ممبئی: حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید انیس الحسن زیدی کو سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر شہر کی علمی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد شریک رہی۔ شدید گرمی اور روزے کی حالت کے باوجود مومنین کی قابلِ ذکر تعداد نے تشییعِ جنازہ میں شرکت کر کے اپنے محبوب عالمِ دین اور خادمِ قوم و ملت سے والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔
تدفین کے موقع پر عمائدینِ شہر اور سرکردہ شخصیات کی موجودگی نے مرحوم کی علمی و سماجی خدمات کا اعتراف کیا۔ اس موقع پر
مسیب رضا مطلق (کونسلر جنرل آف ایرانین قونصلیٹ)،
رضا فاضل (کلچرل ڈائرکٹر)،
رضا علی بندہ علی (صدر خوجہ ٹرسٹ)،
غلام محمد لاکھانی جناب علی اکبر لاکھانی
محمد علی ناصر اور
زین ناصر سمیت متعدد معزز شخصیات شریک رہیں۔
علمائے کرام میں نمایاں طور پر
حجہ الاسلام والمسلمین احمد علی عابدی (امام جمعہ و جماعت ممبئی)،
حجہ الاسلام والمسلمین روح ظفر،
حجہ الاسلام والمسلمین محمد ذکی حسن نوری،
حجہ الاسلام والمسلمین شوکت عباس،
حجہ الاسلام والمسلمین غلام عسکری،
حجہ الاسلام والمسلمین تقی آغا،( حیدرآباد،)
حجہ الاسلام والمسلمین اختر عباس جون،( لکھنو)
حجہ الاسلام والمسلمین کمیل اصغر،( پونہ)
حجہ الاسلام والمسلمین فیاض باقر،
حجہ الاسلام والمسلمین عادل حسین زیدی، امام جماعت امامیہ مسجد
حجہ الاسلام والمسلمین قیصر استاد جامعہ امیر المومنین
حجہ الاسلام والمسلمین ذوالفقار، صاحب استاد جامعہ امیر المومنین
حجہ الاسلام والمسلمین فرمان موسوی،
حجہ الاسلام والمسلمین عزیز حیدر،
مولانا جناب وقار صاحب
مولانا جناز نیاز حیدر صاحب
مولانا جناب دعبل اصغر،
حجہ الاسلام والمسلمین محسن ناصری،
حجہ الاسلام والمسلمین مشہدی جلالپوری صاحب
حجہ الاسلام والمسلمین محمد تقی، امام جمعہ بجنور لکھنو
حجہ الاسلام والمسلمین عابد رضا رضوی کراروی،
حجہ الاسلام والمسلمین حسن رضا بنارسی،
سید غازی نقوی،
اور غلام مہدی مولائی سمیت دیگر ممتاز علماء و فضلاء موجود رہے۔
نمازِ جنازہ شہر کے بزرگ عالمِ دین حجۃ الاسلام والمسلمین حسین مہدی حسینی صاحب نے پڑھائی، جبکہ اس سے قبل ایک مختصر مگر پُراثر مجلس سے حجہ الاسلام والمسلمین جناب وصی حسن خان نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی علمی خدمات، تقویٰ، اخلاص اور قوم و ملت کے لیے ان کی شبانہ روز کاوشوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس طرح مصائب سید الشہداء علیہ السلام کو بیان کیا کہ سامعین کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔
موسم کی شدید تپش اور روزے کی حالت کے باوجود مومنین کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کر کے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ مرحوم ایک ہر دلعزیز، مخلص اور باکردار رہنما تھے۔ سوگواران نے رقت آمیز فضا میں انہیں آخری آرامگاہ تک پہنچایا اور ان کی بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عنایت کرے۔