یمن نے بحیرۂ احمر میں اسرائیلی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی
35
M.U.H
08/06/2026
صیہونی مظالم کے جواب میں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے اعلان کیا ہے کہ بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے لیے ہر قسم کی بحری آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بیان کے اجراء کے بعد اسرائیل کی تمام بحری نقل و حرکت یمنی مسلح افواج کے لیے ایک فوجی ہدف تصور کی جائے گی۔ یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں محورِ مزاحمت کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت، نیز نئے مشرقِ وسطیٰ کے نام پر گریٹر اسرائیل کے صہیونی منصوبے کی مخالفت کے تناظر میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے یمن کے عوام اور لبنان، غزہ اور ایران سمیت محورِ مزاحمت کی اقوام پر عائد کیے گئے ظالمانہ اور مجرمانہ محاصرے کو توڑنے کی کوششوں کے تحت، اور مشترکہ محاذ و مشترکہ مزاحمت کے اصول کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے لبنان، ایران اور غزہ پر حملوں کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے مقبوضہ یافا (تل ابیب) کے علاقے میں حساس اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں، جو ان کے بقول کامیابی کے ساتھ اپنے اہداف تک پہنچے۔ انہوں نے زور دے کر کہا:
اول: بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے لیے ہر قسم کی بحری سرگرمی اور جہاز رانی مکمل طور پر ممنوع قرار دی جاتی ہے، اور اس اعلان کے بعد اسرائیل کی ہر نقل و حرکت یمنی افواج کے لیے ایک جائز فوجی ہدف ہوگی۔
دوم: اگر کشیدگی میں اضافہ کیا گیا تو اس کا جواب بھی اسی تناسب سے دیا جائے گا، بلکہ یمن اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لائے گا۔ ان کے مطابق یمنی فوجی آپریشنز جنگی حالات کے مطابق اور محورِ مزاحمت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں مسلسل وسعت اختیار کرتے رہیں گے۔
سوم: یمنی عوام اور امتِ مسلمہ کی آزاد اقوام کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے، اور وہ فلسطین، غزہ، ایران، لبنان، عراق اور یمن کے عوام پر مسلط محاصرے کے مقابلے میں خاموش نہیں رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن کی تمام کوششیں، اللہ کے حکم سے، ناکامی سے دوچار ہوں گی، اور جب تک جارحیت اور محاصرہ جاری رہے گا، یمنی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