حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مہر کے بارے میں مختلف مضامین کی کئی روایات موجود ہیں۔ جو ایک طرف آیات اور روایات اہل بیت (ع) کی روشنی میں یہ ثابت کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (س) قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گی اور دوسری طرف کچھ روایات ہیں جو حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شفاعت کو ان کے مہر سے مربوط کرتی ہیں۔ بعض دیگر روایات کے مطابق، آپ کا مہرچاندی کی ایک خاص مقدار ہے۔
ان روایات میں موجود اختلاف کو حل کرتے ہوئے شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دو قسم کے مہر تھے: ایک مادی مہر جو صاحبان ایمان کے لیے نمونہ عمل ہو، اور دوسرا معنوی مہرجس کی خود حضرت فاطمہ (س) نے خداوند عالم کی بارگاہ سے درخواست فرمائی ۔ اسلام میں نکاح کی شرائط میں سے ایک اہم شرط مہرکی مقدار کو معین کرنا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اسلامی احکام کو لانے اور ان پر سب سے پہلے عمل کرنے والی شخصیت تھے، جب اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نکاح حضرت علی (ع) سے کیا تو انہوں نے اپنے ہونے والے داماد حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: کیا اس شادی کے لیے تمہارے پاس کچھ جمع پونجی ہے؟ حضرت علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : آپ میرے حال سے بخوبی واقف ہیں۔ میری تمام تر جمع پونجی میری تلوار، زرہ اور پانی لانے والی اونٹنی ہے۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: تلوار تو تمہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے درکار ہے؛ اونٹنی بھی روزمرہ کے کاموں اور گزارے کے لیے چاہیے؛ لیکن یہ زرہ بیچ دو اور اس کے پیسے میرے پاس لے آؤ۔ علی (ع) نے وہ زرہ چار سو درہم چارسو اسی درہم یا پانچ سو درہم میں فروخت کی اور رقم اپنی زوجہ کے مہر کے طور پر رسول اللہ (ص) کے پاس لائے تاکہ وہ ان کی شادی پر خرچ کریں۔ اس طرح دنیا کی سب سے بہترین خاتون کا مہر معین ہوا جو قیامت تک کی تمام مسلمان لڑکیوں کے لیے بہترین نمونہ عمل ہے ۔ یہ رقم سنت قرار پائی
پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی بیٹی کی شادی انتہائی آسان اور سادگی کے ساتھ انجام دی تاکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے جو ازدواجی زندگی کے آغاز میں ہوں ، ایک بہترین نمونہ باقی رہ جائے۔
بعض روایات میں حضرت زہرا (س) کے مہرکے طور پر "پانی" اور "بہشت کا ایک تہائی" حصہ بھی بیان کیا گیا ہے، جو مہر کے اصطلاحی اور مشہور معنی میں نہیں ہے، بلکہ یہ ایک معنوی مہر ہے۔ رائج مہر وہ ہوتا ہے جو شوہر اپنے مال سے اپنی بیوی کو دیتا ہے، امام باقر (ع) فرماتے ہیں: زمین پر چار نہریں — فرات، نیل، نہروان اور بلخ — حضرت زہرا (س) کے لیے بطور مہر مقرر کی گئی ہیں۔
نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے: امام باقر (ع) نے فرمایا: حضرت زہرا (س) کا مہرآسمان پر دنیا کا پانچواں حصہ اور بہشت کا ایک تہائی اور دنیا کی نہروں میں سے چار نہریں ہیں؛ اور زمین پر ان کا مہر پانچ سو درہم تھا۔ لہٰذا "پانی حضرت زہرا (س) کا مہر ہے" کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ دریا جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین پر اس خاتون کے لیے مہرقرار دیا ہے، اور چونکہ ان چار نہروں میں بہت زیادہ پانی ذخیرہ ہے، اس لیے "پانی حضرت زہرا (س) کا مہر ہے" کی عبارت بیان کی جاتی ہے۔
اسلامی مصادر میں ایسی احادیث موجود ہیں جو دریائے فرات کو حضرت زہرا (س) کا مہربتاتی ہیں؛ جیسا کہ امام باقر (ع) سے جابر جعف ی کی روایت ہے کہ اللہ نے فرمایا: فاطمہ (س) کے لیے زمین میں چار دریا ہیں، جن میں سے ایک فرات ہے (تین دیگر نیل، دجلہ اور دریائے بلخ ہیں)۔
