شاعر مشرق علّامہ اقبال کی شاعری پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہیگا۔اقبال کی شاعری میں اتنی معنوی وسعتیں ہیں کہ اس پر جتنا لکھا جائے وہ کم ہے۔لیکن اس شاعری کی معنوی وسعتوں کا ایک واضح اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ اہل بیت،مولائے کائنات علی ابن ابی طالب اور ذکر کربلا سے عبارت ہے۔اقبال کا فارسی کلام ہو یا پھر اردو کی شاعری دونوں میں جن علامتوں، استعاروں اور تشبیہات کا سہارا لیا گیا ہے ان میں سے بیشتر کا منبع،ماخذ یا سرچشمہ اہل بیت اطہار ہی ہیں۔مثلاً اگر مرد مومن یا مرد کامل کا جو تصور اقبال کی شاعری کی روح ہے اس مردِ کامل کے تصور کو سامنے رکھ کر مولائے کائنات کی زندگی،ان کے کارناموں اور مختلف موضوعات پر ان کے نظریات کا جائزہ لیں تو واضح ہو جائیگا کہ اقبال کے مردِ کامل کے تصور کا اطلاق سوائے ذات علیؑ کے کسی دوسری شخصیت پر نہیں ہو سکتا۔کربلا اور امام حسین کا ذکر ان کی شاعری میں جس انداز سے ہوا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کے خد و خال طے کرنے میں کربلا کو اقبال بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔ حالانکہ اقبال کی شاعری میں مختلف مقامات پر کربلاو امام حسین کا ذکر آیا ہے ،لیکن ’بالِ جببریل‘کا ایک شعر اس تعلق سے جو نظریہ پیش کرتا ہے وہ کربلا سے متعلق سیکڑوں اشعار پر بھاری ہے اور عظمت کربلا کے سمندر کو کوزے میں سمیٹنے اور اسلام کی تاریخ کو صرف ایک شعر یا چند الفاظ میں بیان کرنے کی اقبال کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے۔شعر ملاحظہ کریں،
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم:نہایت اس کی حسینؑ،ابتدا ہے اسماعیل
اقبال کے مذکورہ شعر میں کربلا کی عظمت کو جس طرح اجاگر کیا گیا ہے وہ اقبال کی فکر اورعقیدے کی
پختگی کا ثبوت ہے۔اقبال کی فکری نشو نما میں کربلا اور اہلبیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔حالانکہ
انھوں نے مغربی فکر اور مفکرین سے بھی کافی استفادہ کیا ہے،لیکن اس کے باوجود اسلامی فکر خصوصاً اہلبیت کے کارناموں اور واقعے کربلا نے ان کی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔یہی سبب ہے کہ اقبال کے یہاں ہیرو کا وہ تصور نہیں کہ جو مغرب کی فکر میں ہے اور جس کا ہیرو محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز سمجھتا ہے۔دوسری طرف اسلام میں ہیرو وہ ہے جو مرضی رب کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے اور خو کو قربان کر دینے کو ہی حوصلے اور شجاعت کا معیار مانتا ہے۔جس کی شجاعت کی معراج یہ ہے کہ
اس کارب اس سے اس طرح راضی ہو جائے کہ بندے سے خود پوچھے’’بتا تیری رضا کیا ہے۔‘‘اسلام
میں روزِ اوّل سے ہی خود کو رضائے الٰہی کی تعمیل میں قربان کر دینے کا جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ اسلامی
فکر اور فلسفے کی بنیاد ہے،اور اس فلسفے کا عملی و کامیاب ترین نمونہ کربلا میں نظر آتا ہے ،جبکہ اس کا ابتدائی
نمونہ وہ سنّتِ ابراہیمی ہے کہ جس کے تحت جناب ابراہیم نے اپنے انتہائی محبوب اور عزیز بیٹے کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا ارادہ کرنے سے بالکل گریز نہیں کیا۔دوسری طرف خود ابراہیم کے بیٹے اسماعیل نے اپنے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم مان کر اپنے کو قربانی کے لیے پیش کر دیا۔نتیجہ یہ کہ اللہ اپنے نبی ابراہیم اور اسماعیل کے اس عمل سے اس حد تک راضی ہوا کہ اس قربانی کو ’’ذبحِ عظیم‘ قرار دیکر
