تجارتی معاہدوں میں کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ
37
M.U.H
16/02/2026
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر معاہدے میں زراعت، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا ہے اور کسی بھی طبقے کو غیر محفوظ نہیں چھوڑا گیا۔ اتوار کو گاندھی نگر میں ملک کے پہلے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پر مبنی عوامی تقسیم نظام کے افتتاح کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ داخلہ نے کانگریس اور اس کے لیڈر راہل گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ آزاد تجارتی معاہدوں کے اثرات کے بارے میں کسانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب راہل گاندھی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کسانوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو یہ مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، کیونکہ کانگریس کی تاریخ ملک کو گمراہ کرنے سے بھری پڑی ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے دوران کسانوں، مویشی پالن اور ماہی گیروں کے مفادات کو اولین ترجیح دی۔ ان کے بقول ہر معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ زرعی پیداوار، دودھ کی صنعت اور ماہی گیری کے شعبے پر کوئی منفی اثر نہ پڑے اور ملکی مفادات ہر حال میں محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف کسانوں بلکہ دیہی معیشت سے وابستہ تمام طبقات کے مفادات کا خیال رکھا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ آزاد تجارتی معاہدے کسانوں کو نقصان پہنچائیں گے، سراسر بے بنیاد اور سیاسی مفاد پر مبنی ہے۔ زرعی شعبے کے لیے حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے دور میں زرعی بجٹ 26 ہزار کروڑ روپے تھا، جو موجودہ حکومت میں بڑھ کر ایک لاکھ 29 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دہائی میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر اناج کی خریداری سابق یو پی اے حکومت کے مقابلے میں پندرہ گنا بڑھی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور انہیں منڈی میں بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ کانگریس نے 70 برس تک قرض معافی کے وعدے کیے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست چھ ہزار روپے منتقل کر رہی ہے، جس سے انہیں غیر ضروری قرض لینے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق براہ راست مالی امداد کا یہ نظام شفاف اور مؤثر ہے۔ ڈیری شعبے پر ممکنہ منفی اثرات سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیری پیداوار کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام تجارتی معاہدوں میں ڈیری سیکٹر کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور ملکی صنعت کو کسی بھی طرح کے نقصان سے بچایا گیا ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ نے راہل گاندھی کو اس معاملے پر عوامی مباحثے کا چیلنج بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ مورچہ کے صدر بھی اس موضوع پر کھلی بحث کے لیے تیار ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں بھارت نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ اہم تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے بعد امریکہ نے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان بھی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آزاد تجارتی معاہدے کی توثیق کی گئی۔