-
پاکستان کے حالیہ انتخابات انہتا پسندی کے منھ پر زور دار طمانچہ
- سیاسی
- گھر
پاکستان کے حالیہ انتخابات انہتا پسندی کے منھ پر زور دار طمانچہ
1441
M.U.H
02/08/2018
0
0
سید نجیب الحسن زیدی
’’ میں لشکر جھنگوی کا میں نام لیکر کہتا ہوں کہ اس دہشت گردی کو آپ اگر اسلام کا نام دے رہے ہیں اور یہ کام آپ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں تو آپ سے زیادہ اسلام سے کوئی دشمنی نہیں کر سکتا اسلام تو ہے ہی انسانیت کا نام یہ تو آپ کافروں کے ساتھ بھی نہیں کر سکتے جو آپ اپنے ہی مذہب کے ایک دوسرے فرقے کے ساتھ کر رہے ہیں ، میں آپکی سخت مذمت کرتا ہوں ، میں پاکستانی قوم کی طرف سے آپ کی سخت مذمت کرتا ہوں ، اور میں یہ کہتا ہوں یہ جو ہشت گردی آپ کر رہے ہیں تو آپ اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں آپ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور آپ انسان کے بھی دشمن ہیں ، انسانیت کے دشمن ہیں ـ‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو پاکستان کے متوقع وزیر اعظم و تحریک انصاف کے چئر مین عمران خان نے اپنے انتخابی منشور کے ساتھ دہشت گرد تنطیموں کے سلسلہ سے اپنے موقف کورکھتے ہوئے بیان کئے تھے ، ‘
عوام نے ان الفاظ کو اپنی روح میں اتار لیا اور پھر جو رد عمل عوام کے ذریعہ سامنے آیا سبکی آنکھوں کے سامنے ہے نہ صرف لشکر جھنگوی بلکہ مکمل طور پر ان طاقتوں کا صفایا ہو گیا جنہوں نے پاکستان کو ، فرقہ واریت کی آگ میں جھونک رکھا تھا ۔ الیکشن کے نتائج سامنے ہیں اور پاکستان میں عرصے کے بعد فسطائی طاقتوں کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑ ا ہے ، مذہبی انتہا پسندی کے نام پر سیاست کرنے والوں کو تاریخ کی بد ترین ہار سے دوچار ہونا پڑا ہے اور یہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کی بہت بڑی فتح ہے
ذران ناموں پر غور کریں رانا ثنا ء اللہ اورنگ زیب فاروقی ،محمود اچک زئی ، فضل الرحمن ، سراج الحق ، اسندریا یار ولی ، احمد لدھیانوی ، یہ وہ بڑے نام ہیں جو پاکستان میں ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی کے شعلوں کو بھڑکا کر فرقہ ورارانہ سیاست کرتے آئے ہیں ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو براہ راست پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی سے وابستہ ہیں اور کچھ وہ ہیں جو در پردہ شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتے رہے ہیں ان سبھی کو بری طرح شکست ملنا پاکستانی عوام کے بیدار شعور کی دلیل ہے ،ممکن ہے ان مذکورہ ناموں میں کوئی فرد کئی جگہوں سے کھڑا ہونے کی بنا پر کسی ایک جگہ سے اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہو گیا ہو لیکن شدت پسند طرز فکررکھنے والوں کی غالب اکثریت کو عوام کی جانب سے مسترد کیا جانا اپنے آپ میں ایک خوش آئند مستقبل کی نوید ہے ۔
پاکستان میں ہونے والے یہ الیکشن اس لئے بھی قابل ستائش ہیں کہ دہشت گرد طاقتوں نے ایک بار پھر چاہا کہ یہ انتخابات صحیح ڈھنگ سے انجام نہ پا سکیں اور مسلسل ایسی وارداتیں ہوئیں کہ لوگ ووٹ ڈالنے نہ جا سکیں ، لیکن انتخابی جلسوں اور تشہیری کیمپوں میں بم دھماکے بھی پاکستانی عوام کو حق رائے دہی سے روکنے میں ناکام رہے ۔
پاکستان کے حالیہ انتخابات کو مذہبی انتہا پسندی کے منھ پر پاکستانی عوام کے زور دار طمانچہ سے اس لئے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ابھی تک اس طمانچہ کے نشان ہارنے والوں کے رخساروں پر ہیں اور وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے تحت مسلسل اپنی فضیحت مٹانے کے لئے ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے انکی کوتاہ فکری و تنگ نظری کا احساس ہو نے کے ساتھ یہ بات پتہ چل رہی ہے کہ انکے نزدیک جمہوریت کا تصور بس یہ ہے کہ مسلسل وہ منتخب ہوتے رہیں اور بس ۔
اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان انتہا پسندوں کی پشت پر کچھ ایسی طاقتیں بھی کھڑی ہیں جو بظاہر جمہوریت و ڈموکراسی کا ساری دنیا میں پرچم لہراتے ہوئے در پردہ آمریت کو مضبوط کرتی نظر آتی ہیں ۔پاکستانی الیکشن میں بی بی سی کی رپورٹنگ کا طریقہ کار ہو جس میں بار ہا اس الیکشن کو مذہبی بنیادوں پر ہونے والے الیکشن کے طور پر متعارف کرانے کی بات کو یا امریکی و مغربی اخبارات کے تجزئے ہوں ان میں یہی دکھانے کی کوشش کی گئی کہ تحریک انصاف جماعت کے مذہبی شدت پسندانہ تصور رکھنے والے عناصر سے گہرے تعلقات ہیں ،حتی الیکشن میں ناقابل یقین تعداد میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی واضح کامیابی کے بعد بعض بڑی نیوز ایجنسیز نے یہ تک دکھانے کی کوشش کی کہ یہ الیکشن پہلے سے فکسڈ تھا اور درحقیقت عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل تھی نیز غیر محسوس طور پر یہ بات باور کرانے کے لئے پاکستانی کے فوجی جنرل کے ساتھ ایسا کارٹون بھی بنایا گیا جس میں فوجی جنرل تحریک انصاف کا بلا لئے عمران خان کو پچ پر بیٹنگ کراتے نظر آ رہے ہیں ۔
کیا یہ قابل غور نہیں کہ اگر تحریک انصاف کا تعلق انتہا پسند تنظیموں سے ہے تو انتہا پسندانہ فکر کے حامل افراد کو تو زیادہ تر فاتح ہونا چاہیے تھا اور تحریک انصاف کو یا تو وہاں اپنا امید وار نہیں کھڑا کرنا چاہیے تھا جہاں کوئی انتہا پسند کھڑا ہے ، یا امید وار کو کھڑا کرنا ہی تھا تو ووٹ کاٹنے کی پالیسی کے تحت ایسا ہونا چاہیے تھا تاکہ مذہبی انتہا پسندی کے رجحان والے امید وار کی کامیابی کا راستہ صاف ہو سکے ، جبکہ بیشتر مقام پر انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے بڑے بڑے صنادید مذہب کو سیکولر طرز فکر رکھنے والے تحریک انصاف کے امید واروں کے سامنے دھول چاٹنا پڑی ہے یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے تمام امید وار سیکولر طرز فکر کے حامل ہوں بلکہ ان میں خاصی تعداد ان لوگوں کی ہے جنکی شناخت انکے دین و مذہب کی بنیاد پر ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ انکے یہاں دین کی تفسیر وہ نہیں جو تکفیری عناصر کرتے ہیں انکے یہاں دین کا مفہوم وہ نہیں جو یہ ہارنے والے بڑے بڑے نام پیش کرتے آئے ہیں اور رہ گئی بات الیکشن میں دھاندلی کی تو یہ ہارنے والے کم ظرفوں کی تاریخ پوری دنیا میں رہی ہے کہ بجائے اپنی شکست قبول کرنے اور جمہوریت پر یقین رکھنے وہ انتخابات پر ہی سوال کھڑے کرنے شروع کر دیتے ہیں اور پاکستان کے حالیہ انتخابات میں انکو اندازہ ہی نہیں تھا کہ عوام انکی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ملک کی ترقی و سالمیت کی خاطر اسے ووٹ دیں گے جسے وہ خود بہتر سمجھیں گے ، اسکی مثال جھنگ میں لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیم کی ناکامی ہے جس کے لئے واضح طور پر عمران خان نے انکا نام لیکر کہا تھا کہ انکا دین و مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے ساری دنیا میں لائو دکھائے جانے والے اپنے ایک پروگرام میں ببانگ دہل مذکورہ الفاظ کہہ کر اپنی پارٹی کی پالیسی کو واضح کر دیا اور عوام نے بھی ان کے واضح اور بے باک موقف پر انہیں خوب سراہا اور مذہبی منافرت کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں چن کر ایوان وزیر اعظم کی راہ انکے لئے ہموار کر دی ۔ عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ وہ ہر صورت میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں ، امید کہ پاکستانی عوام کے مذہبی انتہا پسندی کے رخ پر اس زور دار طمانچہ کی آواز وطن عزیز ہندوستان میں بھی سنائی دی ہوگی اور کیونکر نہ سنائی دی گئی ہوگی جبکہ دنیا میں سنی گئی تو ہندوستان تو پڑوسی ملک ہے دونوں کی اصل ایک ہے سرچشمہ ایک ہے دونوں مشرقی تہذیب کے عکاس ہیں سو یقینا جلد ہی ہندوستان میں بھی پاکستان جیسی تبدیلی آئے گی اور ہندوستانی عوام بھی ان طاقتوں کو سبق سکھائیں گے جو مذہب کو بنیاد بنا کر سیاست کرتی ہیں ، جسکی بنیاد پر انسانیت شرمسار ہوتی ہے ۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)