ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس
17
M.U.H
29/06/2026
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی نے اپنے دورۂ مسقط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر عمان کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عبدالعزیز الہنائی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ غریب آبادی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق اور ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق کی روشنی میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام و انصرام پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کے مطابق اس یادداشت پر دستخط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ خلیج فارس سے بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عمان سے خلیج فارس تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے، بلا معاوضہ، صرف 60 روز کے لیے ضروری انتظامات کرے گا۔ اس شق میں مزید کہا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع کی جائے گی، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فنی اور عسکری رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ضرورت کے پیشِ نظر، یہ عمل 30 روز کے اندر مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔
یادداشت کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام و انصرام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے سلطنتِ عمان کے ساتھ قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق کی بنیاد پر مذاکرات کرے گا، جبکہ خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بھی اس حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت ایسے مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایران کو، بطور ساحلی ریاست، نظر انداز کرتے ہوئے کیے جانے والے فیصلوں کے ذریعے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی قابلِ قبول فریم ورک ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بصورتِ دیگر، متعین کردہ متوازی راستے کی معطلی ناگزیر ہوگی۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب فؤاد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے اور اس معاملے میں کوئی دوسرا ملک یا ادارہ ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: "میں تمام فریقوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام اور اس کی دوبارہ بحالی کے لیے ایران کی جانب سے اختیار کیے جانے والے انتظامات میں مداخلت نہ کریں اور دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی پابندی کریں۔
ادھر محمد باقر قالیباف کے دورۂ مسقط کے بعد سلطنتِ عمان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک محفوظ اور کھلی آبی گزرگاہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور اس آبنائے میں واقع اپنے علاقائی پانیوں پر اپنی خودمختاری اور حاکمانہ حقوق پر بھی زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اس موضوع پر اپنے مذاکرات کو دونوں وزارتِ خارجہ کے درمیان ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کے ذریعے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی جہاز رانی کے انتظام و انصرام، اس سلسلے میں فراہم کی جانے والی متعلقہ بحری خدمات، اور ان خدمات کے اخراجات کے تعین کے بارے میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق باہمی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