سورۂ آل عمران کی آیت نمبر۱۰۳ میں ارشاد خداوندی ہورہا ہے:{واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا}یعنی خداوندعالم کی ریسمان کواتحادکے ساتھ پکڑلواورمتفرق نہ ہو۔یہ قرآن کریم کا ایسازندۂ جاویدپیغام ہے کہ اگراس پر عمل پیرا ہواجائے تو قیامت تک آنے والے نسل بشری پرچم امن وامان کے سائے تلے زندگی گذارے گی،یہ قتل وغارتگری اور دہشت گردی اورپوری دنیا میں پھیلے ہوئے فسادات کاسرچشمہ عدم اتحاد اورتفرقہ ہے۔
متحد ہو تو بدل دوگے نظام عالم
منتشر ہو تو مرو، شور مچاتے کیوںہوں؟
موضوع ’’قرآن وامام حسین ؑمیں رابطہ کے چند نمونے‘‘کے تحت کچھ معروضات پیش کرنے کی سعی کر رہا ہوں؛اس موضوع کے تحت یہ دیکھنا ہوگا کہ قرآن اورامام حسین ؑمیںکیا کیا مناسبتیں پائی جاتی ہیں! آخر قرآن وامام حسین ؑمیں کیسا رابطہ ہے! کتناگہرااورعمیق ارتباط ہے!کتنی جہت سے قرآن اور امام حسین ؑایک ساتھ ہیں؟یہ میراآخری سوال،تحصیل حاصل ہے اس لئے کہ امام حسین ؑاورقرآن کے درمیان کوئی ایسی جہت پائی ہی نہیں جاتی کہ جس میں یہ دونوںالگ الگ نظرآئیں۔
(۱)اتحاد و اتفاق کی دعوت
ایک رابطہ یہ ہے کہ قرآن بھی اتحاد کی دعوت دیتا ہے اور حسین ؑبھی اتحادویکجہتی کاپیغام دیتے ہیں اس کی مثال اسی آیت سے لے لیجئے کہ قرآن کریم نے بالکل واضح وآشکارطورپردعوت اتحاددی ہے کہ خداکی ریسمان کواتحادکے ساتھ تھام لواور متفرق نہ ہو، سوال یہ ہے کہ جب خدانے واعتصمو بحبل اللہ کہہ دیا تھا توپھر لاتفرقوا کہنے کی کیاضرورت تھی؟ دعوت اتحاد توپہلے ہی جملے میں مکمل ہوگئی تھی! خداوندعالم لاتفرقوا کہہ کر یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ ہم صرف اتحادکی دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس امرپر تاکید بھی کررہے ہیںکہ دیکھوکسی بھی صورت میںاتحاد سے چشم پوشی نہ کرنا۔
یہ قرآن ہے جس نے اتحادکی دعوت دی اور اُدھر امام حسین ؑہیں جومرقعہ اتحاد ہیں،امام حسین ؑکی پوری زندگی کوتوایک طرف رکھئے کہ انہوںنے کیسے کیسے اتحاد کی مثالیں قائم کی ہیں؛ان کی حیات طیبہ کے چند لحظوں کولے لیجئے جس کی جھلک میدان کربلا میں نظرآتی ہے۔ کسی ایک انسان کو اپناہم مزاج بنانا بھی بہت مشکل کام ہوتا ہے لیکن حسین ؑنے اس مشکل امرکوکتناآسان بنادیا،میدان کربلامیں ایک حسین ؑنہیں بلکہ بہتر حسین ؑنظرآتے ہیں،عمر کافرق ضرور ہے لیکن ارادوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا،جوجذبہ ششماہہ مجاہد کے دل میں ہے وہی کڑیل جوان کے دل میں اوروہی جذبہ اسّی سال کے بوڑھے مجاہد کے دل میں انگڑائی لے رہا ہے۔
(۲)قرآن بھی عظیم،حسین بھی عظیم