**
جب حضرت علی (ع) حضرت فاطمہ (س) سے شادی کا ارادہ لے کر رسول اللہ (ص) کے گھر گئے تو پیغمبر (ص) نے ام سلمہ سے فرمایا: دروازہ کھول دو، کیونکہ یہ وہ شخص ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ ام سلمہ نے فوراً دروازہ کھولا اور حضرت علی (ع) اندر داخل ہوئے۔ حضرت علی (ع) شرم و حیا کے انداز میں دیکھا رسول اللہ (ص) نے فرمایا: اے علی ! کوئی حاجت ہے؟ آسودہ خاطر رہو، مجھے امید ہے تمہاری حاجت پوری ہوگی۔ حضرت علی (ع) نے اپنا ارادہ ظاہر کیا اور حضرت فاطمہ (س) کے ساتھ اپنی شادی کی درخواست کی۔
ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ حضرت زہرا (س) نے اپنے والد سے درخواست کی کہ وہ خدا سے دعا کریں کہ ان کا مہر گناہ گار مسلمانوں کی شفاعت قرار دے۔
یہ درخواست منظور ہوئی اورحضرت فاطمہ (س) گناہ گاروں کی بخشش کے لیے شفیع اور وسیلہ بن گئیں۔
مہر یا صداق وہ تحفہ ہے جو مرد کی طرف سے عورت کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ عورت کے لیے اپنی محبت اور سچائی کا اظہار کرے، جس کی تاریخ حضرت آدم اور حضرت حوا کے نکاح تک جاتی ہے۔ "وسائل الشیعہ" کی جلد ۲۰ میں ذکر ہوا ہے: اللہ نے آدم سے مطالبہ کیا کہ وہ حوا کے لیے مہر مقرر کریں ، اور وہ مہر دین کے احکام کی تعلیم تھی۔
حضرت فاطمہ (س) کے لیے بھی دوسری عورتوں کی طرح ان کے شوہر حضرت علی (ع) کی طرف سے مہر مقرر کیا گیا۔ لیکن اس خاتون کی عظمت اور بزرگواری کا تقاضا تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی مولود کعبہ کی طرف سے ان کے لیے مہر مقرر فرمائے اور خود اس کی ادائیگی کا ذمہ لے تاکہ اہل عالم کو اس یگانہ اور باعظمت ہستی سے اپنی محبت اور الفت سے روشناس کرائے۔ اسی لیے اس نے دنیا کا پانچواں یا چوتھائی حصہ اور بہشت کا ایک تہائی حصہ ان کا مہر اور صداق قرار دیا۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) دنیا کی چار سب سے بہتر خواتین میں سے ایک ہیں جن کی شان اور منزلت میں بہت سی آیات اور روایات وارد ہوئی ہیں۔ اس عظیم خاتون کی شان و منزلت میں نازل ہونے والی آیات: سورہ کوثر، آیت تطہیر، آیت مباہلہ، آیت "ویطعمون الطعام" جیسی دیگر بہت سی آیات ہیں۔
لیکن اس انوکھی اور عالمین کی عورتوں کے لیے نمونہ اور اسوہ خاتون کی شان میں بہت سی اہم احادیث میں سے ایک "حدیث کساء" ہے۔
جناب سلمان فارسی سے روایت ہے کہ نبی اکرم (ص) نے مجھ سے فرمایا: اے سلمان! جو بھی میری بیٹی فاطمہ (س) سے محبت رکھے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور جو اس سے دشمنی رکھے گا وہ آگ (دوزخ) میں ہوگا۔ اے سلمان! فاطمہ (س) کی محبت سو جگہ فائدہ پہنچائےگی جن میں سے سب سے آسان مقامات موت کا موقع، قبر، میزان، محشر، پل صراط اور حساب وکتاب جیسے مواقع ہیں۔
اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جو شخص میری بیٹی فاطمہ (س) سے راضی ہو، میں اس سے راضی ہوں اور جس سے میں راضی ہوں، اللہ بھی اس سے راضی ہوگا؛ جس پر فاطمہ ناراض ہوگی، میں بھی اس پر ناراض ہوں اور جس پر میں ناراض ہوں، اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ اے سلمان! تباہی ہے اس شخص کے لیے جو فاطمہ اور ان کے شوہر امیر المؤمنین حضرت علی (ع) پر ظلم کرے، اور تباہی ہے اس شخص کے لیے جو ان کی اولاد اور ان کے شیعوں پر ظلم کرے۔
شیعوں اور ان کے محبوں کی شفاعت
امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: قیامت کے دن ایک منادی ( جبرئیل ) ندا دے گا:
حضرت فاطمہ (س) بنت محمد (ص) کہاں ہیں؟ اس وقت فاطمہ زہرا (س) کھڑی ہوں گی تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: اے اہل محشر ! آج عزت اور بزرگی کس کی ہے؟ محمد، علی، حسن اور حسین (علیہم السلام) عرض کریں گے: یکتا اور غالب اللہ کے لیے ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے اہل محشر ! میں نے آج عزت اور بزرگی محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیھم السلام) کے لیے قرار دی ہے۔ اے اہل محشر ! سروں کو جھکا لو اور آنکھیں بند کر لو، حضرت فاطمہ (س) جنت کی طرف جا رہی ہیں۔
