ہدیہ بہ روح بلند رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ایؒ
شہید کا حق
تمام وہ افراد جنہوں نے کسی بھی طرح انسانیت کی خدمت کی ہے چاہے وہ جس طرح کی خدمت ہو انکا انسانیت پر کوئی نہ کوئی حق ضرور ہے لیکن چونکہ شہید کی خدمت دیگر تمام خدمات کے مقابلے میں سب سے بڑی ہے لہٰذا اس کا حق بھی سب سے بڑا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے سلسلہ میں لوگوں کا
رد عمل اور ان کے تئیں لوگوں کا مخلصانہ رویہ دوسرےتمام افراد اور جماعتوں کے مقابلے میں سب سے منفرد ہوتا ہے۔
اب یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیوں اور کس دلیل کی روشنی میں شہداء کا حق دوسرے تمام خدمت گذاروں سے زیادہ ہے ؟
ظاہر ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ دوسرے تمام خدمت کرنے والے بھی شہداء کے خون کے مرہون منت ہیں جب کہ شہداء ان کی خدمات کے بالکل مرہون منت نہیں ہیں یا ہیں بھی تو بہت کم۔
عالم کو اپنے علم، فلسفی کو اپنے فلسفہ، موجد کو اپنی ایجادات استاد کو اپنے اخلاق اور اپنی تعلیمات سے بہرہ مند کرنے کے لئے ایک سازگار اور آزاد ماحول کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کھل کر اپنی خدمات کو انجام دے سکیں جب کہ شہید اپنے ایثار ؛ فدا کاری اور قربانی کے ذریعہ دوسروں کے لئے اس ان شمار کی انجام دہی کےلئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
شہید کی مثال شمع جیسی ہے جو خود اپنے کو
جلا کر فنا کر دیتی ہے وہ اپنے وجود کو قربان کر کے دوسروں کو روشنی پہنچاتی ہے اور دوسرے افراد اسکی روشنی سے بہرہ مند ہوکر راحت و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی خدمات سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں یقیناً شہدا انسانیت کے قافلہ کی شمع ہیں جو خود قربان ہو گئے لیکن انسانیت کی محفل کو آباد کر گئے اگر یہ محفل تاریک اور ویران رہ جاتی تو کوئی بھی سسٹم یا جماعت اپنے امور کو انجام نہیں دے سکتی تھی انسانی جماعت کے مختلف شعبوں کا یہ اطمینان شہداء کے خون اور ان کی قربانی کے نتیجہ میں فراہم ہوتا ہے۔
شہادت کامیابی ہے
انیس رمضان کی صبح جب امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے فرق مبارک پہ دشمن کی تلوار لگی اور آپ کا سر مبارک دو پارہ ہو گیا تو سب سے پہلا یا دوسرا جملہ جو آپ کی زبان مبارک پر آیا وہ
"فزت ورب الکعبہ" تھا۔ ۔یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔
خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں شہادت خود شہید کے اعتبار سے ایک کامیابی بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے یہ شہید کی تمنا بلکہ بہت بڑی تمنا ہوتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ خد اکے نزدیک تمہارا جو بلند مرتبہ ہے وہ شہادت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت آپ کے لئے ایک ارتقائی مرحلہ ہے جو کمال کی سب سے آخری حد ہے۔
سید ابن طاؤوس کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں عزاداری کا حکم نہ دیا گیا ہوتا تو میں ائمہ معصومین کی شہادت کے دن جش منعقد کرتا۔
( واضح رہے سید ابن طاؤوس کا یہ بیان شہادت کے بلند درجہ کو بیان کرنے کے لئے ہے اور شاید اسی لئے ان تاریخوں میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے مصائب سے پہلے ان کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں جب کہ ان کی شہادت یعنی دنیا سے ان کی رحلت عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کے لئے درد و الم کا پیغام ہےیہی وجہ ہے کہ عزاداری کا حکم دیا گیا ہے )
۲۔ شہید کا ولولہ اور اس کا ہمیشہ باقی رہنا
شہید کا جوش و ولولہ
شہید انقلاب اور ولولہ برپا کردیتا ہے شہید کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی انقلاب آفرینی ہے جب کسی قوم میں جوش و ولولہ خاص طور سے خدا کی راہ میں ہر طرح کی تحریک تحرک ختم اور زندگی کے آثار گم ہونے لگیں تو اس قوم نئی روح پھونکنے اور اسے بیدار کرنے کے لئے شہید کا خون ہی درکار ہوتا ہے اسی لئے اسلام کو ہمیشہ شہید کی ضرورت رہتی ہے تاکہ نئے نئے انقلابات اور نئی نئی تحریکیں پیدا ہوکر قوموں کے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتی رہیں۔
شہید کا ہمیشہ باقی رہنا
کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی فکر ونظر کو قدر و قیمت عطا کرتے ہیں اور اسے ہمیشہ باقی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ عالم اور فلسفی ہوتے ہیں اور کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے فن اور ہنر کو آگے بڑھا کر اسے ہمیشہ باقی رکھنا چاہتے ہیں یہ فنکار اور ہنر مند ہوتے ہیں۔
