انسان کو ہدایت چاہئے
اندھیرے میں روشنی چاہئے
ظلم وزیادتی میں انصاف اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات درکار ہے۔کیونکہ بندے آپس میں برابر ہیں کوئی انسان کسی دوسرے انسان پر( بجز تقوا) برتری رکھتا ہے نہ حق حکومت دوسری طرف دنیا کسی فردیا گروہ کے سنبھالے نہیں سنبھلتی آدمی کتنے ہی اونچے دعوے کرے مگر وہ نہ ساری انسانی برادری کے لئے جامع قانون بنانے کی حیثیت رکھتاہے نہ ہی اس کے نفاذ کی قوت و توانائی کا حامل ہے ۔کائنات کا ضمیر عقل سلیم اور مشاہدات و تجربات کسی اور ہی سمت میں کاروان انسانیت کی رہنمائی کرتے ہیں اور وہ رہنمائی ایک خاص بشر کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف بلاتی ہے ۔وہ خاص کوئی اور نہیں نمائندہ خدا زمیں پر اس کا خلیفہ اور تھکے ماندے ہوئے انسانوں کا ھادی و رہنما ہے جسے اہل اسلام مہدی منتظر اور قدیم دین ودھرم کے ماننے والے نجات دہندہ مصلح عالم یا ریفارمر کے ناموں سے یاد کرتے رہے ہیں ۔
مکتب اہل بیت میں امام مہدی
اور مکتب اہل بیت علیہم السلام میں اس الھی ہادی برحق کی تصویر صاف وشفاف شجرہ گویا اور اس کے آنے کا وعدہ پکا ہے ۔ جس میں کبھی کوئی شک و شبہ نہیں رہا ہے یہاں تک کہ یہی نبض عالم پر نظر رکھنے والے اور اس کی ڈوبتی ہوئی نبض کے معالجہ پر بفضل خدا وہ پوری قدرت وطاقت رکھنے والے ہیں یہی امن عالم کے امین اندھیرے سے روشنی میں لانے والے بشریت کو جہل وتاریکی سے باہر نکالنے والے عدل و انصاف دینے والے اور راہ خدا پر چلانے بندہ کو بندے کی غلامی سے رہائی دلانے والے ہیں جو نام میں آخری نبی کےہمنام وہم کنیت ہوں گےاور تاریخ اسلام میں مہدی قائم حجت بقیۃ اللہ منتظر وغیرہ کے القابات سے جانے پہچانے جاتے ہیں مگر آپ کے آنے کا وقت اللہ تعالیٰ کےعلم خاص میں ہے یہ ایک ایساغیب ہےجس کا علم فقط پروردگار عالم کو ہی ہے۔
جاۓ ظہور
آپ کے ظہور کی جگہ مکہ مکرمہ ہے جہاں آپ دیوار کعبہ سے ٹیک لگائے ہوئے اعلان فرمائیں گے۔
بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مؤمنین۔۔۔
اور ٣١٣ سپاہی آگے بڑھیں گے اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں گے وہاں سےآپ مدینہ اور مدینہ سے قدس شریف یعنی فلسطین کی طرف بڑھیں گے اور فتح فلسطین کے بعد شہر کوفہ کو اپنا مرکز حکومت قرار دیں گے جو صدر اسلام میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا دارالخلافہ رہ چکا ہے۔چنانچہ آپ وہاں آئیں گے اور اسی کو اپنا دارالخلافہ بنائیں گے۔
بعد ظہور کامنظر
آپ کی لڑائی وقت کےدجال و سفیانی اور اس کے کور دل ساتھیوں سے ہوگی یہ حق و باطل نور وظلمت توحید وشرک کی آخری فیصلہ کن لڑائی ہوگی جس میں امام برحق حضرت حجت بن الحسن العسکری کو فتح نصیب ہوگی اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتریں گےاور آپ کی امامت میں نماز آدا فرمائیں گے۔پورے عالم میں اسلام کی حکومت قائم ہوگی۔ ( لیظھرہ علی الدین کلہ ) والی آیت قرآنی کی صداقت کھل کر سامنے آئے گی۔
دنیا کا نقشہ
علم کی ترقی ہوگی رفاہ عام ہوگا ہر فرد کو اس کا جائز حق ملے گا خدا ئے واحد کی عبادت ہوگی انبیاء کرام کی محنتیں رنگ لا ئیں گی ہر چہار سو خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی زمین اپنے خزانے اگل دیگی لوگوں میں سمجھ بڑھ جائے گی اخوت وبھائی چارہ کو فروغ ملے گا سائنس و ٹکنالوجی کاعروج ہوگا کوئی کسی کو ستائےگا نہ پریشان کرے گا۔ کیونکہ ان سب کی بنیاد جہل ومفاد پرستی ہے حالانکہ اس وقت جہل کی جگہ علم مفاد پرستی کی جگہ خدا پرستی کا بول بالا ہوگا۔یہی وہ موقع ہے جب لوگ خود کو پہچانیں گے اوراپنی روحانی ترقی میں کوشاں ہوکر دنیا وی خرافات سے بیزار ہوں گے ۔
ولادت پر اتفاق
شیعہ مکتبہ فکراور بعض سنی علماء کے خیال کےمطابق امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف آج سے تقریباً گیارہ سونوے سال پہلے خاندان نبوت کے چشم و چراغ( رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی حدیث الائمہ اثنا عشر من بعدی۔۔ بتاتی ہے کہ بعد رسول اسلام بارہ امام ہوں گے جو کل کے کل قریش اور حضرت فاطمہ زہرا کی نسل پاک سے ہوں گے کہ اہل سنت نے بھی جابر ابن سمرہ ودیگران سے مختلف تعبیرات کے ذریعہ اس قسم کی حدیثیں اپنی کتب حدیث میں درج کی ہیں۔
دیکھو ترمزی سنن ابی داود فرائد السمطین وغیرہ۔۔۔ )
حضرت امام حسن عسکری اورمحترمہ نرجس خاتون کی نسل پاک سے عراق شہر سامرا میں پیدا ہو چکے ہیں۔
(دیکھو مطالب السؤل محمد بن طلحہ شافعی اور مناقب الائمہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ۔)
چنانچہ آپ پندرہ شعبان المعظم سن ٢٥٥ھ کو سحر کے وقت پیدا ہوئے اور بحکمت خدا بنی عباس ودیگر جابروظالم حکمرانوں کے ظلم وتشدد سے دور آج بھی پردہ غیب میں زندہ ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت سے عالم کو فیض پہنچا رہے ہیں ۔
ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں
خضر وقت از خلوت دشت حجاز آید برون
کاروان زین وادی دور و دراز آید برون
طرح نو می افکند اندر ضمیر کائنات
نالہ ھا کز سینہ ای اھل نیاز آید برون
یعنی
سرزمین حجاز سے وقت کا ھادی آنے والا ہے اسی دورو دراز وادی سے قافلہ پھر آےگا جو دنیا کا نقشہ بدلنے والا ہے۔چنانچہ آج دنیا کاہر مومن اس فجرظہور کی آس لگائے بیٹھاہواہے ۔