امریکی صدر کی توہین آمیز لفاظیوں کے بعد، مذاکرات خطرناک موڑ میں داخل، ایرانی مذاکرات کار ٹیم احتجاجا اپنی رہائشگاہ واپس
6
M.U.H
21/06/2026
تہران: مذاکرات کار ٹیم کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں موجود ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات 80 منٹ کی بات چیت کے بعد ایک خطرناک موڑ میں داخل ہوگئے ہیں۔
ہمارے رپورٹر نے بتایا کہ امریکی صدر کے توہین آمیز بیان کے بعد ایرانی وفد مذاکرات کے ہال سے نکل آیا اور اپنی رہائشگاہ کی جانب چلا گیا۔
یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے شروع ہوتے ہی، امریکی صدر نے ایک ایکس پوسٹ جاری کرکے ایران اور ایرانی حکام کے خلاف ہرزہ سرائياں اور دھمکی آمیز باتوں کا اعادہ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین طے شدہ اسلام آباد سمجھوتے کے تحت دھمکی آمیز بیان اور لفاظیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ جنگ میں ناکامی اور مذاکرات میں پلڑا ہلکا پڑنے کے بعد امریکی صدر اپنی پرانی دھونس دھمکیوں کو دوہرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ایرانی مذاکرات کار ٹیم کے سربراہ اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو زبان سنبھال کر بات کرنے کو کہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایران، بیان بازیاں نہیں کرتا بلکہ میدان عمل میں اپنی طاقت دکھاتا ہے۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایران دباؤ میں آنے والا نہیں ہے۔