تاریخ اسلام ایک مکمل نصاب ہے جو مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے لئے درس وعبرت ونصیحت کا ایک خزانہ ہے مردوں کے لئے بھی عورتوں کے لئے بھی جگہ جگہ تاریخ اسلام میں ایسے نمونے نظر آتے ہیں جومسلمانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور انھیں دعوتِ فکر وعمل دیتے ہیں خدیجہ الکبریٰ علیھا سلام اسی تاریخ کے ماتھے پر چمکتا ہوا وہ قیمتی جھومر ہے جو دنیا کی تمام مسلم عورتوں کے لئےحسن وجمال باطنی اورآراستگی وپیراستگی کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔
خدیجہ الکبریٰ
بحیثیت ملکہ عرب
اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے والےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی معزز زوجہ حضرت خدیجہ بنت خویلد خاندانی شرافت وکمالات کے لحاظ سے بہت سی خصوصیات کی حامل تھیں نمبر ایک
عرب جاھلی میں بھی وہ ممتاز حیثیت کی مالک تھیں نمبردو
عقل و فہم و داریت وفراست اور معاملہ فہمی میں بہتیروں سے آگے تھیں
نمبر تین
علم ودانش اور معرفت میں اکثریت کو پیچھے چھوڑ چکی تھیں
نمبر چار
مال و دولت ثروت و سرمایہ کے لحاظ سے عرب کے مالداروں میں مشہور تھیں نمبر پانچ
اپنے زمانہ کی بڑی تاجرہ تھیں نمبر چھ
صاحب مال و دولت ہونے کے ساتھ ساتھ روحانیت و للاھیت سے دل مملوء تھا
نمبرسات
اس وقت کے الھی مذہب مسیحیت کی پیروکار تھیں اور اپنے چچاورقہ ابن نوفل جو مسیحیت کے بارے میں اچھی خاصی معلومات رکھتے تھے ان سے بحث وگفتگو کرتیں اور اسطرح سے اپنی معنوی تشنگی و پیاس بجھانے کا سامان کرتیں تھیں ہر چند آپکی پرورش اسلام آنے سے قبل دورجاھلیت میں ہوئی تھی مگر جاھلیت کی ہواتک آپ کو لگنے نہیں پائی تھی جو کہ دورحاضر کی عورتوں کے لئے درس عبرت ہے اوریہ وہ فضایل وکمالات ہیں جو ام المومنین حضرت خدیجہ علیہا سلام میں مجتمع تھے اور خصوصیت سے آپ کی حیات میں اھم اوردلچسپ بات جورہی وہ یہ کہ آپ اپنےگھر کے اندر رہکر ایک بڑی تجارت کی مالک رہیں اور آپ اپنی مدبرانہ صلاحیتوں سےپورے حجاز میں غلاموں کی مددسے کامیاب وشرافت مندتاجرہ کے نام سے جانی گیں یہ آپکی انتظامی صلاحیت ہے جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہو تی ہے
خدمت اسلام میں
دولت وثروت کی کثرت سے آپ نہ توکبھی مغرور ہوئیں نہ ہی وقت پڑنے پر اسے راہ اسلام میں خرچ کرنے سے گریز کیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے آپ نے رشتہ ازدواج کی درخواست کی تو پیغمبر اسلام نے محض یہ فرمایا ؛خدیجہ کافی مالدار ہیں میری اتنی مالی حیثیت نہیں ہے۔۔۔
بحوالہ رہنمایان اسلام ص انیس
اور ادھر خدیجہ الکبری کاحال یہ کہ وہ اپنے علم ومعرفت کی روشنی میں اعلان اسلام سے قبل ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنے دل میں بساچکی تھیں اس لئے رسول اللہ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ آپ فکر نہ کریں مجھے آپ سے وصلت بخوشی منظور ہے اور اس طرح سے جناب خدیجہ الکبری نےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے شادی کی درخواست کرکے عرب کے بنائے ہوئے جاھلیت کے تانے بانے اور ظاہر داری کے پیمانوں کو توڑدیا اور سرمایہ کے صحیح مصرف کا راستہ بتادیا اور جب آپ زوجہ بنکر رسول اللہ کی زندگی میں داخل ہو ئیں تو آپ اپنے کردار وعمل کے بل پرتاریخ اسلام میں اس قدر بلند مرتبت ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی زوجہ وہاں تک نہ پہنچ سکی چنانچہ جب بپیغبر اسلام نے اپنی رسالت کا اعلان کیا تو آپ نے سب سے پہلے قبول فرمایا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئیں اور ایمان لانے کے بعد آپ نےاپنےشوہر نامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کےگھر پہنچتے ہی اپنا پورا سرمایہ رسول اسلام کے قدموں میں ڈال دیا اور اسلام کی بنیادوں کو قوت واستحکام بخش دیا
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ کی جانب سے حضرت خدیجہ کی قدر شنا سی
چنانچہ نبی کریم نے بھی آپکی قدردانی کی اور جب تک آپ زندہ رہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے کسی بی بی کو اپنی زوجیت میں نہیں رکھا یہاں تک کہ حضرت خدیجہ کے گزر جانے کے بعد مرتےدم تک آپ انھیں یاد فرماتے رہے اور جب بعد کی آنے والیوں میں سے کسی نے ذکر خدیجہ پر ناک منھ بناےاور اعتراض کرتےہوۓکہا کہ آپکو تو ان سے بہتر ملیں ۔۔۔ تو رسول اللہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا چپ رہو ان سے بہتر ؟ارےخدیجہ سے بہتر کون ہوسکتاہے خدیجہ تو وہ ہیں جواس وقت میرے اوپرایمان لائیں جب سب مجھے جھٹلا رہے تھے اور اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی جب سارے اھل مکہ میرا انکار کر رہے تھے اور انہوں نے اپنا سب کچھ راہ اسلام میں قربان کر دیا خدیجہ کی برابری کون کرسکتا ہے؟؟
مسند احمد بن حنبل ج تین ص نواسی نقل بمعنی
اور رسول اسلام کاطریقہ کار تھا کہ جب آپ کے گھر قربانی وغیرہ ہوتی تو آپ جناب خدیجہ کی سہیلیوں کو یاد کرتے تھے اور کچھ گؤشت انکے یہاں تحفہ کے طور پر بھیجتے تھے
زیارت وارثہ میں امام حسین کی دادی کا تذکرہ
السلام علیک یا بن خدیجۃ الکبریٰ اے خدیجۃ الکبریٰ کے بیٹے حسین آپ پر میرا سلام ہو
بحوالہ
زیارت مطلقہ امام حسین مفاتیح الجنان
یہ عظمت وبزرگی ہی ہے جناب خدیجہ الکبری علیھا سلام کی کہ جہا ں حضرت امام حسین علیہ السلام کو انبیاء علیہم السلام کاوارث قرار دیا گیا وہیں زبان معصوم سے خصوصیت سے امام حسین علیہ السلام کو آپ کا فرزند کہکر گویا قربانی کربلا میں آپکو معنوی شریک قرار دیا ہے اور یہ ایسی عظمت وبلندی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی دیگر ازواج میں سے کسی اور کو حاصلِ نہیں سچ ہے کہ