مسلمانوں کے بچوں کو پیٹ سے نکال کر ہلاک کیا جائیگا ‘ ہندو رکھشا دل لیڈر کا وحشیانہ بیان
27
M.U.H
21/06/2026
دہرہ دون: اترکھنڈ پولیس نے ہندو رکھشا دل کے لیڈر للت شرما کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جس نے مسلم برادری کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بچوں کو پیٹ چیر کر نکلا جائے گا اور ہلاک کردیا جائے گا ۔ بی جے پی لیڈر ونود کمار کے ساہس پور پولیس حدود میں قتل کے کچھ دن بعد یہاں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور بڑے پیمانے پر تشدد اور آگ زنی و سنگباری کے واقعات پیش آئے تھے ۔ کشیددہ صورتحال اور فرقہ وارانہ جھڑپوں کے دوران ہندو رکھشا دل لیڈر للت شرما نے پولیس سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ایک ہندو مارا جاتا ہے تو پولیس چار مسلمانوں کو ہلاک کرے ۔ للت شرما اور دوسرے ہندوتوا کارکنوں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوگیا تھا ۔ قتل معاملہ کے ملزم امتیاز کے مکان کو ایک بلڈوزر کی مدد سے مسمار کردیا گیا تھا ۔ بلڈوزر کی سمت اشارہ کرتے ہوئے للت شرما نے کہا کہ بلڈوزر مسلمانوں کیلئے ہے ہندووں کیلئے نہیں ۔ اس نے وحشیانہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پیٹ میں پلنے والے بچوں کو پیٹ چیر کر نکالیں گے اور انہیں ہلاک کردیں گے ۔ اس نے کہا کہ اترکھنڈ پولیس کو بھی اترپردیش پولیس بننے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہمارا ایک فرد مارا جاتا ہے تو ہم جواب میں ان کے چار کو ماریں گے ۔ ہم ان لوگوں کو بخشیں گے نہیں ۔ اترکھنڈ کے بجرنگ دل ورکر امن سویڈیا نے للت شرما کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک جنازہ ہمارے گھر پر آ رہا ہے ۔ ایک جنازہ ان کے بھی گھر جانا چاہئے ۔