جامعہ کے وی سی کا ریمارک، طلبہ تنظیموں کا سخت ردعمل
23
M.U.H
30/04/2026
نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر مظہر آصف کے اس بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے کہ تمام بھارتیوں کے اندر مہادیو کا ڈی این اے موجود ہے، جس کے بعد طلبہ تنظیموں نے سخت ردعمل دیا ہے اور کیمپس میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ یہ بیان یونیورسٹی میں آر ایس ایس کے زیر اہتمام منعقدہ “یوا کمبھ” تقریب کے دوران دیا گیا، جس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں وائس چانسلر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ بھارت میں زبان، ثقافت اور مذہب کے اختلافات کے باوجود “ہم سب کے اندر مہادیو کا ڈی این اے موجود ہے”، جس پر تقریب میں موجود افراد نے تالیاں بھی بجائیں۔ اس تقریب پر پہلے ہی کئی طلبہ تنظیموں نے اعتراض کیا تھا اور کیمپس میں آر ایس ایس پروگرام کی اجازت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے باعث تقریب میں تاخیر بھی ہوئی اور یونیورسٹی کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ اس تنازع کے درمیان اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کی جامعہ یونٹ نے وائس چانسلر کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “غیر سائنسی” اور “رجعت پسندانہ” قرار دیا ہے۔
طلبہ تنظیم نے الزام لگایا کہ یہ بیان سائنسی سوچ کو فروغ دینے کی آئینی ذمہ داری کے خلاف ہے اور انتظامیہ پر تنقید کی کہ اس نے اس پروگرام کی اجازت دی۔ SFI نے یہ بھی الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کی گئی اور انہیں مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے روکا گیا۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا، جب طلبہ پرامن احتجاج کر رہے تھے تو انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔
مظاہرین کو گھسیٹا گیا، مارا گیا اور پروکٹوریل ٹیم نے ان پر تشدد کیا۔ اس دوران وائس چانسلر کا بیان ایک غیر سائنسی اور رجعت پسند سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو آئینی طور پر سائنسی مزاج کو فروغ دینے کی ذمہ داری کے خلاف ہے۔ یہ تشویشناک ہے کہ طلبہ کو جمہوری سرگرمیوں پر پابندیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے، جبکہ انتظامیہ کیمپس میں آر ایس ایس پروگراموں کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