ایک رابطہ جوقرآن اورامام حسین ؑکے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ قرآن بھی عظیم ہے اور حسین ؑبھی عظیم ہیںاس لئے کہ ان دونوں کاسرچشمہ ایسی باعظمت ذات ہے جس کی عظمت لم یزل ہے،اسکی شان بھی لم یزل ہے وہ خودبھی لم یزل ہے،اس نے قرآن کو جاویدانی بنایا،حسین ؑکوبھی حیات جاوید سے نوازا۔
(۳)قرآن بھی عالمین کے لئے رحمت،حسین ؑبھی عالمین کے لئے رحمت
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن کوعالمین کے لئے رحمت بناکر بھیجااسی طرح حسین ؑبھی عالمین کے لئے رحمت ہیں، قرآن کے لئے ارشاد ہوتا ہے: {وانہ لھدی ورحمۃ للمومنین}(سورۂ نمل؍۷۷)اوریہ کتاب(قرآن کریم)ہدایت ہے اوررحمت ہے مومنین کے لئے،اس آیت میں کسی طرح کی کوئی قید وشرط نہیں لگائی گئی کہ کس زمانے کے مومنین اورکس علاقہ کے مومنین،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ہردورمیںہرمومن کے لئے رحمت ہے،یہ بات الگ ہے کہ ہم مومن ہی نہ ہوں۔
اور اُدھرحسین ؑکودیکھئے۔حسین ؑاس رسول ؐکانواسہ ہے جس کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہوتاہے: {وما ارسلناک الارحمۃ للعالمین}(انبیاء؍۱۰۷) اے رسول! ہم نے تمہیںعالمین کے لئے صرف اور صرف رحمت بناکربھیجاہے،اب آپ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ اس آیت سے حسین ؑکاکیامطلب؟تو عزیزو! رسول ؐکی حدیث یاد کیجئے: ’’حسین منی وانامن الحسین‘‘ حسین مجھ سے ہے اور میںحسین سے ہوں؛ رسولؐنے اس حدیث میں منیت کوبیان کیاہے اور منیت کا مطلب یہ ہوتاہے کہ جوخواص نسبت دینے والے میں پائے جاتے ہیںوہی خواص اس میںبھی موجود ہیںجس کو اپنی طرف نسبت دے رہا ہے؛ رسول ؐکی حدیث منیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح قرآن عالمین کے لئے رحمت ہے اسی طرح حسین بھی عالمین کے لئے رحمت ہیں۔
(۴)قرآن سید الکتب، امام حسین ؑسید الشہداء
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن کوسید الکتب کہا گیا ہے اسی طرح حسین ؑبھی سید الشہداء اور سردارجوانان جناںہیں،جس طرح قرآن کو تمام آسمانی و غیر آسمانی کتابوں پرفوقیت حاصل ہے اسی طرح حسین ؑکوبھی تمام شہداء اورتمام اہل بہشت پر فوقیت حاصل ہے؛ رسول اسلام ؐ نے فرمایا: ’’ان الحسن و الحسین سیدا شباب اہل الجنۃ‘‘ بے شک(میرے دونوںنواسے)حسن وحسین جوانان جنت کے سردارہیں۔
آج اس دنیا میںجنت تقسیم ہورہی ہے کہ ایک کوقتل کرواورجنت میں ایک حجرہ تمہارے نام لیکن یہ جنت تقسیم کرنے والے یہ بھول گئے کہ جنت ملکیت کس کی ہے؟دنیا میں فدک کوغصب کرلیا اب وہاں جاکرجنت کوبھی غصب کرناچاہتے ہیں!۔
(۵)قرآن بھی فاسق کا پردہ اٹھانے والا،حسین ؑبھی پردہ اٹھانے والے
