-
تاریخ اور نصاب میں تبدیلی اقتدار کے بقا کی ضمانت نہیں
- سیاسی
- گھر
تاریخ اور نصاب میں تبدیلی اقتدار کے بقا کی ضمانت نہیں
548
M.U.H
21/05/2024
0
0
تحریر:عادل فراز
حکومتوں نے ہمیشہ تاریخ نویسی پر خاص توجہ مرکوز کی ہے ۔اس کے لئے وقائع نویس اور محرر مقرر کئے جاتے تھے۔دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں کسی نا کسی سطح پر قائع نویسی کا عمل موجود رہاہے ،خواہ پتھروں پر عبارتیں کندہ کی گئی ہوں یا پھر ہڈیوں اور درخت کی چھالوں پر لکھا گیاہو۔کاغذ کی ایجاد کے بعد وقائع نویسی کی مختلف شکلیں ظہور میں آئیں ۔گوکہ ان میں تجزیاتی انداز کا فقدان تھالیکن ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔اسلامی عہد سلطنت میں بھی تاریخ نویسی کو خاص اہمیت دی گئی ۔اس کے لئے علما اور دانشور مقرر کئے جاتے تھے جو حکومت کی نگرانی میں تاریخ لکھتے تھے ۔ابتدامیں یہ عمل ’وقائع نویسی ‘ تک محدود تھالیکن امتداد زمانہ کے ساتھ اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ہندوستان میں جو تاریخیں ابتدائی نمونوں کے طورپر ہمارے سامنےموجود ہیں ،ان کا انداز نگارش سادہ اور ’وقائع نگاری‘ سے ماخوذ ہے ۔غیاث الدین بلبن کے عہد میں جو تاریخ لکھی گئی اس میں اس کا نظریۂ حکومت پیش کیاگیاہے ۔مولانا منہاج سراج نے اپنا مطمح نظر بیان کرنے کے بجائے اپنے ولیٔ نعمت کے نظریے کے اظہار کو ترجیح دی ۔اس کے بعد ضیاءالدین برنی نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔فیروز شاہ نے اپنے خلاف بغاوت میں تعاون کے الزام میں انہیں گرفتار بھی کروایا لیکن رہائی کے بعد بھی وہ دربار سے وابستہ رہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ علما اور مورخین کے پاس حکومتوں سے انسلاک کے علاوہ کوئی متبادل راستہ موجود نہیں تھا۔بعض وہ علما اور دانشور جو حکومتوں سے الگ تھلگ رہے انہوں نے بھی بادشاہوں کے نظریات کی اصلاح کی قابل ذکر کوشش نہیں کی ۔ملّا عبدالقادر بدایونی نے اکبر کے عہد میں مخفی طورپر ’منتخب التواریخ ‘ تحریر کی۔اس عہد میں کسی کو یہ علم نہیں تھاکہ ملّا بدایونی اکبر کے عہد کی تاریخ لکھ رہے ہیں ۔جہاں گیر کے عہد میں ملّا بدایونی کی وفات کے بعد اس تاریخ کی بھنک حکومت کو پڑی ۔ملّاصاحب کے بیٹوں کو جہاں گیر کے اشارے پر گرفتار کرکے دربار میں پیش کیا گیا اور اس تاریخ کے بارے میں دریافت کیا گیا۔انہوں نے حلفیہ بیان دیاکہ انہیں اس تاریخ کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے جس کے بعد ان کی جاں بخشی ہوئی ۔گویاکہ ہر عہد میں جہاں حکومتوں نے اپنے مورخوں کے ذریعہ تاریخ لکھوائی وہیں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے تھے جو حکومتوں کی منشا کے خلاف تاریخ کو تشکیل دیتے تھے ۔کیونکہ حکومتیں کبھی یہ نہیں چاہتیںکہ ان کے مخالف تاریخ لکھی جائے ۔اس لئےحکومتی سطح پر تاریخ لکھوائی جاتی تھی تاکہ مورخ تمام واقعات بادشاہ کی نگرانی میں قلم بندکرے ۔اورنگ زیب تو تاریخ نویسی کے عمل سے اس قدر ناراض ہواکہ اس نے تاریخ نویسی کے دفترکو ہی بند کرادیاتھا ۔اس کے باوجود اورنگ زیب کا عہد مورخ کے قلم سے باہر نہیں رہا۔
مغلوں کے عہد زوال میں انگریزوں نے تاریخ سازی کے عمل کا آغاز کردیاتھا ۔اس کے لئے انہوں نے اپنے مقرر کردہ افراد۔ایسے مورخین کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے انگریزوں کی ایما پر ان کے حسب منشا تاریخ لکھی ۔اس کے لئے الگ پورا نظام ترتیب دیا گیا تھاجس کی نگرانی فورٹ ولیم کالج کے پروفیسر حضرات کرتےتھے ۔انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کو از سرنو لکھوایا تاکہ وہ اپنے عہد کو گذشتہ تمام حکمرانوں سے بہتر ثابت کرسکیں ۔اس کے لئےمختلف ریاستوں میں ایسے مورخین کو مقرر کیاگیا جو ہندوستان کے مسلمان فرماں روائوں کے کارناموں کو گھٹاکر پیش کریں اور ان کی کردار کشی اس لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے ۔جب ۱۸۵۷ء میں بغاوت کا بگل بجا تو اس کی زد میں انگریز حکومت تھی ۔اگر تاریخ میں بدلائو کی بنیاد پر وہ عوامی مزاحمت کو دباسکتے تو ۱۸۵۷ء کی بغاوت معرض وجود میں نہیں آتی ۔