’گائے کا گوشت ثابت ہونے تک گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی اور منمانی ہے‘، یوپی حکومت پر عدالت نے لگایا 2 لاکھ روپئے کا جرمانہ
23
M.U.H
30/04/2026
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون کے تحت ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جب تک سائنسی طریقے سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ برآمد گوشت واقعی گائے کا ہے، تب تک گاڑی کو ضبط کرنا غیر قانونی اور منمانی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کی کارروائی کو ناقص پایا اور حکومت پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تاکہ عرضی گزار کو ہوئے مالی نقصان کی تلافی کی جا سکے۔ اس معاملے میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے عدالت نے گاڑی ضبط کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا۔
باغپت کے محمد چاند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سندیپ جین نے کہا کہ کسی مجاز لیباریٹری سے تصدیق ہوئے بغیر محض شک کی بنیاد پر کسی شخص کی روزی روٹی چھین لینا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بتا دیں کہ باغپت ضلع میں 18 اکتوبر 2024 کو پولیس نے عرضی گزار کی گاڑی کو محض شک کی بنیاد پر ضبط کر لیا تھا۔ اس وقت پولیس نے کہا تھا کہ گاڑی میں ممنوعہ گوشت لے جایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ نے 16 جون 2025 کو گاڑی کو ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ عرضی گزار محمد چاند نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔
عرضی گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ ویٹنری ڈاکٹر کی رپورٹ میں گائے کا گوشت ہونے کی کوئی یقینی تصدیق نہیں کی گئی تھی، بلکہ اسے صرف مشکوک بتایا گیا تھا۔ عدالت نے ’اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون 1955‘ کی دفعہ 5-اے (6) کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت کارروائی شروع کرنے کے لیے مجاز لیباریٹری کی رپورٹ ضروری ہے۔ چونکہ اس معاملے میں لیباریٹری کی کوئی پختہ رپورٹ دستیاب نہیں تھی اس لئے ضبطی کی پوری کارروائی غیرقانونی ہے۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ عرضی گزار کی گاڑی اس کا واحد ذریعہ معاش تھی۔ گزشتہ 18 ماہ سے گاڑی غیر قانونی طور سے بند رہنے کی وجہ سے اسے مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ضلع مجسٹریٹ اور ڈویزنل کمشنر کے احکامات کو منسوخ کر دیا اور 7 دنوں کے اندر عرضی ؑگزار کو 2 لاکھ روپئے کا ہرجانہ دینے کا حکم دیا۔ حالانکہ عدالت نے حکومت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ وہ ہرجانے کی رقم متعلقہ جوابدہ افسران سے وصول کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ عرضی گزار کی گاڑی کو 3 دنوں کے اندر ریلیز کیا جائے۔