کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ درسگاہ ہے، جس کی حرارت آج بھی مظلوم اور مجاہد قوموں کے دلوں میں قائم اور کربلا انکے پہلو میں دل بن کر دھڑک رہی ہے۔ امام حسینؑ کی قیادت میں برپا ہونے والی یہ تحریک ہر دور کے حقپرست انسانوں کے لیے اصول، بصیرت اور جرات کی علامت بنی ہے۔
کربلا میں پیش آنے والے صبر، استقامت، ایثار، اور فداکاری کے اصول آج بھی ہر مزاحمتی تحریک کی بنیاد ہیں۔ فلسطینی مزاحمت اس امر کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک قوم اپنی زمین، عزت، اور دینی و اخلاقی شناخت کے دفاع کے لیے قیامت خیز چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ظلم کے مقابل ڈٹ سکتی ہے۔ صہیونی ظلم، بمباری، محاصرے، اور نسل کشی کے باوجود فلسطینی عوام کی جدوجہد اور شہادتیں امام حسینؑ کے اس عظیم پیغام کو یاد دلاتی ہیں جس میں ظلم کے خلاف سر جھکانے سے بہتر حق کی راہ میں مرجانا بہتر سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج عاشورائی فکر فلسطینی مزاحمت میں زندہ ہے،
کربلا کا پیغام: ظلم کے خلاف قیام اور فرض شناسی کربلا کا وہ پیغام ہے جسے ہر حسینی نے اپنے دل سے لگا رکھا ہے اور یہی روح کربلا ہے ۔
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت نہ کر کے صرف ایک شخص کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ پورے طاغوتی نظام کو للکارا تھا۔ چنانچہ آپ کا قیام حق کی حفاظت، دین کی بقاء اور ظلم کے خلاف دائمی انکار کی علامت بن گیا۔
آپ نے فرمایا:
"مثلی لا یبایع مثلہ"
"میرے جیسا، یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔"
یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی باطل و ظالم قوت کے سامنے جھکنا نہ صرف بزدلی ہے بلکہ حق کی توہین ہے۔ آج فلسطینی مجاہدین اسی اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، جو صہیونی ظلم کے سامنے ہتھیار اٹھانے اور اپنی سر زمین کی حفاظت میں ثابت قدم ہیں۔
کربلامذہب سے ماوراء ایک انسانی ضمیر کی تحریک
فلسطینی مزاحمت کربلا کو محض ایک فرقہ سے متعلق واقعہ نہیں سمجھتی بلکہ اسے مظلوم کی آفاقی علامت کے طور پر اپناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنی، عیسائی، قوم پرست، اور سیکولر پس منظر رکھنے والے فلسطینی بھی امام حسینؑ کے ذکر سے روحانی توانائی حاصل کرتے ہیں۔
فلسطینی شاعر محمود درویش لکھتے ہیں:
"جب میں تجھے دیکھتا ہوں... تو مجھے کربلا نظر آتی ہے۔"
یہ لمحہ بتاتا ہے کہ کربلا ایک جغرافیائی واقعہ سے آگے بڑھ کر عالمی مزاحمت کی علامت بن گئی ہے۔
فلسطینی رہنما اور کربلائی افکار
حماس کے رہنما یحییٰ السنوار نے انتفاضہ اقصیٰ کے دوران لکھا:
"ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ جاری رہے گا۔ نہ کوئی صلح ہے نہ مذاکرات؛ یا ہم کامیاب ہوں گے یا کربلا پیش آئے گی۔"
یہ جملہ محض شاعرانہ بیان نہیں بلکہ عملی منشور ہے۔ یہاں "کربلا" کا مطلب شکست نہیں بلکہ عزت و وقار کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کی راہ پر گامزن رہنا ہے۔
3.2 زیاد نخالہ
تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سربراہ نے مارچ 2024 میں کہا:
"جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، وہ کربلا کی تکرار ہے۔"
یہ بیان غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی استقامت کو امام حسینؑ کی سنت کے مطابق اجاگر کرتا ہے، جہاں صہیونی محاصرے اور بمباری کے باوجود قوم ڈٹی ہوئی ہے۔
شہادت، خواتین اور زینبی کردار