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن نے منافقوںکے چہروںسے نقاب اٹھائی ہے اسی طرح حسین ؑنے بھی منافقوںکے چہرے پہچنوائے ہیں، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: {ان المنافقین والمنافقات بعضھم من بعض یامرون المنکروینھون عن المعروف }(توبہ؍۶۷)بے شک منافق مرد اور عورتوں کی علامت یہ ہے کہ ان میں سے بعض افرادبعض افرادکومنکرات کا حکم دیتے ہیںاورنیکیوںسے روکتے ہیں؛ قرآن نے یہاں منافق کاچہرہ دکھایاکہ منافقوں کی صفت یہ ہے کہ وہ قرآن کے برخلاف عمل کرتے ہیں؛ اسی طرح حسین ؑکو دیکھئے کہ جب آپ مدینہ سے خارج ہونے لگے اورلوگوںنے آپ کومشورہ دیا کہ کیا ضرورت ہے جانے کی تو آپ نے فرمایا: ’’الاترون الی الحق لایعمل بہ و الی الباطل لا یتناھی عنہ‘‘ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیاجارہا ہے اور باطل سے روکا نہیں جارہاہے! حسین ؑنے اپنے اس فقرہ سے سمجھادیا کہ منافقوںکاایک گروہ وجود میں آیا ہے میں اس کا پردہ فاش کرنے جارہا ہوں۔
(۶)قرآن بھی ہدایت،حسینؑ بھی چراغ ہدایت
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن کوہدایت قرار دیا گیا ہے اسی طرح حسین ؑبھی ہدایت ہیں؛ قرآن کے لئے ارشادہوتاہے:{ذالک الکتاب لاریب فیہ، ہدی للمتقین}(بقرہ؍۲)یہ وہ کتاب ہے کہ جس میںذرہ برابربھی شک وشبہہ کی گنجائش نہیں ہے،(یہ)صاحبان تقویٰ کے لئے ہدایت ہے۔
اور اُدھر حسین ؑکی شان میں رسول اسلامؐ فرماتے ہیں: ’’ان الحسین مصباح الھدیٰ و سفینۃ النجاۃ‘‘ بے شک حسین چراغ ہدایت و کشتی نجات ہیں۔یعنی جیسے قرآن ہدایت کرتاہے اسی طرح حسین ہدایت کرتے ہیں،جس طرح قرآن راہ نجات دکھاتاہے اسی طرح حسین بھی کشتی نجات ہیں۔
(۷)قرآن بھی شفیع،حسین ؑبھی شفیع
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن شفیع امت ہے اسی طرح حسین بھی شفاعت کرنے والے ہیں، قرآن کے لئے ارشادہوتاہے: ’’نعم الشفیع القرآن‘‘ یعنی قرآن بہترین شفاعت کرنے والا ہے، اور اُدھرامام حسین ؑکی شفاعت کے بارے میں دعاکی جاتی ہے: ’’اللھم ارزقنی شفاعۃ الحسین‘‘اے معبود ! ہمیں شفاعت حسین سے بہرہ مند فرما۔اگرایک طرف سے قرآن کی شفاعت ہو اوردوسری جانب سے حسین ؑکی شفاعت ہو تو اس سے بڑھ کر کیاخوش قسمتی ہوسکتی ہے!۔
(۸)قرآن بھی شفا،حسین ؑبھی شفا
ایک رابطہ یہ ہے کہ جس طرح قرآن شفا دیتا ہے اسی طرح حسین سے بھی شفا ملتی ہے، قرآن کے لئے ارشاد ہوتا ہے:{و ننزل من القرآن ما ھو شفاء و رحمۃ للمومنین}(اسراء؍۸۲)اورہم قرآن میں سے وہی نازل کرتے ہیںجس میںمومنین کے لئے شفا اور رحمت ہوتی ہے۔
اور حسین ؑکی ذات میں ایسی شفارکھی گئی کہ جس خاک میں آپ کالہو مل گیا وہ خاک بھی خاک شفابن گئی۔حسین ؑکی زندگی میں شفا کے متعدد نمونے نظر آتے ہیں،جب فطرس شفاحاصل کرنے آیا تورسولؐ نے حکم دیا کہ حسین ؑکے گہوارے سے مس کردو، فطرس کو مس کیا گیااور شفا مل گئی،اب ہم پر یہ اعتراض نہ کرنا کہ گہوارہ کیوںسجاتے ہو! ۔
