ایران کا مذاکراتی وفد سوئزر لینڈ روانہ، دورے کا مقصد مفاہمت پر علمدرآمد کا مطالبہ کرنا ہے: ترجمان وزارت خارجہ
4
M.U.H
20/06/2026
تہران: ایران کا مذاکراتی وفد سوئزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگیا ہے جہاں وہ فریق مقبل سے اعلان اسلام آباد پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔
یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکراتی وفد کی روانگی کے بارے میں اپنے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ "یہ دورہ دراصل فریق مقابل سے اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کا مطالبہ کرنے کی غرض سے انجام پارہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اعلان اسلام آباد میں واضح طور پر کہا گیا ہے جب تک پیراگراف 10،5،4،1 اور11 پرعملدآر شروع نہیں ہوجاتا ہے حتمی معاہدے کے حصول کے لیے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فریق مقابل سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کرنے کے غرض سے سوئزر لینڈ جارہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اعلان اسلام آباد بہت واضح ہے۔ اس کی شق نمبر 1 میں فریق مقابل کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی کا پابند بنایا گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مفاہمت کا پابند ہے اور فریق مقابل کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے اتحادیوں خاص طور سے صیہونی حکومت کو لبنان میں جنگ بند کرنے پر مجبور کرتا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا جو مفاہمت کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سمندری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شق پر عمل کیا گيا ہے لیکن اعلان اسلام آباد ایک مکمل پیکج ہے اور اگر اس کے کسی ایک حصے پر عمل نہیں کیا گيا تو پورا پیکج مشکل میں پڑجائے گا خاص طور سے شق نمبر ایک جو اس مفاہمت کی اہم ترین شق ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران اعلان اسلام آباد پر عملدرآمد کی غرض سے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا، ہم وعدے کی تکمیل کی صورت میں وعدے کی تکمیل کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریق مقابل کی جانب سے وعدہ خلاف کی صورت میں ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ایران کا مذاکراتی وفد اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالی باف قیادت میں سوئزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹر علی باقری کنی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، نائب وزیر پیٹرولیم حمید بورد،نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آباد اور ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی بھی ایران کے مذاکراتی وفد میں شامل ہیں۔