ہندوستان کے متنوع سماج میں عزائے سیدالشہداءؑ کی اثر انگیزی کے نئے امکانات
تحریر:مولانا مہدی باقرخان
محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی دنیا بھر کے زندہ ضمیر لوگوں کے افق دل پر غم کی فضا چھا جاتی ہے،ماحول سوگوار ہو جاتا ہے، آنکھیں نم ہو نے لگتی ہیں اور دل کربلا کی یاد کے ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محرم صرف گریہ و ماتم کا موقع نہیں بلکہ بیداریِ ضمیر، احیائے دین، اصلاحِ معاشرہ اور انسانیت کی نجات کا ذریع ہے۔ اگر عاشور محض ایک تاریخی سرگذشت ہوتی تو چودہ صدیوں بعد بھی کروڑوں انسان اس کی یاد میں اشک نہ بہاتے۔ درحقیقت کربلا ایک زندہ مکتب تہذیب و تفکرہے، ایک جاری و ساری تحریک ہے ایک ایسی ابدی دعوت ہے جو ہر دور کے انسان کو حق و باطل کے درمیان تمیز و تشخیص کا شعور عطا کرتی ہے۔
ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں محرم میں عزاداری کسی مخصوص مسلک کی مذہبی رسومات نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور سماجی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے متنوع معاشرے میں مجالسِ عزا کی اہمیت دو چنداںہوجاتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عزاداری کو صرف جذباتی وابستگی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے فکری تربیت، اخلاقی اصلاح، سماجی خدمت اور قومی ہم آہنگی کا مؤثر ذریعہ بھی بنائیں۔
چنانچہ اس سلسلے میں بانیان مجالس و جملہ مراسم عزا کے ذمہ داران کا فریضہ یہ ہے کےاس میں خلوص نیت سے کام لیں کیوں کے مارےاعمال کی بنیاد ، نیت او راس کی بازگشت ، خدا کی طرف ہے نہ کہ سماج و معاشرہ کی طرف ... علاوہ ازیں خطیب سے لیکر تبرک تک صالحیت اور اخلاص کو معیار قرا ر دیں ، اس لئے کہ برانڈ اور وقتی شان و شوکت سے شاید آس پاس کے کچھ متاثرہو جائیں مگر اس سے وارث کربلا کو راضی نہیں کیا جا سکتا تاہم اپنے ہم مشرب خطبا سے بھی مودبانہ التماس ہے کہ غور فرمائیں آج گذشتہ 3 دہائیوں کے مقابلہ عزاداری کو فروغ حاصل ہوا ہے ، مجلسوں اور جلوسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر ہمارے اپنے معاشرہ میں اس کا جو اخلاقی اثر دکھائی دینا چاہئے تھا و ہ کما حق نظر نہیں آتا !!! ، خانوادوں کے شیرازے بکھرتے جا رہے ہیں ، جوان شدت سے اپنی دینی اقدار کو لیکر عدم خود اعتمادی کے شکار ہیں ، اخلاقی بے راہ روی عروج پر ہے ایسے میںہم عام طور سے منبروں سے جو پروس رہےہیں اس سے خطیب اور سامعین دونوں کے مذہبی ذوق کی تسکین توہو رہی ہے مگر ہمارے اپنے گھر سے لیکر سماج تک کے انفرادی اور اجتماعی مسائل یا جس کے تس ہیں یا مزید ابتری کی طرف ہیں ، کیا قرآنی تعلیمات، علوم اہل بیت اور سیرت معصومین ، کردار سازی کے علاوہ اور کچھ ہے ؟ہمارے کون سے گھریلو اور سماجی مسائل کا حل ہماری دینی تعلیمات میں نہیں ہے !. مجھے لگتا ہے اس بات کے پیش نظر کہ احادیث میں عالم با عمل ہونے کےساتھ عالم آگاہ ہونے کی بھی خاصی تاکید ہے چناچہ اہل منابر کو چاہئے جس بستی یاشہر میں خطاب کرنا ہے اس میں رہنے والی ہماری قوم کا ڈیٹا انکے پاس ہونا چاہئے تاکہ وہ مجلس کے روایتی نظام کو برقرار رکھتےہوئے وہاں کے مبتلا بہ مسائل اور ضرورت کے لحاظ سے گفتگو فرمائیں ٹھیک اس ماہر طبیب کی طرح جو مریض کو اسکے ذائقے اور چٹخاروں کی بنیاد پر دوا تجویز نہیں کرتا بلکہ اسکے لئے جو مفید ہوتا ہے وہی دیتا ہے چاہے وہ دوا قدرے تلخ ہی کیوں نہ ہو۔
