وزیر اعظم نریندر مودی 25 سے 26 فروری تک دو روزہ دورے پر اسرائیل جائیں گے۔ یہ اطلاع پیر کے روز دی گئی۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز کانفرنس آف پریزیڈنٹس آف میجر امریکن جیوش آرگنائزیشنز سے خطاب کے دوران سب سے پہلے وزیر اعظم مودی کے دورے کی خبر دی۔
نیتن یاہو نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا كہ پارلیمنٹ سے خطاب متوقع ہے۔ اگلے ہفتے یہاں کون آ رہا ہے؟ نریندر مودی۔انہوں نے کہا كہ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان زبردست اتحاد ہے اور ہم ہر طرح کے تعاون پر بات کرنے جا رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے۔ اس کی آبادی 1.4 ارب ہے۔ ہندوستان بے حد طاقتور اور بے حد مقبول ہے۔ یہاں ایک ذریعے نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وزیر اعظم مودی کا دورہ “ممکنہ طور پر 25 سے 26 فروری تک مختصر ہوگا”، لیکن “اس کا اثر گہرا ہوگا کیونکہ مودی کو نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہے۔
اگرچہ دورے کے پروگرام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، تاہم توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) سے خطاب کریں گے۔ دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی دو طرفہ اور علاقائی اہمیت کے تمام امور پر بات کر سکتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وہ جولائی 2017 میں اسرائیل گئے تھے، جو کسی بھی ہندوستانی وزیر اعظم کا یہودی ریاست کا پہلا دورہ تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم کا یہ اعلیٰ سطحی دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی وزارتی تبادلوں کے بعد ہو رہا ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل کے وزیر سیاحت حائم کاٹز، وزیر معیشت و صنعت نیر برکات، وزیر زراعت و غذائی تحفظ آوی ڈختر اور وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے ہندوستان کا دورہ کیا، کیونکہ اسٹریٹجک شراکت دار آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کے لیے رفتار بڑھا رہے تھے۔
اسموٹریچ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ (بی آئی ٹی) پر دستخط کیے گئے، جبکہ نومبر میں وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کے اسرائیل کے دورے کے دوران ایف ٹی اے کی جانب پیش رفت کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) طے کیے گئے۔
دسمبر میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو، صدر اسحاق ہرزوگ، وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اور نیر برکات سے ملاقات کی۔ نومبر میں ہندوستان اور اسرائیل نے دفاعی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے اشتراک کے ذریعے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔
اسرائیل اور ہندوستان کے مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا سالانہ اجلاس نومبر میں تل ابیب میں منعقد ہوا، جس کی قیادت اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ریٹائرڈ) امیر بارام اور ہندوستانی دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے کی۔
اجلاس کے بعد بارام نے کہا كہ ہندوستان کے ساتھ یہ اسٹریٹجک مکالمہ دونوں ممالک کے لیے ایک نہایت اہم وقت میں ہو رہا ہے۔ ہماری اسٹریٹجک شراکت داری گہرے باہمی اعتماد اور مشترکہ سیکیورٹی مفادات پر مبنی ہے۔ ہم ہندوستان کو ایک اولین درجے کا اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں اور دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
علیحدہ طور پر، بڑی دفاعی صنعتوں کے سی ای اوز کے ساتھ ایک خصوصی پینل بھی منعقد کیا گیا، جس میں جدید اور انقلابی اسرائیلی ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں، ساتھ ہی اسرائیل کی دفاعی صنعتوں اور ہندوستان کے درمیان صنعتی و دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خیالات اور منصوبے زیرِ بحث آئے۔
ایک دفاعی ذریعے نے بتایا كہ اس معاہدے میں تعاون کے وسیع شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبہ بندی، تربیت، دفاعی صنعتی تعاون اور صلاحیتیں شامل ہیں، جن میں سائنس و ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، تکنیکی جدت، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی میں تعاون شامل ہے۔
انہوں نے کہا كہ اس سے جدید ٹیکنالوجی کے اشتراک کو ممکن بنایا جائے گا اور مشترکہ ترقی و پیداوار کو فروغ ملے گا۔ دونوں فریقوں نے دہشت گردی جیسے مشترکہ خدشات سمیت مختلف باہمی اہمیت کے امور پر بھی غور و خوض کیا۔