امت مسلمہ کو اس یادگار قربانی کو زندہ رکھنے کا حکم دیا۔اس کے تحت ہر سال عید قرباں منانے اور دنبے و کئی دیگر جانوروں کی قربانی کو باعث ثواب قرار دے دیا۔اسلامی تاریخ کا یہ پہلا ایسا واقعہ ہے کہ جس میں رضائے الہٰی کے لیے خود کو قربان کرنے کے جذبے کی اہمیت کو اللہ نے اپنے بندوں کے سامنے رکھا۔اسی لیے علامہ اقبال نے اپنے زیر بحث شعر میں اس واقعے کو حرم کی غریب و سادہ رنگین داستان قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کا نقش اوّل قرار دیا۔ظاہر ہے اس شعر میں داستانِ حرم سے مراد
اسلام کی تاریخ ہے ،جس کا نقش اوّل قربانی اسماعیل ہے۔لیکن اب اس شعر کے دوسرے پہلو پر غور کیجیے۔کسی بھی معاملے میں نقش اوّل کے اثرات تب تک ہی باقی رہتے ہیں جب تک کہ اس کا نقش آخر سامنے نہ آ جائے ۔یہ مانا جاتا ہے کہ نقش آخر کے اثرات اس قدر گہرے ہونے چاہئیں کہ وہ نہ صرف نقشِ اوّل کی توسیع ہوں بلکہ ہر اعتبار سے نقش اوّل سے کہیں زیادہ پر تاثیر اور دیرپا ہوں۔
اب اس مختصر استدلال کی روشنی میں کربلا کی اہمیت اور افادیت کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ شاعر مشرق نے حسینؑ کو یا بہ الفاظ دیگر کربلا کو کیوں اس غریب وسادہ و رنگیں داستان حرم کی انتہا قرار دیا۔یعنی یہ طے کر دیا کہ کربلا ہی معرکہ حق و باطل کی آخری اور قطعی کسوٹی ہے۔علامہ اقبال کے کربلا کے تعلق سے اس نظریے کو خمار بارہ بنکوی کے اس قطعے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔کہتے ہیں،
حق و باطل میں کہیں جنگ اگرہوتی ہے: کربلا والوں پہ دنیا کی نظر ہوتی ہے
اک نواسے کا یہ احسان ہے اک نانا پر :مسجدوں میں جو اذاں شام وسحر ہوتی ہے
علّامہ اقبال کے زیر بحث شعر کا مرکزی تصور اسلام کا وہ جذبہ ایثار ہے جو انسان کو راہِ خدا میں سب کچھ نثار کرنے کا درس دیتا ہے اور اس درس کا عظیم ترین نمونہ معرکہ کربلا ہی ہے۔ اسماعیل کی قربانی کی حیثیت دراصل علامتی ہے۔اس لیے کہ اللہ نے اپنے نبی ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل کا امتحان لینے کے لیے ان سے قربانی طلب تو کی،لیکن جب باپ اور بیٹے نے اللہ کی مرضی کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا تو اللہ نے اسماعیلؑ کی شہادت کے بغیر اس واقعے کو ’ذبحِ عظیم‘قرار دے کر ہمیشہ کے لیے اس کی یاد کو باقی رکھنے کا فیصلہ سنایا۔لیکن کربلا کا معرکہ اپنی نوعیت کے اعتبار نہ صرف منفرد ہے بلکہ اس کے اثرات بھی منیٰ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔کربلا میں امام مظلوم کی قربانی نے صرف عالم اسلام کی ڈوبتی ہوئی نبض میںہی نئی روح نہیں پھونکی بلکہ اس کے اثرات دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والوں یعنی پوری انسانیت پر نظر آتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ اقبال نے امام حسین کی قربانی کو داستانِ حرم کی انتہا کہنے کے ساتھ ساتھ ایک شعر میں یہ کہہ کر بھی نواسہ رسولﷺ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے کہ،
حقیقت ابدی ہے مقامِ شبیری:بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
