اسرائیل ایران کیساتھ ہونیوالے امن معاہدے کو سبوتاژ کرسکتا ہے: امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ
5
M.U.H
20/06/2026
امریکی انٹیلیجنس اداروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایران امن معاہدے کو سبوتاژ کرسکتا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایسے اقدامات کرسکتے ہیں، جو ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کی امریکی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ حکام کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے لیے داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ امن عمل کو متاثر کرنے والے فیصلے کرسکتے ہیں۔ انٹیلیجنس رپورٹس، جن میں رواں ہفتے گردش کرنے والی ایک رپورٹ بھی شامل ہے، کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ایک بنیادی نکتے یعنی تمام محاذوں پر جنگ بندی کے خلاف ہوگا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق نئی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال طے شدہ قومی انتخابات کے پیش نظر نیتن یاہو کی سیاسی بقاء اس بات سے جڑی ہے کہ وہ اپنے عوام کو دکھائیں کہ وہ لبنان سے فوجیں واپس نہیں بلائیں گے اور حزب اللہ کے خلاف لڑائی کو مزید تیز کریں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی شرائط سے ناخوش ہے، کیونکہ یہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کے اس کے وسیع تر مقصد کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف اس کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرسکتا ہے۔