تحریر: پنکج چترویدی
اندور شہر کو پچھلے 7 سالوں سے ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر کا اعزاز مل رہا ہے۔ وہاں 16 سے زیادہ لوگوں کی موت اس لیے ہو گئی کیونکہ سیور لائن اور پائپ لائن کے جُڑ جانے کی وجہ سے ہونے والے لیکیج کی 4 ماہ سے زیادہ عرصہ سے مل رہی شکایات پر کسی نے کان دینا ضروری نہیں سمجھا۔ ہاں، اب اندور کو وبا سے متاثرہ قرار دے دیا گیا ہے۔ چیف میڈیکل اور ہیلتھ افسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مادھو حسنانی نے کہا کہ ’’جب کسی مخصوص علاقے میں معمول سے زیادہ معاملے ہوتے ہیں تو وبا قرار دی جاتی ہے۔ ہم اس پھیلاؤ کو اسی پیمانے پر دیکھ رہے ہیں۔‘‘
اندور میں ایک صنعتی علاقہ سے متصل بھاگیرتھ پورہ گھنی آبادی ہے۔ وہاں لوگ 4 ماہ سے شکایت کر رہے تھے کہ ان کے نلوں سے بدبودار پانی آ رہا ہے۔ تقریباً اتنے ہی عرصہ سے پانی کی سپلائی کی پائپ بدلنے کے ٹھیکے کی فائل میونسپل کارپوریشن میں ایک ہی میز پر رکھی رہی۔ جب اس وجہ سے لوگوں کی موت ہونے لگی، تب افسروں کی نیند کھلی۔ گزشتہ 3 جنوری سے 7 جنوری کے درمیان تقریباً 40,000 لوگوں کی جانچ کی گئی، جن میں تقریباً 2,456 لوگوں میں انفیکشن کی علامات ملیں۔ 162 سے زیادہ لوگوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا جن میں سے تقریباً 26 لوگ آئی سی یو میں تشویشناک حالت میں ہیں۔
یہ اس شہر کا حال ہے جس کے رکن پارلیمنٹ، تمام 8 اراکین اسمبلی اور کارپوریشن کے میئر بی جے پی کے ہیں۔ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت تو بی جے پی کی ہے ہی۔ اندور کے انچارج وزیر خود وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو ہیں۔ ریاست کے شہری ترقی کے وزیر کیلاش وجئے ورگیہ اسی شہر کی ایک سیٹ سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود سادھنا اور سنیل ساہو کے اس نوزائیدہ بیٹے سمیت کئی لوگوں کو نہیں بچایا جا سکا جن کی تڑپ تڑپ کر موت ہو گئی۔ سادھنا اور سنیل کو شادی کے 10 سال بعد کئی منتوں کے بعد بیٹا نصیب ہوا تھا۔ حمل کے دوران ماں کو پورے 9 مہینے بیڈ ریسٹ کرنا پڑا تھا۔ بچے کو دیے جانے والے دودھ میں ماں نے میونسپل کارپوریشن کے نل کا پانی اس لیے ملایا تھا کہ وہ اسے آسانی سے ہضم کر لے۔ لیکن اس سے بچے کو قے اور دست کی شدید شکایت ہوئی اور اس نے 29 دسمبر 2025 کو علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
یہ بات اندور کے میئر پشیہ متر بھارگو عوامی طور پر کہتے رہے ہیں کہ اندور کے لوگ پانی نہیں، گھی پیتے ہیں کیونکہ یہاں پانی کی سپلائی بہت مہنگی ہے۔ اندور کا بنیادی آبی ذریعہ نرمدا ندی ہے جو شہر سے تقریباً 80 کلومیٹر دور اور سطحِ سمندر سے بہت نیچے بہتی ہے۔ نرمدا کے پانی کو خرگون میں جلود پمپنگ اسٹیشن سے اندور لانے کے لیے تقریباً 500 سے 600 میٹر (تقریباً 1,800 فٹ) کی بلندی تک لفٹ کرنا پڑتا ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن کو اس پانی کو پمپ کرنے کے لیے ہر ماہ تقریباً 25 سے 30 کروڑ روپے صرف بجلی کے بل کی مد میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اندور میں 1,000 لیٹر (1 کلو لیٹر) پانی پہنچانے کی لاگت تقریباً 21 سے 25 روپے کے درمیان ہے، جبکہ اسی کام کے لیے دوسرے شہروں میں کیا جانے والا خرچ زیادہ سے زیادہ 5 یا 6 روپے ہوتا ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن پانی کی فراہمی پر سالانہ تقریباً 350 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس میں سے بھی تقریباً 35 سے 40 فیصد پانی یا تو بہہ جاتا ہے یا اس کی چوری ہو جاتی ہے، جسے سرکاری زبان میں ’ان اکاؤنٹیڈ فار واٹر‘ (یو ایف ڈبلیو) کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے، یہ پیسوں کی بربادی ہے۔
بھاگیرتھ پورہ نچلے متوسط طبقے کی رہائش گاہ ہے۔ پاس ہی صنعتی علاقہ ہے، اس لیے یہاں کی بڑی آبادی مزدوری کے لیے دہائیوں پہلے باہر سے آئی اور پھر یہیں بس گئی۔ ابتدائی جانچ میں پایا گیا ہے کہ علاقہ میں پینے کے پانی کی مرکزی پائپ لائن ایک عوامی بیت الخلا کے عین نیچے سے گزرتی تھی۔ دہائیوں پرانی اس پائپ لائن میں ہونے والے لیکیج نے سیور کے پانی کو جذب کر لیا۔ جب نلوں سے پانی کی سپلائی شروع ہوئی تو وہ پانی نہیں بلکہ ٹائیفائیڈ، گیسٹرواینٹرائٹس وغیرہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کا ذریعہ تھا۔ دراصل ان گلیوں میں کبھی ٹیلی فون والوں نے تو کبھی سیور والوں نے کھدائی کی اور اس دوران ٹوٹے ہوئے پانی کی سپلائی کے پائپ کو لاپروائی سے جوڑ دیا۔
