’ہیہات منّا الذلۃ‘
تاریخ میں بعض جملے ایسے ہوتے ہیں جو زمان و مکان کے حدود و قیود سے نکل کر پوری انسانیت کی آواز بن جاتے ہیں ۔’ہیہات منّاالذلۃ‘ بھی ایساہی ایک جملہ ہے ۔یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ انسان کی فطری آزادی ،اس کے ذاتی وقار اور اس کی اخلاقی خودمختاری کا عالمی منثور ہے ۔
امام حسینؑ نے یہ جملہ روز عاشور ہ لشکر یزید سے خطاب کرتے ہوئے رشاد فرمایاتھا۔اس جملے کا ظاہری مقصد اپنی خودداری ،جرأت اور خودمختاری کو ظاہرکرناتھا۔جب کہ اس مختصر جملے کی تشریح میں دفتر تحریر کئے جاسکتے ہیں ۔کیونکہ ظالم نظام کے خلاف اس نعرے کا بلند کرناحق و انصاف کے پرچم کو لہرانے کے مترادف تھا۔امام ؑ کا یہ فرماناکہ ’ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر‘ انسان کی آزادی ،خودمختاری اور عزت نفس کا جرأت مندانہ اظہار تھا۔کربلا کے بعد اس جملے کی گونج ہر انقلابی تحریک میں سنی گئی ۔خواہ اس تحریک کا تعلق کسی بھی مذہب اور مسلک سے رہاہو ۔حریت پسندوں نے ہمیشہ یہی نعرہ بلند کیااور ظالمانہ نظام کو اسی نعرے کے ذریعہ بغیر لڑے شکست دی’ ہیہات منّا الذلۃ‘۔اس جملے کے ذریعے امام حسینؑ نے واضح کردیاکہ انسان کو اللہ نے عزت ،آزادی اور اختیار کے ساتھ پیداکیاہے ،اس لئے اسے کسی باطل قوت ،ظالم نظام اور جابر حکمران کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرنا چاہیے ۔ذلت صرف جسمانی شکست کا نام نہیں بلکہ علم کے باوجود مصلحت ،خوف یا مفاد کی خاطر خاموش رہنے کا نام بھی ہے ۔یہ جملہ انسان کو یاد دلاتاہے کہ اس کی اصل شناخت اس کی آزادیٔ فکر وضمیر اور اخلاقی خودمختاری میں پوشیدہ ہے ۔آزاد انسان اپنے فیصلے خود کرتاہے ۔اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتاہے ۔حق و انصاف کی خاطرکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔وہ ظلم اور ظالموں کے ساتھ کسی قیمت پرسمجھوتہ نہیں کرتا،خواہ اس کا نتیجہ تنہائی ،اقتصادی پابندیاں ،معاشی محاصرہ یا جان کی قیمت ہی کیوں نہ ہو۔آج ایران اسی راستے پر گامزن ہے اور عالمی شیطانی طاقتوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹاہواہے ۔اس کے برعکس مسلم حکمرانوں نے یزید عصر کے ہاتھوں پربیعت کرلی ۔اپنی فطری آزادی اور خودمختاری کا سوداکرلیا۔حسینیؑ طرز کے بجائے یزیدی شعار اپنالیا۔اس کا انجام ہر حق پسند کے سامنے ہے ۔یزید عصر نے صرف بیعت ہی نہیں لی بلکہ انہیں اپنے سامنے سجدہ ریزی پربھی مجبور کردیا۔اگر وہ حسینی طرز اپناتے ہوئے ’ہیہات منّاالذلۃ‘ کا نعرہ بلند کرتے تو دنیا میں بھی سرخرورہتے اور آخرت میں بھی !مگر جن کے شکم مال حرام سے بھرے ہوتے ہیں وہ کبھی حق کی حمایت نہیں کرسکتے ۔
’ہیہات منّاالذلۃ‘ یعنی؟
اللہ نے انسان کو آزاد اور مختار پیداکیاہے ۔اس کی تخلیق کو اشرف مخلوقات قرار دیاہے ۔اسے عقل ،شعور،ارادہ اور انتخاب کی قوت بخشی ہے ۔یہی قوت انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے ۔جب کوئی طاقت انسان سے اس کی آزادی،خودمختاری اور حق انتخاب سلب کرنے کی کوشش کرتی ہے تو درحقیقت وہ اس کی انسانیت کو مجروح کرتی ہے ۔’ہیہات منّا الذلۃ‘ اسی طاقت کے خلاف انسانیت کا اعلان بغاوت ہے ۔کیونکہ ذلت صرف شکست کھانے کا نام نہیں ۔ذلت اس لمحے جنم لیتی ہے جب انسان اپنی آزادی ،خودمختاری اور ضمیر کا سوداکرلے ۔جب وہ ظالموں کے ظلم پر خاموش تماشائی بن جائے ۔جب وہ حق کی حمایت پر اپنی آسائش اور مفاد کو ترجیح دینے لگے ۔اس کے برعکس عزت حق بات پر اٹل رہنے کا نام ہے ۔خواہ اس کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ذلت قتل ہوجانے کا نام نہیں ہے،اس کے برعکس بیعت اور غلامی کی زندگی موت سے بدتر ہے ۔کربلا نے یہی سبق دیاہے کہ زندگی صرف ’جینے کا نام نہیں‘ اور نہ ’لمبی عمر ‘کوئی معنی رکھتی ہے ۔سب سے زیادہ اہم زندگی کا وقار اور اصولوں کی بقاہے ۔
’ہیہات منّاالذلۃ‘ انسان کو یہ شعور عطاکرتاہے کہ اطاعت اور بندگی صرف خداکے لئے ہے ۔جو شخص خداکے سامنے سرتسلیم خم کرتاہے وہ دنیاکی کسی طاقت کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔یہی توحید کا عملی تقاضا بھی ہے کہ انسان ہر قسم کی غلامی ،استحصال اور جبر سے خود کو آزاد رکھے ۔اس معنی میں کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی آزادی کی سب سے عظیم تعبیر ہے ۔آج بھی دنیا کے مختلف گوشوں میں انسان ظلم ،استبداد ،استحصال اور فکری غلامی کا شکار ہے ۔شیطانی طاقتیں یزیدی نظام کو مسلط کرنے کی فکر میں ہیں ۔ان کا مقصد ہر آزاد انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیناہے ۔وہ چاہتی ہیں کہ دنیا میں کوئی حسینی شعار نہ اپناسکے ۔کوئی یزیدی نظام سے ٹکرانے کی جرأت نہ کرے ۔ایسی صور ت حال میں ’ہیہات منّاالذلۃ‘کا نعرہ ایک ابدی پیغام کی طرح گونجتاہے ۔یہ نعرہ ہمیں یاد دلاتاہے کہ انسان کی اصل عظمت آزادی اور حق پر ثابت قدمی میں ہے ۔یہی وہ فکر ہے جس نے کربلا کو ایک واقعے سے بڑھ کر دائمی تحریک بنادیااور ’ہیہات منّاالذلۃ‘ کو انسانی حریت کا لازوال استعارہ ۔یہی نعرہ ہر دور کے مظلوموں ،حق پسندوں اور آزادی کے متوالوں کے لئے امید اور حوصلے کا سرچشمہ ہے ۔
ہے کوئی جو حسین کی آواز پر لبیک کہے!
ہے کوئی جو ’مثلی لایبایع مثلہ‘ کا مصداق بن کر جام شہادت نوش کرے !
ہے کوئی جو عصر کربلا میں حسین کی نصرت کا پرچم بلند کرے !
ہل من ناصرِِ ینصرنا