آپریشن نصر کا آغاز؛ اسرائیل کے دو اہم فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا:سپاہ پاسداران انقلاب
32
M.U.H
08/06/2026
ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران سے مقبوضہ سرزمینوں کے جنوبی اور وسطی علاقوں کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں ابتدائی انتباہی سائرن فعال ہو گئے۔
ایران سے مقبوضہ سرزمینوں کے جنوبی اور وسطی علاقوں کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں ابتدائی انتباہی سائرن فعال ہو گئے۔
اس سے قبل سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ضاحیہ بیروت پر حملوں کے خلاف رامات ڈیوڈ ایئر بیس، کو سپاہ کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ جنوبی لبنان، بالخصوص صور، نبطیہ اور ضاحیہ بیروت میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی، شہریوں کے قتلِ عام اور بے دخلی کے ردِعمل میں یہ کارروائی انجام دی گئی۔
دوسری جانب صہیونی رژیم نے بھی ایران کے بعض اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ سرزمینوں میں صہیونی اہداف کے خلاف میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔
آپریشن نصر کا آغاز؛ اسرائیل کے دو اہم فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، سپاہ پاسداران انقلاب
سپاہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے آپریشن نصر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل کے دو اہم اور اسٹریٹجک فضائی اڈوں، نیواتیم اور تل نوف، کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
سپاہ پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر واقع ریڈار مراکز پر کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں انجام دی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن نصر پیر کی صبح شروع کیا گیا اور اسے 12 روزہ جنگ کے شہداء کے نام منسوب کیا گیا۔ بیان کے مطابق اس آپریشن کا رمز "یا حیدرِ کرّار" تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرو اسپیس فورس کے اہلکاروں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسرائیل کے دونوں اسٹریٹجک فضائی اڈوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام جنگی اور آپریشنل یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کی ممکنہ کارروائیوں کے مطابق وسیع تر جوابی آپریشنز کے منصوبے بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔
جنرل محبی: مقبوضہ علاقوں کا آسمان ایران کے میزائل نظام کے زیرِ کنٹرول ہے
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان اور معاون برائے تعلقاتِ عامہ جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ مقبوضہ علاقوں اور خطے کا آسمان ایران کے میزائل نظام کے عملی کنٹرول میں ہے۔