کربلا صرف شہادت کی داستان نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی تحریک بھی ہے۔ حضرت زینبؑ نے اس مشن میں اہم کردار ادا کیا۔ فلسطینی معاشرے میں خواتین نہ صرف مجاہدین کی تربیت کرتی ہیں بلکہ میڈیا اور دنیا کے سامنے فلسطینی بیانیے کی ترجمانی بھی کرتی ہیں۔
شیخ خضر عدنان کہتے ہیں:
"اگر آپ حسینی راہِ شہادت پر نہیں ہیں، تو زینبی بنیں، اور زینبی راستہ ابلاغ و پیغام رسانی کا ہے۔"
یہ پیغام کربلا کے دو اہم اصولوں کی یاد دلاتا ہے: تلوار سے لڑنا اور زبان سے بیدار کرنا۔
کربلا کی یاد اور نسل در نسل اثر
باسل الاعرج جیسے فلسطینی دانشور لکھتے ہیں:
"میری ماں نے دودھ پلاتے ہوئے مجھے اہل بیت سے محبت، ان کے دوستوں سے دوستی، دشمنوں سے دشمنی سکھائی... اور حسینؑ کا غم مجھ میں نسل در نسل منتقل ہوا۔"
یہ ظاہر کرتا ہے کہ کربلا فلسطینی معاشرےمیں جڑ پکڑ چکی ہے، اور یہ تعلیم و تربیت کا وہ حصہ ہے جو ہر نسل میں جاری ہے۔
امام حسینؑ اور تکلیف پر صبر
کربلا کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ تکلیف، بھوک، پیاس، تنہائی، اور اپنوں کی شہادت کے باوجود صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ یہی صبر غزہ کے بچوں، عورتوں اور مجاہدین میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حسینؑ کی میراث انہیں طاقت دیتی ہے جب دنیا ظلم پر خاموش رہتی ہے تب حسینی عزم انکا سہارا بن جاتا ہے۔
انقلابی رہنما اور کربلائی رجحان
فتحی شقاقی، تحریک جہاد اسلامی کے بانی، نے امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی ایران سے متاثر ہو کر کربلا کو نظریاتی بنیاد بنایا۔ ان کا ماننا تھا:
"ہماری کامیابی اس راستے میں ہے جو حسینؑ نے چنا۔ ہمارا ہدف صرف فریضہ الٰہی کی ادائیگی ہے۔"
ایران کی فکری و عملی مدد نے فلسطینی مزاحمت کو مضبوط کیا، اور شہید قاسم سلیمانی جیسے رہنما اس نظریے کو عملی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ کربلا اور ذرائع ابلاغ
کربلا کی جنگ صرف تلوار کی نہیں بلکہ پیغام رسانی کی بھی تھی۔ حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے دنیا کو حقائق سے آگاہ کیا۔ آج فلسطینی صحافی، شاعر، سوشل میڈیا کارکن اور قیدی اسی زینبی مشن پر ہیں۔
شیخ خضر عدنان نے قید کے دوران بھوک ہڑتال کر کے مظلومیت کا پیغام دنیا تک پہنچایا، جو کربلا کے اصول کی عملی عکاسی ہے۔
حسینؑ کی حرارت فلسطینی مزاحمت کی روح
مشہور حدیث ہے:
"ان لقتل الحسین حرارة فی قلوب المؤمنین لا تبرد ابداً"
"حسینؑ کی شہادت سے مؤمنوں کے دلوں میں ایک آگ بھڑک اٹھے گی جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی۔"
آج یہی حرارت فلسطینی مزاحمت کی روح ہے۔ ان کی شہادتیں، صبر، اور استقامت اسی حرارت کا تسلسل ہیں۔
"کربلا" آج صرف تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی اصول، اخلاقی ضابطہ، اور روحانی رہنمائی ہے۔ فلسطینی مزاحمت اسی اصول اور روح کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
امام حسینؑ نے دکھایا کہ کامیابی اپنی بقا میں نہیں بلکہ اصول پر قائم رہنے، حق کی خدمت کرنے، اور مظلوم کی حمایت میں ہے۔ اور آج فلسطینی قوم، غزہ کے بچے، خواتین، نوجوان، شاعر اور صحافی سب حسینؑ کی صف میں کھڑے ہیں، اور ان کے ہونٹوں پر "ہَیْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّة" کی گونج ہے۔
یوں، فلسطین میں آج بھی ایک جہت سے کربلا کی تکرار ہے، اور ہر دن عاشورائی جذبوں کا مقتل ہے، جہاں مظلومیت اور حق کی طلب میں انسانیت کی روشنی روشن ہے۔ حسینؑ کی آواز آج بھی آ رہی: ھل من ناصر ینصرنا....
حسین ع آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 61 ہجری میں تھے اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
کھڑےبھی ہیں یا نہی۔۔۔۔