بقائی: لبنان پر حملہ ایران امریکا مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی ہے
7
M.U.H
20/06/2026
تہران :ترجمان دفتر خارجہ اسماعلی بقائی نے خبردار کیا ہے کہ فریق مقابل بلا تاخیر ضروری تدابیر اختیار کرے ورنہ پوری مفاہمتی یاد داشت مشکل میں پڑجائے گی
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سوال کے جواب میں کہ فریق مقابل کی جانب سے مفاہمت پر عمل درآمد کے بارے میں تہران کا نظریہ کیا ہے ؟ کہا کہ بالکل واضح ہے، پہلی شق پر جو اہم ترین ہے، یعنی لبنان سمیت سبھی محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وعدے کی پابندی کی ۔ فریق مقابل کا فریضہ تھا کہ اپنے اتحادیوں اور خاص طورپر صیہونی حکومت کو لبنان میں جنگ بند کرنے پر مجبورکرے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ فریق مقابل نے اس سلسلے میں اپنے عہد پرہرگز عمل نہیں کیا اور یہ مفاہمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فریق مقابل یعنی امریکا، جلد سے جلد اس سلسلے میں ضروری تدابیر اختیار کرے ورنہ پورا مفاہمت نامہ مشکل میں پڑجائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ بحری محاصرے کے خاتمے اور اسی طرح آبنائے ہرمزکھولے جانے پر عمل کیا گیا لیکن مفاہمتی یاد داشت ایک پیکیج ہے اور اگر اس کے ایک حصے پر عمل نہ ہوا تو پورا مفاہمت نامہ مشکل میں پڑجائے گا خاص طور اس لحاظ سے کہ مفاہمت کی پہلی شق اہم ترین شق ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایرانی وفد کے مجوزہ دورہ سوئزرلینڈ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایرانی وفد کا دورہ سوئزرلینڈ فریق مقابل کی جانب سے مفاہمت نامہ پر عمل درآمد کے جائزے کے لئے ہے اور ہم مفاہمت کی سبھی شقوں کے عملی نفاذ کو پرکھیں گے۔
انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس دورے کا مقصد مذاکرات کا دوسرا دور ہے، کہا کہ آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ سفر جمعے کو انجام پانا تھا اور اس کا مقصد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کرنا تھا لیکن اس پر دونوں ملکوں کے صدور کے آن لائن دستخط ہوگئے۔
اسماعیل بقائی نے دوبارہ وضاحت کی کہ اس سفر کا مقصد فریق مقابل کی جانب سے مفاہمت کی پابندی کی پیروی ہے۔ ہمیں فریق مقابل کی عہدشکنی کا تجربہ زیادہ ہے اس لئے ہمیں اصولی طور پر سنجیدگی اور استحکام کے ساتھ مفاہمت پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سفر فریق مقابل سے یہ مطالبہ کرنے کے لئے انجام دیا جارہا ہے کہ مفاہمت پر پوری طرح عمل کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حتمی سمجھوتے کے مذاکرات اس وقت شروع ہوں گے جب مفاہمتی یاد داشت کی شق 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہوجائے اور جاری رہے۔
اسماعیل بقائی نے اسلام آباد مفاہمت نامہ کی بعض شقوں پر فریق مقابل کی جانب سے عمل درآمد نہ ہونے پر ایران کے طرزعمل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اس مفاہمت نامہ پر اس لئے دستخط نہیں کئے ہیں کہ اس پر عمل نہ ہو۔ کئی ہفتے کے لگاتار مذاکرات ، ثالثین کی انتھک کوششوں اور ایران کے خلوص نیت اور سب سے بڑھ کر ملی یک جہتی اورطاقت کی پشت پناہی کے ساتھ اس پر دستخط ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس کے نفاذ کے لئے ہم کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے، پابندی ، پابندی کے مقابلے میں ہے یعنی اگر فریق مقابل نے پابندی نہیں کی تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس سلسلے میں ضروری تدابیر اختیار کرے گا۔