ظاہر ہے کہ منبرِ حسینؑ دراصل منبرِ رسولؐ کے تسلسل کانام ہے۔ یہ صرف تقریر کا مقام نہیں بلکہ فکر سازی، کردار سازی اور امت سازی کا مرکز ہے۔ اس لیے خطیب کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ منبر کی حرمت اور وقار کو برقرار رکھے چونکہ برصغیر یا ایشائی ممالک کی تہذیبی نفسیات کا خاصہ یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ علم اور احساس کو ساتھ ساتھ اہمیت دی گئی ہے۔ مجالس کا مقصد صرف سامعین کو رلانا نہیں بلکہ انہیں دعوت فکر و عمل دینا بھی ہے۔ شہید استاد مرتضیٰ مطہری نے اپنی مشہور کتاب حماسۂ حسینی میں اس امر پر زور دیا ہے کہ واقعۂ کربلا کو تحریفات اور غیر مستند روایات سے پاک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ غلط روایت جذبات تو پیدا کر سکتی ہے مگرہمیں صحیح شعور کی طرف مہمیزنہیں کر سکتی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ منبر پر بیان ہونے والے واقعات مستند تاریخی ماخذ سے اخذ کیے جائیں اور سامعین کو تحقیق و مطالعہ کی طرف بھی متوجہ کیا جائے تاکہ وہ واقع کربلا اور دینی معلومات صرف سن کےنہیں بلکہ پڑھ کے بھی سمجھنے کی کوشش کر سکیں۔
محرم اور نسلِ نو
آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان سے مختلف دنیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ وہ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، فکری انتشار، تہذیبی یلغار اور شناخت کے بحران (identity crises) کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے ذہن میں فلسفہ دین، مستقبل ، گھریلو زندگی اورسماجی زندگی تک کے بے شمار سوالات موجود ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات ہماری مجالس میں یا تو ان سوالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اسے اتنےخاطرخواہ اور موثر ڈھنگ سے نہیں برتا جاتا جو ان مبتلا بہ قسم کےموضوعات کا حق ہے، جبکہ نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ان کے سوالات کو سنا اور سمجھا جائے اور اسے دین و سیرت معصومین کی روشنی میں حل کیا جائے۔
ایسے میں ضرورت اس بات کی ہےحضرت علی اکبرؑ، حضرت قاسمؑ اور دیگر جوانانِ کربلا کے کردار کو صرف مصائب کے عنوان سے نہیں بلکہ نوجوان قیادت، ذمہ داری، خودشناسی اور وفاداری کے نمونوں کے طور پر پیش کیا جائے اور کربلا کی اخلاقی قدروں کا ذکر شد و مد سے کیا جائے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے امام حسینؑ نے اپنے حبشی غلام جون اور 18 برس کے جوان بیٹے علی اکبر کا سر اپنے زانو پر رکھ کر برابری و مساوات کی وہ مثال قائم کی جو رنگ ونسل کے فرق و امتیاز میں یقین رکھنے والوں کیلئے دندان شکن جواب ہے ۔
کل کے کوفہ سے آج کی کربلا تک:بصیرت ایک مشترک ضرورت