قرآن اورحسین ؑہمیشہ ایک ساتھ رہے اورایک ساتھ ہی رہیںگے،ان میں جدائی محال ہے اس لئے کہ رسول صادقؐ کاقول ہے جوجھوٹ نہیں بولتااور اس کی زبان پر وحی کاپہرہ ہے یہ تووہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے، حسین ؑاور قرآن کی معیت کو رسولؐ نے اس طرح بیان فرمایا: ’’انی تارک فیکم الثقلین،کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی، ان تمسکتم بھما لن تضلوابعدی‘‘یعنی میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت میرے اہل بیتؑ، اگر تم ان دونوں سے متمسک رہوگے تومیرے بعد کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے۔
رسولؐ نے دونوںکوایک ساتھ لینے کاحکم دیا ہے ’’قرآن واہل بیت‘‘اوراہل بیت ؑکی ایک فردکانام حسین ؑہے،حسین اصحاب کساء کی پانچویں فرد ہے، حضور اکرمؐ کادونوں کو ایک ساتھ بیان کرنابتارہا ہے کہ فقط ایک کادامن تھام لینے سے منزل مقصودحاصل نہیں ہوگی،اگرمنزل نجات تک رسائی کے خواہاں ہیں تو دونوںکا دامن ایک ساتھ تھامنا ہوگا، ’’حسبنا کتاب اللہ‘‘ کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے اس لئے کہ کتاب تو کسی حالت میں کافی ہو ہی نہیں سکتی، اگر کتاب کافی ہوتی تو شاہراہوں پر،چوراہوںپرقوانین کی کتاب کورکھ دیا جاتا،یہ ٹریفک پولیس کاوجودبتارہا ہے کہ خالی کتاب کافی نہیں ہے بلکہ کوئی ایسا ہونا چاہئے جوکتاب کا مطالعہ کرکے قوانین کو نافذکرے، اس ترقی یافتہ دورمیں جب کہ ہر چوراہے پر ریڈاورگرین لائٹیں لگی ہوئی ہیںاس کے باوجودبھی ہم بعض مقامات پر دیکھتے ہیںکہ ٹریفک پولیس کھڑی ہوئی ہے،ہم سوال کرتے ہیں کہ بھائی ایسا کیوں؟جب لائٹ موجودہے توتمہاری کیاضرورت ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ لائٹ خراب ہوگئی، اب سمجھ میں آیا لائٹ کاہونایاقانونی کتاب کاہوناکافی نہیں ہے بلکہ ایک قانون داںکی بھی ضرورت ہے، لہٰذا یہ سمجھ لیجئے اگر قرآن کتاب قانون ہے تو قانون داں کوحسین ؑکہاجاتاہے۔
قرآن اور حسین ؑمیں وہی رابطہ ہے جولفظ جمال اورلفظ زینت کے درمیان ہے؛ جمال کسے کہتے ہیں؟ انسان کی اندرونی صفات حسنہ کوجمال کہاجاتا ہے، زینت صرف ظاہری آرائش کوکہاجاتاہے، حسین ؑجمال ہیں توقرآن زینت ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرقرآن کے باطن کوسمجھنا ہے تو پہلے حسین کوسمجھنا ہوگا، قرآن حسین کاظاہر ہے اور حسین ؑ قرآن کاباطن ہے،اگرحسین ؑکوسمجھ لیاتوقرآن خودبخودسمجھ میں آجائے گااوراگرحسین ؑکو نہیں سمجھے توقرآن کے حافظ توبن سکتے ہیں لیکن سمجھ نہیںسکتے۔ آخرکلام میں حسن ختام کے عنوان سے یہ کہوںگاکہ حسین اورقرآن کی جدائی کاتصورکرنابھی محال ہے،اس جملہ کواگر ایسے تعبیرکروںتوبہتر ہوگاکہ قرآن و حسین ؑایک ایسی تحریرہے کہ اگرتفسیرکی جائے تو قرآن بنتاہے اوراگراس کالب لباب کیاجائے توحسین ؑبنتاہے۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