اردن، اسرائیل کیخلاف مزاحمتی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے پر 3 جوانوں کو 10 سال قید کی سزا
6
M.U.H
16/02/2026
اردنی عدالت کی جانب سے 3 مسلم جوانوں پر عائد کی گئی فرد جرم کی بنیاد پر، محمد العوفی، مالک الغانم اور قتادہ العداسی کو "اُردن کی سلامتی اور اردن کے شہریوں کو انتقامی کارروائیوں کے خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی انجام دہی" پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔ عربی 21 کے مطابق تینوں اردنی جوانوں کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کے ارادے سے آتشیں اسلحے اور گولہ بارود رکھنے کے جرم میں بھی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 8 ماہ قبل گرفتار کئے گئے ان افراد نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے دوران (قابض صیہونی ریجیم) اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جبکہ ان کی ملاقات ایک "ابوذر" نامی شخص سے ہوئی جو عراق میں رہتا تھا کہ جس سے انہوں نے رقم وصول کی اور اسی رقم سے انہوں نے کلاشنکوف سمیت انفرادی ہتھیار خریدے۔
مذکورہ کیس کے مطابق، مدعا علیہان نے ابتدائی طور پر جنوبی اردن میں وادی روم اور پیٹرا کے سیاحتی علاقوں میں اسرائیلی سیاحوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا لیکن وہ کسی ایسے سیاح کی شناخت میں ناکام رہے پھر آخر کار، ان کو، اردن و مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیان واقع سرحدی علاقوں میں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد گرفتار کیا گیا، جہاں وہ دراندازی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران اردن کی ریاستی سلامتی کی عدالت نے کئی ایک ایسے مسلمان گروہوں کو گرفتار کر کے قید کی سزائیں سنائی ہیں کہ جو یا تو قابض و سفاک اسرائیلی ریجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے یا پھر غزہ کی پٹی میں سرگرم فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے ساتھ منسلک تھے۔