جدید تعلیم یافتہ نسل کے ذہن میں متعدد سوالات پیدا ہوتے ہیں اورسوالات اعتراض نہیں بلکہ فکری جستجو کی علامت ہیں۔ منبر کو چاہیے کہ وہ ان سوالات کے مدلل اور علمی جوابات فراہم کرے۔ جب نوجوان محسوس کرے گا کہ مذہبی مراکز اس کے فکری مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں تو اس کا اعتماد، دین اور مذہبی قیادت پر مزید مضبوط ہوگا ۔نئی نسل کے ذہن میں یہ سوال ہمیشہ آتا ہےکہ آخر وہی کوفہ جس نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؑ کو دعوت دی تھی، میدانِ عمل میں تنہا کیوں رہ گیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے کئی اسباب تھے:- گمراہ کن پروپیگنڈا،دنیا طلبی،خوف اور مصلحت پسندی، حق شناس افراد کی خاموشی، قیادت سے دوری اور عدم بصیرت... یہ تمام عوامل آج بھی مختلف صورتوں میں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ اس لیے محرم کی مجالس صرف ماضی کا بیان نہیں بلکہ حال کا جائزہ بھی ہیں اور آبرومند مستقبل کا لائحہ کار بھی ۔
چونکہ کربلا انسانی تاریخ کی وہ انوکھی اور دردناک داستان ہے جس کا غم آج بھی تازہ ہے۔ ہر زندہ ضمیر اس سوگ میں شریک اور ہر بیدار ذہن اس کا مقروض ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز اور ظالموں سے نجات پانے کے لئے برپا ہوا انقلاب کر بلا والوں کا مرہون منت ہے۔ چنانچہ ہم اپنے وطن عزیز ہندوستان کی آزادی سے لے کر ایرانی انقلاب تک میں امام حسین اور شہیدان کربلا سے ملنے والی تحریک ہی کو کار فرما دیکھتے ہیں جیسا کہ گاندھی جی نے کہا تھا اگر امام حسینؑ اور کر بلا والوں کا کردار ہمارے سامنے نہ ہوتا تو ہم ہندوستان میں آزادی کے لئے لڑنے کا حوصلہ بھی نہ جٹا پاتے۔ امام خمینی نے فرمایا تھا:"محرم و صفر است کہ اسلام را زندہ نگہ داشتہ است۔" یہ جملہ صرف ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کا بیان ہے۔ محرم نے اسلام کو ظلم کے سامنے جھکنے سے بچایا اور مسلمانوں کے اندر مزاحمت، عزت اور آزادی کی روح زندہ رکھی۔ امام خمینیؒ کی نگاہ میں عزاداری صرف گریہ کا نام نہیں بلکہ ظلم کے خلاف شعور اور بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے لیکر موجودہ مزاحمت و پائداری میں حسینی اقدار اور عاشورائی ثقافت نے بنیادی کردار ادا کیا۔
ہندوستان میں عاشورہ کا بین المذاہب پیغام:
ہندوستان جیسے ملک میں امام حسینؑ کا پیغام مختلف مذاہب اور طبقات تک پہنچانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔امام حسینؑ عدل، آزادی، وفاداری، حق گوئی اور انسانی وقار کے علمبردار ہیں۔ یہ وہ اقدار ہیں جو مذہب اور مسلک کی حدود سے بالاتر ہیں۔ برصغیر کی گنگا جمنی تہذیب میں محرم ہمیشہ سے احترام، رواداری اور مشترکہ انسانی اقدار کی علامت رہا ہے۔ اگر مجالس میں عاشورہ کے ان عالمی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تو امام حسینؑ کا پیغام زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یادرہے اگرچہ عزاداری کا بنیادی مقصد یادِ حسینؑ ہے، لیکن یادِ حسینؑ کا حقیقی اثر انسان کے کردار میں ظاہر ہونا چاہیے۔محرم کے ایام میں بنام امام حسینؑ ، خون عطیہ کرنے کی مہمات،غریبوں کی امداد، تعلیمی معاونت، طبی کیمپ، یتیموں اور محتاجوں کی کفالت جیسی سرگرمیاں کربلا کے پیغام کو عملی شکل دے سکتی ہیں۔