امام حسین کی قربانی صرف عالم اسلام کو باطل طاقتوں کے خلاف حوصلہ نہیں بخشتی بلکہ تمام انسانیت کو باطل کے خلاف صف آرا ہونے اور ظلم کی بجائے مظلومیت یا عدم تشدد کے ہتھیار سے اسے شکست دینے کی حکمت عملی پر چلنے کی تلقین بھی کرتی ہے۔اسی لیے کربلا اور امام حسین دنیائے انسانیت کے لیے قربانی کا روشن استعارہ بلکہ منارہ نور بن گئے ہیں۔اس تعلق سے کسی شاعر کے دو اشعار بھی ملاحظہ کر لیں،جو کربلا اور امام حسین ؑکی اس عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
شعورِ علم و عمل،آگہی حسینؑ کے نام:تما م حرف ِخفی و جلی حسینؑ کے نام
چراغ کوئی جلائے مگر یہ دھیان رہے:خدا نے لکھ دی ہے سب روشنی حسینؑ کے نام
جہاں تک علامہ اقبال کے زیر بحث شعر کا تعلق ہے تو اس کے پہلے مصرعے میںجو تین الفاظ غریب،
سادہ اور رنگین کا استعمال ہے،ان میں ہر لفظ اپنے اندر ایک معنوی وسعت اور علامتی انداز سمیٹے ہوئے ہے۔عام طور پر مفلسی یا ناداری کے لیے استعمال ہونے والے اس لفظ کو شاعر مشرق نے یقینا ان معنیٰ میں استعمال نہیں کیا ہے۔بلکہ اس سے مراد نایاب،غیر معمولی اور اچھوتا واقعہ ہے۔لفظ ’سادہ‘کا بھی یہی معاملہ ہے اسے تکلف اور بناوٹ سے پاک کے معنی میں استعمال کیا گیا،لیکن یہ ایسی سادگی ہے کہ جسے ہمارے ادب میں ’سادگی میںپر کاری‘کہا جاتا ہے۔’رنگین‘کا لفظ واقعہ کربلا کے تیسرے پہلو یا رخ کی طرف اشارہ کرتاہے۔یہ رنگینی عام رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ اس کے پس پردہ شاعر نے واقعے کربلا کی عظمت اور آفاقی اپیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر اس پہلے مصرعے سے یہ مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ ’داستان حرم‘ یعنی اسلام کی داستان یا تاریخ اور اس میں بھی کربلا اپنے اندر ایک غیر معمولی اور اچھوتا تاثر رکھتی ہے۔اس تاثر میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہیں ،کوئی ظاہری ملمع کاری نہیں بلکہ انسان کے باطل کو جھنجوڑنے والی غیر معمولی اپیل بھی ہے اور رنگینی یعنی حسن بھی۔ہر چند کہ شعر میں حضرت اسماعیل کی قربانی کا ذکر بھی ہے،لیکن شعر کا بنیادی مفہوم ہمیں کربلا ہی کی طرف لے جاتا ہے ،اس لیے کہ اسماعیل کی قربانی صرف جذبہ ایثار کا علامتی اظہار ہے ،جبکہ کربلا کی معنوی و روحانی وسعتوں میںدنیا کے تمام مثبت جذبے پوشیدہ ہیں اور یہ دنیا کے ہر انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔یہی سبب ہے کہ اقبال نے کربلا کو داستانِ اسلام کی ’انتہا‘ یعنی نقطہ عروج قرار دیا ہے اور کربلا کے ہیرو یعنی امام حسینؑ کی ذات کو اپنے ایک دوسرے شعر میں ’حقیقت ابدی‘ قرار دیا ہے۔اقبال کے نزدیک امام
حسین ’’امامِ عشق‘‘ہیں،اور یہ عشق ہی ہے جوکسی بھی داستان کو رنگین بناتا ہے خواہ وہ رنگینی خون دل سے حاصل کی گئی ہو۔اقبال کے نزدیک امام حسینؑ وارث علوم قرآنی بھی ہیں اور جب وارث علوم قرآنی خود کو مرضی خدا کی خاطر شہادت کے لیے پیش کر دیتا ہے تو پھر وہ عظمت کی اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں اللہ بھی اسے یہ عظمت عطا کرتا ہے کہ اس سے کہتا ہے کہ،’’اے نفس مطمئن !پلٹ آ اپنے رب کی طرف ،اس حال میں کہ تو اس سے اور وہ تجھ سے راضی ہو۔‘‘اقبال کے نزدیک کربلا اور امام حسین کی عظمت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ امام قرآن کریم کے سورہ فجر کی مذکورہ آیت کی مکمل کسوٹی اور قربانی اسماعیل کی عملی تفسیر ہیں۔