ماہ مبارک رمضان کے روز وشب تیزی کے ساتھ گزر رہے ہیں اور مسلمانان عالم اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں بازار سجے ہیں خریداروں کی رونق ہےہر طرف گہما گہمی ہے ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا امن و امان کا گہوارہ ہے اور دنیا میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آرہا ہے
لیکن یہ حقیقت ہے کہ انھیں ایام میں دنیا کے ایک گوشہ جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول اورمسجد اقصیٰ کم و بیش 75 برسوں سے اپنے غصب کئے جانے کی عبرتناک کہانی سنارہا ہے اور اب ٧٠ہزار سے زیادہ بے گناہوں کے دردناک قتل عام پر خون کے آنسو بہانے والے مخلص مرد مجاہد اور ان کی قوم پر یلغار ہے
رہبر شہید نے اپنے حسن تدبیر سے ظالم کو اس کی رسوائیوں کی آخری حد تک پہونچا کر اپنے فریضے کو ادا ردیا اور اس راہ میں جام شہادت نوش فرماکر غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کے خلاف تحریک میں نئی روح پھونک دی
جس غاصب اسرائیل نے ہزاروں مظلوم اور نہتھے لوگوں کا سرعام قتل عام کیا جن میں ایک بڑی تعداد عورتوں اور بچوں بوڑھوں اور ضعیفوں یہاں تک کہ ان شہید ہونے والوں میں وہ بے سہارا افراد بھی شامل تھے جو اپنی پیرانہ سالی کی بنا پر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے اس ظالم خونخوار نےاسپتالوں میں بھرتی مریض اور بچوں کو جنم دیتی ہوئی خواتین کو بھی بموں کا نشانہ بنایا اور اب ایک بار پھر اپنے ظالم آقا امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بہادر قوم پر حاملہ آور ہے اس کے جارہانہ اقدام اور درندگی کا سب سے بڑا ثبوت رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اوران کے اہل خانہ نیز اسکول کی معصوم بچیوں کے کو نشانہ بناکر اپنے علم کی داستان کا آخری ورق لکھ دیا اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے
سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون
موجودہ دور میں ہماری آنکھوں کے سامنے اتنی بڑی تعداد میں نہتھے بے گناہوں پر یلغار اور رہبر معظم کی شہادت کیا اتنا غیر معمولی ظلم ہے کہ ہماری خوشیوں کے کان پر جوں بھی نہ رینگے
افسوس اس بات کا ہے کہ امریکہ اور خاص طور اسرائیل کے ظلم کی حمایت میں بعض مردہ ضمیر حکمران اپنا کر گئے ہیں کہ اپنی رعایا کو بھی اتنا بے بس کردیا ہے کہ وہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت میں احتجاج کریں تو ان کے ساتھ مجرموں جیسا برتاؤ کیا جانے لگے
آج بیدار ضمیر اقوام عالم فلسطین اور غزہ جیسے مظلوموں کی بے بسی کے ساتھ اپنی بے بسی پر آنسو بہانے پر مجبور ہیں
لعنت ہو ان لوگوں پر جو ظلم کرنے والے ہیں لعنت ہو ان لوگوں پر جو ظلم کی داستان الم سن کر اس پر راضی رہیں
ظلم کتنی بھی انتہا پر ہو آخر اسے تھک کر ہارنا ہی پڑتا ہے اور صبر اپنی فتح و کامرانی کا لوہا منوا ہی لیتا ہےصبر کا خاموش احتجاج ظلم کے منہ پر ایسا زور دار طمانچہ لگاتا ہے کہ ظلم اپنی بے چینی چاہ کر بھی نہیں چھپاپاتا
جیسا کہ حالیہ جنگ میں ظالموں کی بوکھلاہٹ چاہ کر بھی نہیں چھپا پا رہا ہے
مظلوموں کی آہیں رنگ لاتی ہیں گزشتہ برس غزہ پر بربریت کرنے والوں کے ایوان لرز رہے ہیں جمعۃ الوداع کے دن جسے رہبر کبیر انقلاب امام خمینی نے روز بیت المقدس کے طور پر منانے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ آج پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور آزاد ضمیر افراد مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے بیت المقدس کی آزادی کی آواز بلند کرتے ہیں
آئیے ہم بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کریں
انشاء اللہ
ظلم کے بادل چھٹیں گے ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملے گی مسجد اقصیٰ اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی آزادی کے ساتھ خانہ کعبہ بھی سعودی منافقوں کے چنگل سے آزاد ہوگا اور امن و امان کی ایسی صبح نمودار ہوکر رہے گی جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہو
بساط ظلم الٹ کر رہے گی دنیا سے
فضا ئے امن کا پیغام آ نے والا ہے
جگہ ملےگی نہ ظالم کومنہ چھپانےکی
ستم کا آ خر ی ا نجا م أ نے و ا لا ہے