اتحاد اسلامی وقت کی اہم ضرورت
آج عالم اسلام بے شمار سیاسی، فکری اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں محرم کو تفرقے کا نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ امام حسینؑ پوری امت کے امام ہیں۔ ان کا پیغام تمام مسلمانوں بلکہ تمام آزاد انسانوں کے لیے ہے۔ اس لیے منبر سے ایسی گفتگو ہونی چاہیے جو دلوں کو جوڑے، نفرتوں کو کم کرے اور امت میں باہمی احترام کو فروغ دے؛ چونکہ عزاداری کا مقصد جتنا عظیم ہے، اتنی ہی احتیاط بھی ضروری ہے لہذا خرافات سے اجتناب،غیر مستند روایات سے پرہیز، اسراف اور نمود و نمائش سے دوری، نماز اور اخلاقیات پر توجہ، تنظیمی رقابتوں سے اجتناب، امور عزاداری کو اس کی اصل روح کے قریب کر سکتے ہیں چنانچہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ منبرمسئلہ نہیںحل پیش کرےآج کا انسان معاشی پریشانیوں، خاندانی مسائل، ذہنی دباؤ اور روحانی خلا کا شکار ہے ایسے میں منبر کو چاہیے کہ مایوسیوں سے نجات دلائے اور زندگی کے تئیں پر امید نقطہ نظر کو پروان چڑھائے ، حوصلہ بخشے،راستہ دکھائے، اخلاقی قوت عطا کرے، آخرت پر یقین اور خدا پر اعتماد کو مضبوط بنائے کیونکہ ایک کامیاب مجلس وہی ہے جو سامع کو مجلس سے نکلتے وقت پہلے سے بہتر انسان بنا دے۔ آج حسینیت وقت کی آواز ہے جسے دنیا کا ہر حقیقت پسند امحسوس کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام رنگ و نسل ، فرقہ و مسلک اور ملک و ملت کی سیاسی و سماجی درجہ بندیوں اور امتیازات کے باوجود ہر مکتب فکر کا انسان امام حسینؑ کے در عظمت پناہ پر نتمستک ہے۔ ڈھیروں حر مزاج، یزیدی قید وسواس سے نکل کر حسینی میدان فکر و عمل میں قدم رنجہ ہوا چاہتے ہیں۔حسینستان میں ان کا استقبال ہے۔
آیئے سب مل کر زہرا ؐ کے لال سے عہد کریں کہ اس سال یہ شور ماتم صرف شور نہ رہے بلکہ بیداری کی علامت بن جائے ، حق کی آواز اور ظلم کے خلاف احتجاج کا استعارہ قرار پائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم "شورِ حسینی" کو "شعورِ حسینی" سے جوڑ دیں- ہماری مجالس علم کا سرچشمہ بنیں، ہمارے منبر،بصیرت کے مراکز ، ہماری عزاداری اخلاق اور خدمت خلق کا نمونہ بن جائیں اور ہماری نسلیں کربلا سے زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھیں تاکہ تو ہندوستان کی سرزمین پر محرم کی مجالس نہ صرف یادِ امام حسینؑ کو زندہ رکھنےمیں کامیاب رہیں گی بلکہ ایک بہتر، باشعور، بااخلاق اور متحد معاشرے کی تشکیل میں بھی تاریخی کردار ادا کرسکیں گی۔ بہرحال کربلا ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام ہے:حق کے ساتھ کھڑے رہں،ظلم کے سامنے سر نہ جھکائیں، اور انسانی اقدار کی حفاظت کریں۔ یہی اصل حسینیت ہے، یہی روح تحریک عاشورا ہے اور یہی محرم کا ابدی پیغام بھی؛ لہذا آیئے نام حسین پر سب مل کر ظالمانہ عالمی سامراج کو پر سکون انسانی سماج میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں اور ہر قسم کے ظلم اور یزیدی تسلط کو اکھاڑ پھینکیں تا کہ انسانیت کا وقار بحال ہو سکے۔