کسی کسی کو حکمت عملی اور اپنی ہدایات کو فروغ دینے کی فکر ہوتی ہے لیکن ان سب کے درمیان شہید اپنے خون کے ذریعہ پورے عالم ہستی کو قدر و قیمت اور ہمیشگی عطا کرتا ہے شہید کا خون ہمیشہ سماج کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے۔
غرض کہ دنیا کے تمام افراد یا جماعتیں اپنے کسی ایک حصہ کے دائرۂ وجود کے صرف کسی ایک حصہ کو باقی رکھنے کی تدبیر کرتی ہیں لیکن شہید اپنے پورے دائرۂ وجود کو ہمیشگی عطا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے "فوق کل ذی بر بر حتی یقتل فی سبیل اللہ واذاقتل فی سبیل اللہ فلیس فوقہ بر"۔ ہر نیکی سے بڑی کوئی نہ کوئی نیکی ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان راہ خدا میں قتل ہوجائے جب وہ قتل ہوجاتا ہے تو اس سے بڑی کوئی اور نیکی نہیں ہوتی۔
ایک عالم ہی ہے جو علم کے ذریعہ سماج کی خدمت کرتا ہے وہ حقیقت میں علم کے راستے سے اپنے فرد ہونے کے دائرہ سے باہر آکر سماج کا حصہ بن جاتا ہے اس کی ذاتی شخصیت علم کے ذریعہ سماج کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتی ہے جس طرح قطرہ دریا کے ساتھ مل کر اس کا حصہ بن جاتا ہے اور پھردونوں ایک ہو جاتے ہیں عالم حقیقت میں اپنی شخصیت کے ایک حصے یعنی فکر و نظر کو سماج سے جوڑ کر اسے دوام عطا کردیتا ہے۔ اور پھر اگر وہ شہید بھی ہوجائے تو اپنے وجود کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیتا ہے علم و شہادت کا یہ حسین امتزاج نہ اس کی فکر کو مٹنے دیتا ہے اور اسے موت سے دو چار کرسکتا ہے
۳۔ شہید کا منطقی طرز فکر
شہید یعنی اس شخص کا منطقی طرز تفکر جو اپنے سماج اور معاشرہ کو پیغام دینا چاہتا ہے اور یہ پیغام اپنے خون کے علاوہ کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں دیا جا سکتا جسےصرف خون کی روشنائی سے ہی لکھا جا سکتا ہے۔
دنیا میں ہر شخص اور ہر جماعت کا کوئی نہ کوئی منطق یعنی اس کا کوئی نہ کوئی خاص طرز تفکر ہوتا ہے ہر شخص کے اپنے کچھ خاص معیار اور پیمانے ہوتے ہیں اور وہ انہیں معیاروں کے مطابق طے کرتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے۔
شہید کا اپنا خاص منطقی طرز تفکر ہوتا ہے
اس کی اپنی منطق یا اس کے خاص طرز تفکر کو دوسرے عام افراد منطق میں یا ان کے طرز تفکر میں نہیں تولا جا سکتا اس کی منطق اور اس کا طرز تفکر سب سے بلند ہوتا ہے اس کی منطق میں ایک طرف عشق و محبت پایا جاتا ہے اور دوسرئی طرف سماج اصلاح کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے یعنی دو منطقوں کو اگر آپس میں ملا دیا جائے تو ایک سماج کی بہتری کے لئے دل سوز عاشق کی منطق ہے اور دوسری طرف ایک صاحب معرفت عاشق جسے اپنے پروردگار سے ملاقات کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آتا ہو۔
دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایک عاشق کے عشق و محبت کی منطق کو ایک مصلح کی منطق میں ملاکر دیکھا جائے تو ان دونوں کے مجموعہ سے شہید کی منطق اور اس کاطرز تفکر وجود میں آتا ہے البتہ شاید ہماری یہ عبارت اس خاص طرز تفکر اور منطق کو سمجھانے کے لئے ناکافی ہو۔
شہید کی منطق سب سے منفرد اور الگ ہے اس کی منطق خود کو جلاکر (قربان کرکے)دنیا کو روشن اور منور کرنے کی منطق ہوتی ہے شہید کی منطق سماج کی بقا کے لئے خو د کو اس میں مٹا دینے کی منطق ہوتی ہے اس کی منطق انسانی اقدار کو زندہ کرنے کے لئے اس کے مردہ جسم میں نئی روح پھونک دینے کی منطق ہوتی ہے اس کی منطق سماج میں انقلاب پیدا کرنے کی منطق ہوتی ہے اس کی منطق دوراندیشی بلکہ بہت ہی زیادہ دور اندیشی کی منطق ہوتی ہے۔
لفظ شہید پر جو تقدس کا احاطہ ہے اور یہ لفظ اس طرح کے دیگر تمام مقدس الفاظ کے درمیان سب سے نمایاں سمجھا جاتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ تمام دنیا کے سب سے نمایاں افراد میں بھی سب سے نمایاں ہے وہ تمام مصلح افراد سے بڑا مصلح ہے یا اس طرح کی جو بھی عبارتیں ہم شہید کے بارے میں استعمال کریں شہید ان سب سب سے بہت بڑا ہوتا ہے۔
شہید شہید ہے کوئی بھی لفظ اس لفظ کی جگہ پر استعمال نہیں ہوتا اور استعمال ہو بھی نہیں سکتا۔
شہید کی منطق ایک طرف عشق الٰہی کی منطق ہے اور دوسری طرف ایک سماجی مصلح کی منطق۔
اگر مصلح اور صاحب عرفان کی منطق کو ایک ساتھ ملا دیا جائے اوران دونوں میں سے کوئی ایک انسان وجود کی شکل اختیار کر لے تو وہ شہید کہلاتا ہے اس طرح مسلم ابن عوسجہ پیدا ہوتے ہیں حبیب ابن مظاہر وجود میں آتے ہیں زہیر قین پیدا ہوتے ہیں البتہ تمام شہداء کا بھی مرتبہ برابر نہیں ہوتا۔اور ان کے مراتب اور درجات میں بھی فرق پایا جاتا ہے