-
فیصلہ آگیا ، یہ سنسکاری نہیں زانی ہیں!
- سیاسی
- گھر
فیصلہ آگیا ، یہ سنسکاری نہیں زانی ہیں!
325
M.U.H
10/01/2024
0
0
تحریر: شکیل رشید
بلقیس بانو کے مجرموں کو پھر سے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا گیا، اس حکم کے لیے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے ۔ حالانکہ عدالت کا تو کام ہی انصاف کی فراہمی ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ شکریہ ضروری ہے ، کیونکہ عدالتوں نے ادھر ایک عرصے سے کچھ ایسے فیصلے کیے ہیں کہ ان پر سے بہتوں کا بھروسہ اٹھا ہوگا ۔ بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی اور آزادی میں بھی عدالتوں کا ایک بڑا کردار رہا ہے ۔ خیر دیر آید درست آید بلقیس بانو کو انصاف مل گیا یہ اہم بات ہے ۔ جب بلقیس بانو کے مجرموں کو باعزت بری کیا گیا تھا تب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھی کہ مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانے کی جو کوششیں شروع ہوئی ہیں یہ رہائی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے ۔ یہ ’رہائی‘ کا ایک پہلو تھا ۔ جی ہاں! اس ملک میں ایک عرصے سے کوشش یہی کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اوقات بتادی جائے۔ مطلب یہ کہ انہیں یہ بتا دیاجائے کہ سماج میں ان کی حقیقی جگہ کیا ہے ۔ یہ کون ہیں جو اوقات بتانا چاہتے ہیں ؟ یہ وہی ہیں جو بلقیس بانو کا اور نہ جانے کتنی ہی خواتین کا ریپ کرتے ہیں ، اور آرام کے ساتھ معافی پاکر جیل سے باہر آجاتے ہیں ، پھول سے لاد دئیے جاتے ہیں ، مٹھائیاں کھاتے اور کھلاتے ہیں ۔ اور ’سنسکاری‘ کہے جاتے ہیں ۔ ’ سنسکاری‘ کا مطلب ’ بااخلاق ‘ ہوتا ہے ! جی ! یہ جو یرقانی ہیں ، ان کی لغت میں زانی ، قاتل اور لٹیرے بااخلاق کہے جاتے ہیں ۔ وہ جو ’ ماب لنچنگ ‘ کرتے ہیں ، وہ بھی ان کے یہاں ’ بااخلاق ‘ یعنی ’ سنسکاری‘ ہیں ۔ اب یہی دیکھیے کہ دادری میں محمد اخلاق کی( جس کا ایک بیٹا فوجی ہے اور رات دن بھارتیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتا ہے) ’ ماب لنچنگ ‘ کرنے والے ایک مجرم روی عرف رابن کی موت کے بعد اس کی لاش کو ترنگے سے لپیٹا گیا تھا! جی ہاں ! یہ ہر اس شخص کو، جس نے کسی غیر ۔۔۔۔ مطلب کسی مسلمان یا دلت کی۔۔۔’ ماب لنچنگ ‘ کی ہو ، اسے ’ قوم پرست ‘ سمجھتے بھی ہیں اور کہتے بھی ہیں ۔ اس ملک میں یہ سب ۲۰۱۴ کے بعد سے ، مودی سرکار کا قیام ہوتے ہی شروع ہو گیا تھا ۔ یہ جو مجرم ہیں ریپ کے، فساد کے اور مآب لنچنگ کے ان کی پذیرائی پہلے نہیں کی جاتی تھی لیکن مودی حکومت کے قیام کے بعد پذیرائی کو ایک معمول بنا لیا گیا ۔ لوگ بھولے نہیں ہوں گے جھارکھنڈ میں ’ ماب لنچنگ ‘ کرنے والوں کو ایک بھاجپائی سیاست داں جینت سنہا نے جو یشونت سنہا کے صاحب زادے ہیں ہار پھول پہنائے تھے ، راجستھان میں افرازل کو لائیو زندہ جلانے والے شنبھو یادو کی حمایت میں ترنگا یاترا نکالی گئی تھی ، ان کے یہاں ہر وہ شخص جس نے فسادات کے دوران کسی غیر کی جان لی ہو ، اس کو اجاڑا ہو ، اس کے گھر کو دکان کو پھونکا ہو ، وہ سب کے سب ’ سنسکاری‘ ہیں ، ’ بااخلاق ‘ ہیں ، اور ’ قوم پرست ‘ ہیں ۔ اور آج اس ملک پر ’ سنسکاریوں‘ ، ’ بااخلاق لوگوں‘ اور ’ قوم پرستوں‘ ہی کا راج ہے ، اسی لیے تو ساری دنیا میں بھارت کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔ ہاں ! ایک بات اور ، وہ بھی جو غیروں کے مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کریں ، وہ تو ان کے یہاں پوجے جاتے ہیں ۔ دیکھ ہی لیں کہ نوپور شرما پر کتنی نکتہ چینی کی گئی ، گرفتاری کے لیے کیسے کیسے لوگوں نے آواز اُٹھائی ، ایف آئی آر درج کروائیں اور مظاہرے کیے ، لیکن وہ آزاد کی آزاد ہے ۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ ان کےلیے ’ قابل تعظیم ‘ ہے ۔ ٹھیک ہے جسے پوجنا ہے یہ انہیں پوجیں ، لیکن یہ حقیقتاً کیا ہیں اس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کر دیا ہے ، یہ مجرم ہیں ، یہ زانی ہیں ، یہ قاتل ہیں ، یہ لٹیرے ہیں ، یہ ظالم ہیں ، یہ جمہوریت اور شخصی آزادی کے دشمن ہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ابھی ادھورا ہے ، نہ جانے کتنی اور بلقیس بانو اس ملک میں ہیں ، انہیں بھی انصاف فراہم کیا جائے اور انہیں بھی جو ہجومی تشدد کا شکار ہوے ہیں ۔ اب ان سنسکاریوں پر روک لگنی ہی چاہیے ، انہیں سزا ملنی ہی چاہیے ، ان کی ناک میں نکیل پڑنا ہی چاہیے ، انہوں نے بہت دن تک قانون کی ڈھیل کا فائدہ اٹھایا ہے اب قانون کو سختی سے پیش آنا ہی چاہیے ۔ ان کے منصوبے آئین مخالف ہیں ، یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ، دلتوں اور پچھڑوں کو ان کی صحیح جگہ پر لا کر بٹھادیاجائے ، انہیں ان کی ’ اوقات ‘ بتادی جائے ۔ بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی اسی لیے کی گئی تھی ۔ یہ جتانا مقصود تھا کہ ’ ہم جو چاہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔‘ اس منصوبے کے خلاف بلقیس بانو کی طرح ہمت اور بہادری سے لڑائی لڑنا ہوگی ۔ بلقیس بانو نے ایک راہ دکھا دی ہے ، اس باہمت خاتون کو سلام ہے!