پھر جبرئیل جنت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ لائیں گے جو دونوں طرف سے لباس دیبا سے سجا ہوا ہوگا اور اس کی مہار چمکتے ہوئے موتیوں کی ہوگی۔ پھر وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا اور حضرت صدیقہ طاہرہ (س) اس پر سوار ہوں گی، اور اللہ تعالیٰ ایک لاکھ فرشتے ان کے دائیں طرف اور ایک لاکھ فرشتے بائیں طرف بھیجے گا اور ایک لاکھ فرشتوں کو مامور کرے گا کہ حضرت فاطمہ (س) کی سواری کو اپنے پروں پر سوار کر کے لے جائیں یہاں تک کہ انہیں جنت کے دروازے تک پہنچا دیں۔ جب جنت کے دروازے پر پہنچیں گی تو حضرت فاطمہ (س) رک جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے فاطمہ! اے میرے حبیب کی بیٹی! کیوں رک گئیں جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم جنت میں داخل جاؤ؟
حضرت فاطمہ (س) عرض کریں گی: اے پروردگار! میں چاہتی ہوں کہ اس کے دن میری قدر ومنزلت پہچانی جائے۔ پروردگار فرمائے گا: اے میرے حبیب کی بیٹی! جس کے دل میں تم سے محبت یا تمہاری اولاد میں سے کسی سے محبت ہو، اس کا ہاتھ پکڑو اور اسے جنت میں داخل کر دو۔
اس وقت حضرت اپنے شیعوں اور دوستوں کو چن لیں گی، جس طرح پرندہ اچھے دانے کو خراب دانے سے الگ کرتا ہے۔ جب حضرت زہرا (س) کے شیعہ اور محب جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو رک جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے دوستو! تمہارا کیوں گئے؟ وہ عرض کریں گے: اے پروردگار! ہم چاہتے ہیں کہ آج کے دن ہماری قدر و منزلت پہچانی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے دوستو! جس نے تم سے اس وجہ سے محبت کی کہ تم فاطمہ (س) سے محبت رکھتے تھے؟ جس نے تمہیں فاطمہ زہرا (س) کی محبت کی وجہ سے کھانا کھلایا؟ جس نے تمہیں فاطمہ (س) کی محبت کی بنا پر کپڑے پہنائے؟... اس کا ہاتھ پکڑو اور اسے جنت میں داخل کرو۔ امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: خدا کی قسم! اہل محشر میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا سوائے شک کرنے والوں، کافروں اور منافقوں کے۔
امالی شیخ صدوق میں امام محمد باقر (ع) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو میری بیٹی فاطمہ (س) جنت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر سوار ہو کر آگے بڑھیں گی، جبکہ ان کے دائیں طرف ستر ہزار اور بائیں طرف بھی ستر ہزار فرشتے ہوں گے، اور جبرئیل اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے ندا دیں گے: اپنی آنکھیں بند کرو تاکہ فاطمہ (س) بنت محمد (ص) گزرسکیں۔
اس دن کوئی نبی، کوئی رسول، کوئی صدیق اور کوئی شہید باقی نہیں رہے گا جو اپنی آنکھیں بند نہ کئے ہو جب تک حضرت فاطمہ (س) گزر نہ جائیں۔ اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی: اے میری حبیبہ! اے میرے حبیب کی بیٹی! مجھ سے مانگ میں تجھے عطا کروں، اور شفاعت کر میں تیری شفاعت قبول کروں، مجھے اپن عزت و جلال کی قسم! میں ظلم اور ظالم سے ہرگز درگزر نہیں کروں گا۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) عرض کریں گی: اے میرے معبود اور میرے آقا! میری اولاد اور میرے شیعہ، اور میری اولاد کے شیعہ ، اور میرے محبوں اور میری اولاد کے محبوں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی: فاطمہ (س) کی اولاد اور فاطمہ کی اولاد کے شیعہ اور محب کہاں ہیں؟ اس وقت مطلوبہ افراد بلائے جائیں گے۔ پھر حضرت فاطمہ (س) کا قافلہ آگے آگے ہو گا شیعہ اور آپ کے ہمراہ قافلہ کے پیچھے پیچھے چلیں گے یہاں تک کہ انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا ۔
یہ روایات حضرت زہرا (س) کا بلند مرتبہ اور ان کی شفاعت کے منصب کو بیان کرتی ہیں، یعنی حضرت اتنے بلند کی حامل ہیں کہ وہ اپنے بہت سے شیعوں اور محبت کرنے والوں کو اٹھا کر اپنے ساتھ جنت میں لے جا سکتی ہیں۔