علم و بصیرت کے امین:آیت اللہ سیدمجتبی خامنہ ای دام ظلہ
8
M.U.H
09/03/2026
0 0
تحریر:مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
تاریخِ اقوام میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں ہوتی بلکہ ایک فکری روایت اور ایک عہد کی نمائندگی بن جاتی ہے۔ وہ شہرت کے ہنگاموں میں نہیں ابھرتیں بلکہ علم، کردار اور خدمت کی خاموش روشنی میں پروان چڑھتی ہیں۔ جب زمانہ آزمائش کے دور سے گزرتا ہے تو یہی شخصیات قوموں کے لیے امید، استحکام اور رہنمائی کا مرکز بن جاتی ہیں۔
آیۃ اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای دام ظلہ بھی اسی سلسلۂ فکر و قیادت کی ایک نمایاں کڑی ہیں۔
ان کی پرورش ایک ایسے خانوادے میں ہوئی جس کی بنیاد علم، تقویٰ اور خدمتِ دین و انسانیت اور ایثار و قربانی کی بلندترین منازل پر قائم تھی۔ ان کے والد شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای طاب ثراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عظیم رہبر اور امتِ مسلمہ کے ایک مدبر قائد تھے، جبکہ ان کے جد آیت اللہ سید جواد حسینی خامنہ ای اپنے زمانے کے جید عالم اور صاحبِ زہد شخصیت تھے۔ اس گھر کی فضا قرآن، حدیث اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی محبت سے معمور تھی۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کی فکری اور روحانی تربیت کی بنیاد رکھی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے حوزۂ علمیہ کا راستہ اختیار کیا اور قم و مشہد کے علمی مراکز میں فقہ، اصول، تفسیر اور حدیث کے دروس میں شرکت کی۔ مسلسل مطالعہ، علمی مباحث اور اکابر اساتذہ کی صحبت نے ان کے علمی ذوق کو پختگی عطا کی۔ برسوں کی محنت اور تدریس کے بعد وہ خود بھی حوزۂ علمیہ میں درسِ خارج کے حلقوں سے وابستہ رہے اور طلابِ علومِ دینیہ کو فقہی و اصولی مباحث میں رہنمائی دیتے آئے ہیں۔ اس طرح ان کی شخصیت محض ایک صاحب علم نہیں بلکہ ایک استاد اور فکری مربی کے طور پر بھی نمایاں ہوئی۔
ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو سادگی اور کم نمائی ہے۔ ان کی طرزِ زندگی بے انتہا سادہ ہے اور وہ نمود و نمائش سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ حوزۂ علمیہ کے حلقوں میں ان کا تعلق زیادہ تر علمی سرگرمیوں، طلاب کی تربیت اور فکری مباحث سے رہا ہے۔ سادگی، سنجیدگی، کم گوئی اور کردار کی شفافیت ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف ہیں۔
سیاسی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور انہوں نے اپنے والد شہید رہبر کی قربت میں سیکھا۔ برسوں تک انہوں نے اس عظیم شخصیت کو قریب سے دیکھا جو علم، حکمت اور استقامت کے ساتھ امت کی رہنمائی کرتی رہی۔ اسی تربیت نے ان کے اندر عالمی مسائل کی گہری آگاہی، امتِ مسلمہ کے درد کا احساس اور سیاست میں پاکیزگی و دیانت کا شعور پیدا کیا۔
آج جب شہید رہبر کی مظلومانہ شہادت کے بعد ایران اور عالمِ اسلام ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا تھا، اس وقت مجلسِ خبرگانِ رہبری نے طویل غور و فکر، سنجیدہ مشاورت اور حالاتِ حاضرہ کے گہرے ادراک کے ساتھ آپ کو ایران کا سپریم لیڈر اور رہبرِ جہانِ اسلام منتخب کیا۔
یہ انتخاب محض ایک رسمی یا سیاسی فیصلہ نہ ہے، بلکہ درحقیقت علم و فقاہت، فکری بصیرت، عالمی حالات پر گہری نگاہ، سادہ و پاکیزہ طرزِ زندگی اور باوقار و شفاف کردار پر اعتماد کا ایک تاریخی مظہر ہے، الحمدللہ یوں امتِ مسلمہ نے ایک ایسی شخصیت کی طرف رجوع ہوئی ہے جس کے اندر علم کی پختگی، قیادت کی سنجیدگی اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت یکجا نظر آتی ہے۔
علمی آگاہی، عالمی مسائل پر مکمل نگاہ، شفاف سیاست اور مضبوط کردار نے ان کی شخصیت کو عصرِ حاضر میں ایک مؤثر اور موزوں قیادت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی حقیقی قیادت وہی افراد انجام دیتے ہیں جن کے ہاتھ علم سے روشن، دل ایمان سے مضبوط اور کردار اخلاص سے معمور ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس مردِ علم و بصیرت کو صحت و عافیت، امنیت اور طولِ عمر عطا فرمائے، ان کی رہبری و قیادت کو امتِ مسلمہ کے لیے استحکام، عزت اور ہدایت کا سرچشمہ قرار دے، ان کے علم، تدبر اور حکمت کو اسلام و مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت میں مزید مؤثر بنائے اور انہیں حق و عدالت کے اس عظیم منصبِ قیادت کو اخلاص و استقامت کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