’یہ ترقی نہیں، تباہی ہے‘، راہل گاندھی نے جزیرہ گریٹ نکوبار کا دورہ کر مرکز کے منصوبے پر اٹھائے سنگین سوالات
41
M.U.H
29/04/2026
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بدھ کے روز گریٹ نکوبار جزیرے کے دورے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے مرکز کے ’گریٹ نکوبار آئی لینڈ ڈیولپمنٹ‘ پروجیکٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی نہیں، بلکہ ترقی کی زبان میں چھپی ہوئی تباہی ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی ویڈیو میں گریٹ نکوبار جزیرے کے جنگل میں گھومتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے ویڈیو پوسٹ میں لکھا کہ ’’آج میں نے گریٹ نکوبار کا سفر کیا۔ یہ میری زندگی کے سب سے انوکھے جنگل ہیں۔ ایسے درخت جو ہماری یادوں سے بھی پرانے ہیں۔ ایسے جنگل جنہیں اگنے میں کئی نسلیں لگ گئیں۔ اس جزیرے کے لوگ بھی اتنے ہی خوبصورت ہیں، خواہ وہ قبائلی برادری ہو یا وہاں بسنے والے لوگ، لیکن ان سے وہ سب چھینا جا رہا ہے جس پر ان کا حق ہے۔‘‘
راہل گاندھی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’حکومت یہاں جو کر رہی ہے، اسے وہ پروجیکٹ کہتی ہے۔ لیکن میں نے جو دیکھا، وہ کوئی پروجیکٹ نہیں ہے۔ یہ لاکھوں درختوں پر کلہاڑی چلانے کی تیاری ہے۔ یہ 160 مربع کلومیٹر کا برساتی جنگل ہے جسے ختم ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایسی برادریاں ہیں جنہیں نظر انداز کر دیا گیا، جب کہ ان کے گھر ان سے چھین لیے گئے۔ یہ ترقی نہیں ہے۔ یہ تو ترقی کی زبان میں چھپی ہوئی تباہی ہے۔‘‘
حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ’’اس لیے میں صاف طور پر کہوں گا اور بار بار کہتا رہوں گا: گریٹ نکوبار میں جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ ہماری زندگی میں اس ملک کے قدرتی اور قبائلی ورثے کے خلاف سب سے بڑے گھوٹالوں اور سنگین جرائم میں سے ایک ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اسے روکا جانا چاہیے۔ اور اسے روکا جا سکتا ہے، اگر ہندوستانی عوام وہی دیکھنے کا فیصلہ کریں جو میں نے دیکھا ہے۔‘‘
دوسری جانب کانگریس نے بھی اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل سے راہل گاندھی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ نامہ نگاروں سے انڈمان-نکوبار میں لوگوں کو درپیش مسائل کے متعلق بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’انڈمان-نکوبار کے لوگوں کی زمین چھینی جا رہی ہے اور کسی سے پوچھے بغیر اڈانی جیسے بڑے کاروباریوں کو دی جا رہی ہے۔ یہاں جنگلات کے حقوق کا قانون بھی نافذ نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں اور قبائلیوں کو مناسب معاوضہ نہیں مل رہا ہے اور چوری چھپے ہندوستان کا ورثہ چرایا جا رہا ہے۔‘‘
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم ملک کو بتائیں گے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے اور انڈمان-نکوبار جزیرے کے لوگوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں گے۔ انڈمان میں پانی کا مسئلہ ہے۔ یہاں ایل جی کی طرف سے بھی بدعنوانی ہے۔ وہ راجا کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر اور دفتر کا نام اگرچہ ’لوک بھون‘ رکھا ہے، لیکن کسی سے ملتے نہیں ہیں۔ جمہوریت میں عوام کی بات سنی جانی چاہیے اور ان کا احترام ہونا چاہیے۔ انڈمان-نکوبار کا اصل مسئلہ ’ایکولوجیکل چوری‘ ہے، کیونکہ یہاں لاکھوں کروڑوں روپے کے درخت چرائے جا رہے ہیں اور زمین چھینی جا رہی ہے۔‘‘