راجستھانَ: مساجد کا انہدام،ہندو مسلم متحد، سرحدی علاقوں میں امن مارچ حکومت سے کارروائی روکنے کا مطالبہ
23
M.U.H
29/06/2026
جیسلمیر: راجستھان کے سرحدی اضلاع میں پاکستان کی سرحد سے صفر سے پچاس کلومیٹر کے دائرے میں سرکاری زمین پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ہٹانے کے لیے جاری سرکاری مہم کے خلاف مقامی باشندوں میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ اور حکومت راجستھان کی ہدایت پر جاری اس کارروائی نے سرحدی علاقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی کے پیش نظر جیسلمیر میں سرو سماج سمنوئے کمیٹی کی جانب سے جمعرات کو سرو شانتی اور سدبھاؤ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مارچ میں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی اور حکومت کی جانب سے سرکاری زمین پر قائم مساجد۔ درگاہوں۔ مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اسی دوران ضلع باڑمیر کے صدر مقام پر بھی ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں۔ سماجی کارکنوں اور مقامی شہریوں نے مشترکہ طور پر حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ باڑمیر سے رکن پارلیمنٹ امیدا رام بینیوال اور بایتو سے رکن اسمبلی ہریش چودھری نے کہا کہ حکومت کی کارروائیوں کے باوجود علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مظاہرین نے ضلع کلکٹر چنمئی گوپال کو صدر جمہوریہ کے نام ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں انہدامی مہم فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یادداشت میں کہا گیا کہ حکومت سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل کرے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں سے گریز کرے۔احتجاجی جلوسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ شرکا کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ تھے جن پر انسانیت۔ بھائی چارے۔ مذہبی رواداری اور سماجی اتحاد کے حق میں نعرے درج تھے۔
سابق کابینی وزیر صالح محمد نے جمعہ کے روز مقامی لوگوں کے امن پسند رویے اور فرقہ وارانہ بھائی چارے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود مختلف برادریوں نے جس تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے وہ پورے ملک کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی خطہ ہمیشہ محبت۔ باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی علامت رہا ہے۔
جیسلمیر میں یہ مارچ سرو سماج سمنوئے کمیٹی کے کنوینر اشوک تنور کی قیادت میں مہاتما گاندھی کے مجسمے سے شروع ہوا اور ایک بڑے عوامی اجتماع پر اختتام پذیر ہوا جہاں متاثرہ لوگوں نے اپنے تحفظات پیش کیے۔ اشوک تنور نے حکومت پر الزام لگایا کہ انہدامی کارروائیوں میں امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور مختلف مذہبی مقامات کے لیے الگ الگ معیار اپنائے جا رہے ہیں۔
رکن پارلیمنٹ امیدا رام بینیوال نے کہا کہ سرحدی علاقوں کی تاریخی سماجی ہم آہنگی ہر قیمت پر برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقامی آبادی قومی سلامتی کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے لیکن تجاوزات ہٹانے کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی کارروائی سے پہلے متاثرہ افراد کو مناسب نوٹس دیا جائے اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔
انڈین اکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق تاہم مقامی رہائشیوں نے انہدامی کارروائی پر اعتراض کیا ہے۔ مولوی حسم خان نے کہا کہ متعلقہ مذہبی عمارت تقریباً دو سال قبل تعمیر کی گئی تھی جبکہ اس مقام پر 2009 سے ایک مدرسہ قائم ہے۔مولوی حسم خان کے مطابق جب مدرسہ قائم کیا گیا تھا اس وقت یہ زمین رہائشی آبادی کی زمین کے طور پر درج تھی اور جیسندھر گرام پنچایت کے دائرہ اختیار میں آتی تھی۔ بعد میں ملانا کو الگ گرام پنچایت بنا دیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مدرسے کے پاس گرام پنچایت کی جانب سے جاری کردہ لیز موجود ہے جبکہ گدرا روڈ پنچایت سمیتی نے بھی مدرسے کے لیے لیز منظور کی تھی۔مولوی حسم خان نے بتایا کہ اس وقت کے وزیر صالح محمد نے مدرسے کی عمارت کی تعمیر کے لیے پندرہ لاکھ روپے کی منظوری دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری رقم سے صرف مدرسے کی عمارت تعمیر کی گئی تھی مذہبی عمارت نہیں۔ مذہبی مقام کی تعمیر کے لیے عوام سے چندہ جمع کیا گیا تھا۔ یہ عوام کی محنت کی کمائی سے تعمیر کیا گیا تھا۔
اس انہدامی کارروائی پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ اشوک گہلوت نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں اس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان اور پاکستان کی بین الاقوامی سرحد سے ملحق اضلاع نے آزادی کے بعد سے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔گہلوت نے کہا کہ اس خطے میں ہندو اور مسلم عبادت گاہوں کا مقامی برادریاں یکساں احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے مقامی باشندوں نے فوج اور حکومت کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ ایسے علاقے میں صرف مرکزی حکومت کے کہنے پر کشیدگی اور مذہبی تقسیم پیدا کرنے کی غرض سے مساجد اور مدارس کو چن چن کر نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔گہلوت نے مزید دعویٰ کیا کہ ان میں سے بہت سے مذہبی مقامات آزادی سے بھی پہلے کے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی ہندو برادریوں نے بھی انہدامی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے اور کئی مقامات پر اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔کانگریس کے رہنما امیدا رام بینیوال اور صالح محمد نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقے کے امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