بھگوان رام کے ’آشیرواد‘ سے اقتدار میں آئی بی جے پی اب رام کے ’شراپ‘ سے ہی حکومت سے باہر ہوگی: سنجے راؤت
6
M.U.H
21/06/2026
شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے رام مندر چندہ تنازعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت بھگوان رام کے ’آشیرواد‘ سے آئی ہے اور رام کے ’شراپ‘ سے ہی اقتدار سے باہر ہو جائے گی۔ سنجے راؤت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’میں نے دیکھا کہ عام آدمی پارٹی کے ہمارے ساتھی سنجے سنگھ نے ایک ضروری بات کہی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ جب بھگوان رام بنواس پر گئے تھے تو بھرت نے ان کی کھڑاؤں کی حفاظت کی تھی، لیکن بی جے پی کے لوگوں نے خود ہی بھگوان رام کی کھڑاؤں چرا لی ہیں۔‘‘
راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے کہا کہ ’’بی جے پی کی حکومت میں رام کا ہی وجود مٹا دیا گیا ہے، ان کی دان پیٹی سے پیسہ چوری کیا جا رہا ہے اور اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ رام مندر ٹرسٹ میں تقریباً 500 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ رام مندر سے سونا، چاندی اور چڑھاوے کے طور پر آئی تمام چیزوں کو غائب کر دیا گیا ہے۔ یہ حکومت بھگوان رام کے آشیرواد سے آئی ہے اور رام کے شراپ سے ہی جائے گی۔‘‘
سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ ’’ایس آئی ٹی کی تحقیقات سے کچھ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ جنہوں نے گھوٹالہ کیا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ بی جے پی کے لوگ ہیں۔ رپورٹ کو یہ لوگ دبا دیں گے، جس سے سچائی سامنے آنے والی نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں وزیر اعظم مودی اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ اس معاملے پر ایک لفظ بھی کیوں نہیں بول رہے ہیں؟ جبکہ رام مندر میں اتنے دنوں سے پیسہ چوری ہو رہا تھا۔ یہی لوگ کہتے تھے کہ پہلے کے حکمرانوں نے ہندوستان کے مندروں کو لوٹا تھا اب وہی کام یہ لوگ کر رہے ہیں لیکن حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئی ہے۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران سنجے راؤت نے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہیں ’غدار‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا استعمال وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو کمزور کرنے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی بدلنے والوں کے پاس کوئی نظریاتی بنیاد نہیں ہوتی اور وہ مکمل طور پر اپنے ذاتی مفاد سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا غداروں کا کبھی کوئی اسٹینڈ ہوتا ہے؟ ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑنے والے غدار ہیں۔ اگر اوم نمبالکر کو لگتا ہے کہ اس قدم کے لیے ان کے والد کی روح انہیں آشیرواد دے گی تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اب وہ انہیں لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہیں جن پر وہ سالوں سے الزمات عائد کرتے آ رہے تھے۔ یہ بے شرمی اور لالچ کی انتہا ہے۔‘‘
اپنی پارٹی کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے متعلق سنجے راؤت نے کہا کہ ’’غداروں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ اوم راجے نمبالکر ایک بدنام زمانہ غدار ہے۔ شیوسینا کو توڑنا مہاراشٹر کو توڑنے جیسا ہے۔ ادھو ٹھاکرے جانتے ہیں کہ اوم راجے کو سب سے پہلے 15 کروڑ روپے کس نے دیے تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دھاراشیو میں جو ترقی نظر آ رہی ہے وہ گزشتہ حکومتوں کے دور اقتدار میں ہوئی تھی۔ صرف چینی ملیں لگانے سے ترقی نہیں ہوتی بلکہ ترقی اجتماعی کوششوں سے ہوتی ہے۔ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کو لگتا ہے کہ 100 کروڑ روپے اپنی جیب میں ڈالنا ہی ترقی ہے تو یہ سوچ غلط ہے۔‘‘