نیٹ امتحان سینٹرپر برقع پہن کر پہنچی طالبہ کو روکا، یوجی سی کی گائیڈ لائن دکھانے کے بعد کلثوم کو ملی انٹری
6
M.U.H
21/06/2026
پورے ملک میں ہورہے نیٹ 2026 کے لئے آج دوبارہ ہونے والے امتحان سے متعلق راجستھان کے اجمیرشہرکے ایک مرکزپربرقع پہن کرآئی طالبہ کوانٹری دینے سے روکے جانے پرکافی دیرتک ہنگامہ ہوا۔ راجستھان کے ہی بیاور ضلع کی رہنے والی کلثوم نام کی طالبہ اجمیرشہرکے ساوتری علاقے میں واقع گورنمنٹ گرلزہائرسیکنڈری اسکول سنٹرپربرقع پہن کرامتحان دینے کے لئے پہنچی۔ برقع پہننے کی وجہ سے کلثوم کوانٹری دینے سے انکارکردیا گیا۔ حالانکہ کلثوم اوراس کے والدین انتظامیہ کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی ہدایات (گائیڈ لائن) دکھاتے رہے، اس کے باوجود اسے داخلہ نہیں دیا جا رہا تھا۔
قابل ذکرہے کہ اس دوران طالبہ کلثوم اوراس کے بزرگ والد محمد عارف کی سنٹرکے منتظم (ایڈمنسٹریٹر) اوروہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ طویل بحث ہوئی۔ سینٹرکے گیٹ پرموجود سیکورٹی اہلکارکلثوم کو برقع میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لئے بالکل بھی تیارنہیں تھے۔ اس کے بعد کلثوم نے انہیں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی ہدایات (گائیڈ لائن) دکھائیں، جس کے بعد وہاں موجود کئی دوسرے لوگوں نے مداخلت کی اور این ٹی اے کی ہدایات پرعمل کرنے کی گزارش کی، جس کے بعد کلثوم کو سینٹرمیں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔
نیٹ یوجی 2026 کے شفاف اورکامیاب انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل
اس سے قبل نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے نیٹ یوجی 2026 کے شفاف اورکامیاب انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ ایجنسی نے اپنے سرکاری سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پرمعلومات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 21 جون کو ہونے والے اس اہم امتحان کے لیے ملک بھر میں غیرمعمولی حفاظتی اور نگرانی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس سال 22 لاکھ سے زیادہ امیدوار امتحان میں شریک ہوں گے۔ این ٹی اے کے مطابق، امتحان بھارت کے 551 شہروں میں قائم 5,440 مراکزاوربیرون ملک 14 مراکزپرمنعقد کیا جائے گا۔ امتحان انگریزی سمیت 12 بھارتی زبانوں میں لیا جائے گا۔ ایجنسی کا مقصد تمام امیدواروں کو شفاف، محفوظ اورسہولتوں سے آراستہ امتحانی ماحول فراہم کرنا ہے۔
ڈیڑھ لاکھ کے قریب کیمروں سے براہ راست نگرانی
سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ملک بھر کے 95 ہزار سے زائد امتحانی کمروں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 560 کیمروں کے ذریعے قومی، ریاستی اور وزارتی سطح پر امتحانی سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کیمروں سے حاصل ہونے والی ریکارڈنگ کا مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیہ بھی کیا جائے گا تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری نظر رکھی جا سکے۔ امتحان میں نقل اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے 51 ہزار 311 جیمرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ انتظام الیکٹرانکس کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ این ٹی اے کے مطابق ہر امتحانی کمرے میں دو نگران موجود ہوں گے، جبکہ ہر مرکز پر دس سے زائد افسران اور عملہ تعینات کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 38 ہزار 795 تلاشی لینے والے اہلکار اور 48 ہزار 448 بایومیٹرک عملے کے ارکان بھی خدمات انجام دیں گے۔ اس مرتبہ چہرے کی تصدیق کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ امتحانی عمل کی نگرانی کے لیے تقریباً 6,700 مبصرین اور 100 سے زائد ورچوئل مبصرین تعینات کیے گئے ہیں۔
امتحانی مواد کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات
امتحانی مواد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس، نیم فوجی دستوں، بھارتی فضائیہ اور محکمہ ڈاک کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ این ٹی اے کے مطابق 20 جون کو ملک گیر فرضی مشق کے ذریعے تمام انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ امتحانی مراکز پر پینے کے پانی، او آر ایس، ایمبولینس، والدین کے لیے سایہ دار انتظار گاہ، ہر کمرے میں دیواری گھڑی اور اضافی رف شیٹس کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ امیدواروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہیں، این ٹی اے نے امیدواروں اوران کے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری معلومات پربھروسہ کریں۔ ایجنسی نے سوشل میڈیا پرپھیلنے والی پرچہ لیک اوردیگر افواہوں کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے ان سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی امتحان میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے اعتماد کے ساتھ امتحان دینے کا پیغام بھی دیا ہے۔