہ دورے کے دوران مختلف طبقات سے حاصل ہونے والی تجاویز اور خدشات وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے۔ یہ دورہ انسانیت کے عنوان کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے آنے والے مقدس مہینے رمضان المبارک کے حوالے سے اپنا پیغام اور تاثرات بھی پیش کیے۔
وزیر اعظم نے سمستہ کیرالا جمعیۃ العلماء اور جامعہ مرکز کی قیادت میں جاری تعلیمی اور سماجی فلاحی سرگرمیوں کو سراہا اور کہا کہ ایسی کاوشیں معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں۔
گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقی کے عمل میں تمام طبقات کو شامل کیا جائے اور معاشی نمو کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بھی ترجیح دی جائے۔ آبادی کے تناسب اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ دیگر امور میں وقف اور ایس آئی آر سے متعلق خدشات قدیم مساجد اور اسلامی ورثے کی تاریخی یادگاروں کے تحفظ اقلیتی تعلیمی فلاحی منصوبوں بشمول مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کی بحالی بے قصور افراد کو انصاف کی فراہمی شمالی ہند کے اسلامی اداروں جیسے مبارکپور جامعہ اشرفیہ کو درپیش مسائل جنوبی ہند کے بڑے زیارتی مراکز کو جوڑنے کے لیے ٹرین خدمات کی تجاویز اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملپّورم سینٹر کی ترقی جیسے موضوعات شامل تھے۔ ملک بھر کی اقلیتی برادریوں کے ساتھ مرکزی حکومت کے مؤثر اور قریبی رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اس ملاقات میں سمستہ کیرالا جمعیۃ العلماء کے سیکریٹری شیخ عبدالرحمن سقافی اور مرکز نالج سٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عبدالحقیم ازہری بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گرینڈ مفتی کی قیادت میں بھارت میں جاری تعلیمی اور سماجی فلاحی سرگرمیاں نہایت مؤثر انداز میں انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کا وقار بلند کرنے کے لیے گرینڈ مفتی کی سماجی اور ثقافتی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور حکومت ان سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
گرینڈ مفتی کے ساتھ اس ملاقات میں سمست کیرالا جمعیۃ العلماء کے سیکریٹری پیرود عبدالرحمن سَقافی اور ایس وائی ایس کے صدر ڈاکٹر محمد عبدالحق ازہری بھی شریک تھے۔