ابھی 5 دہائی پہلے تک اندور میں دو ندیاں تھیں۔ یہاں پچاس سے زیادہ تالاب اور کوئی 650 کنویں اور باولیاں بھی تھیں۔ شہرکاری سب کو نگلتی گئی اور پینے کے پانی کے لیے صرف نرمدا پر انحصار برقرار رہ گیا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس ضلع میں شہر سے کچھ ہی فاصلہ پر ساڑھے سات ندیوں کا سنگم ہو، وہ بھاری خرچ کرنے کے بعد بھی طلب سے تقریباً 130 ایم ایل ڈی کم پانی ہی سپلائی کر پا رہا ہے۔ جاناپاؤ پہاڑی سے نکلنے والی چمبل، گمبھیر، انگرید، سُمریا، بیرم، چورل، کارم، نیکیدیشوری ندیوں میں سے کچھ جمنا میں اور کچھ نرمدا میں ملتی ہیں۔ پھر بھی خستہ حال پائپوں سے مہنگا پانی بھیجنا مجبوری نہیں، ایک بڑی سازش لگتی ہے۔
اندور میں نئے پمپنگ اسٹیشن لگانے، پرانی پائپ لائنوں کو بدلنے اور پانی کی سپلائی کا نیٹورک بڑھانے پر 2015 اور 2021 کے درمیان 650 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ مدھیہ پردیش پولیوشن کنٹرول بورڈ کے علاقائی دفتر نے 17-2016 اور 18-2017 میں شہر کے 60 مقامات سے پینے کے پانی کے نمونے لے کر جانچ کے لیے لیب بھیجے تھے۔ اس کی رپورٹ 2019 میں آئی۔ 60 میں سے 59 نمونے فیل نکلے تھے۔ جن 59 مقامات پر پانی پینے کے قابل نہیں پایا گیا تھا، ان میں بھاگیرتھ پورہ گلی نمبر 1 اور 2 بھی شامل تھیں۔ بورڈ نے 2022 تک میونسپل کارپوریشن کو 3 بار خط لکھ کر خبردار کیا کہ ان مقامات پر پینے کا پانی علاج کے بعد ہی استعمال کیا جائے۔ جب کارپوریشن نے کوئی کارروائی نہیں کی تو بورڈ کے علاقائی دفتر نے سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ، بھوپال کو بھی خط لکھ کر اس کی اطلاع دی تھی۔
ایک اور بات۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈریم پروجیکٹ ہے ’وزیر اعظم امرت یوجنا‘۔ اسے وزیر اعظم نے جون 2015 میں لانچ کیا تھا۔ اس کا مقصد ملک کے تمام شہروں میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کنکشن فراہم کرنا ہے۔ ابھی اگست 2025 میں ’امرت-2‘ کے تحت اندور میونسپل کارپوریشن نے 1,073 کروڑ روپے کا ٹھیکہ ایس پی ایم ایل انفرا لمیٹڈ کو پائپ لائن بچھانے اور نیا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے کے لیے دیا ہے۔ اس کے باوجود اس طرح کی اموات ہو رہی ہیں۔
اندور میں اسمارٹ سٹی کے نام پر بھی کئی کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ کیا وہ پیسے بھی نالیوں میں ہی بہہ گئے؟ اس واقعہ کے بعد کچھ سینئر افسروں کا تبادلہ کر دیا گیا جبکہ کچھ جونیئر افسروں کو معطل کیا گیا اور جانچ کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ لیکن اب تک اس بات کا جواب کوئی دینے کو تیار نہیں ہے کہ پینے کے پانی کی پائپ لائن اور سیوریج لائن کو محفوظ فاصلے پر نہ بچھائے جانے کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ بھی ستم ظریفی ہی ہے کہ جس بھاگیرتھ پورہ میں اتنا بڑی سانحہ پیش آیا ہے، اس کے کونسلر کمال بگھیلا کو علاقے میں سڑکوں اور ڈرینیج کا بہتر انتظام کرنے کے لیے میئر بھارگو نے بہترین کونسلر کا ایوارڈ دیا تھا۔ بھاگیرتھ پورہ میں اموات کے سلسلہ کے درمیان جائے وقوع سے واپس آ کر جب ایک ٹی وی چینل کے صحافی انوراگ دواری نے شہری ترقی کے وزیر کیلاش وجئے ورگیہ سے سوال پوچھا تو انہوں نے کیمرے کے سامنے ہی کہا کہ وہ حقائق کے بارے میں ’گھنٹہ‘ جانتے ہیں۔ بعد میں، کیلاش کو ٹویٹ کر کے اس کے لیے معافی مانگنی پڑی۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ دیگر مبینہ نیوز ویڈیوز میں بعد میں یہ بھی دکھایا جانے لگا کہ کیلاش کس طرح رات میں جاگ کر بھی موقع پر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔
مسئلہ دراصل صرف اندور کا ہی نہیں ہے۔ وہاں تو مسئلہ سنگین ہو گیا اور اموات ہوئیں، اس لیے دکھائی دے رہا ہے۔ بھوپال اور رتلام ہی نہیں، وزیر اعلیٰ موہن یادو کے علاقہ اجین تک سے بھی گندے پانی کی سپلائی ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ معلوم نہیں، اس طرف ابھی کسی کی توجہ ہے یا نہیں!