۱۸۵۷ء کے بعد انگریزوں نے مسلسل تاریخ میں بدلائو کئے اور اپنی مرضی کے مطابق نصاب ترتیب دیا۔اس کے باجود وہ ۱۸۵۷ء کی بغاوت کی دبی ہوئی چنگاریوں کو بجھانہیں سکے اور بالآخر۱۹۴۷ء میں انہیں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تاریخ میں بدلائو کی بنیاد پر عوامی مزاحمت کو دبایا نہیں جاسکتا۔اس سے حکمراں جماعت بی جے پی اورآرایس ایس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تاریخ اور نصاب میں بدلائو کی بنیاد پر نسلوں کو گمراہ ضرور کیاجاسکتاہے لیکن بہت عرصے تک انہیں دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا۔کہیں نا کہیں ایسے افراد معاشرے میں ضرور جنم لیتے ہیں جو تاریخ کو درست کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں اور حکمراں جماعت کا تختہ پلٹ دیتے ہیں ۔اودھ کے حکمرانوں سے متعلق انگریزوں نے کیا کچھ نہیں لکھوایا۔حتیٰ کہ انہیں عیاش اور نااہل تک کہاگیا ۔ان کا تشکیل دادہ بیانیہ آج بھی ہندوستان میں موجود ہے لیکن ہندوستان اب بھی ایسے افراد سے خالی نہیں ہے جنہوں نے اودھ کی تاریخ کی تہوں کو کھنگالا اور اس کی از سرنو ترتیب کی ،ان میں ڈاکٹر بھٹناگر جیسے مورخین شامل ہیں ۔اس لئے بی جے پی کو یہ نہیں سوچناچاہیے کہ نصاب اور تاریخ میں تبدیلی کی بنیاد پر وہ ہمیشہ اقتدار پر قابض رہیں گے ۔اگر ایساہوتا تو انگریزوں کے اقتدار کو کبھی زوال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
حکمراں جماعت نصاب میں شامل تاریخی ابواب میں تبدیلی پر مصر ہے ۔خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کو بدلنے اور اس کو اپنے مطابق لکھنے کا عمل جاری ہے ۔ان کا مانناہے کہ مسلم فرماروائوں کی جو تاریخ نصاب میں شامل ہے اس میں ان کی بے جا تعریف کی گئی ہے۔ان کے مطابق تعریف کا یہ رجحان کانگریس کے زمانے میں شروع ہوا،جس کا خمیازہ ہندوستان کی نسلوں کو بھگتنا پڑاہے ۔اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ نصاب میں صحیح تاریخ کو پڑھایاجائے ۔ترمیم و تنسیخ کا یہ سلسلہ مختلف ریاستوں میں جاری ہے اور تاریخ کو اپنے لحاظ سے لکھوایاجارہاہے ۔یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ہندوقوم پرستی کے متعلق نظریات کو بھی حذف کردیاگیاہے ۔ان کے قاتل گوڈسے کی زندگی کے بارے میں بھی الگ باب ترتیب دیا گیا ۔جب کہ گوڈسے کا مسئلہ ہندواور مسلمان کا مسئلہ نہیں تھا مگر اس کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیدیاگیاتاکہ ہندوئوں کو یہ باور کرادیاجائے کہ گاندھی جی مسلم قوم پرستی کی طرف مائل تھے ۔جب کہ تاریخی شواہد یہ بتلاتے ہیں کہ ہندوقوم پرستی کے سلسلے میں گاندھی جی کا نظریہ بہت واضح تھا ،جس کی نظریاتی بنیادیں تقسیم ہند کے المیے میں بھی نظر آتی ہیں ۔
اسی طرز پر گجرات فساد کے باب کو بھی نصاب سے ہٹادیاگیاہے کیونکہ اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصیت داغ دار ہورہی تھی ۔یوں بھی اس باب کی نصاب میں اب کوئی ضرورت نہیں رہ گئی تھی کیونکہ وزیر اعظم کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب اترچکی ہے اور پورا ملک جانتاہے کہ ان کا سیاسی نظریہ مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے ۔اس لئے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں سیاسی و سماجی طورپر حاشیے پر دھکیل دینے میں بظاہر زیادہ فرق نہیں ہے ۔گذشتہ دس سالوں میں ان کا نیا نظریاتی جنم ہواہے اس لئے گجرات فساد میں ’دراندازوں‘ کا قتل ہواتھا جس پر نہ حکومتوں نے کوئی سنجیدہ موقف اختیار کیا اور نہ عدالت سے مسلمانوں کو انصاف ملا۔جہاں عدالتیں ’عقیدت ‘ کی بنیاد پر فیصلے سناتی ہوں ،وہاں انصاف کی امید رکھنا بھی خودفریبی ہے ۔بی جے پی اور آرایس ایس نے ان تمام موضوعات کو اقتدار کے حصول اور ہندوئوں کو متحد کرنے کا ذریعہ بنالیاہے ۔ایسے تمام موضوعات ان کے لئے نظریاتی ہتھیار ہیں تاکہ اس ملک کو ہندو اکثریتی ملک میں بدلاجاسکے ۔اس راہ میں بی جے پی اور آرایس ایس مسلسل کوشاں ہیں اور ان کے ساتھ بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں مسلمان کہاجاتاہے ۔
المختصر! تاریخ اور نصاب میں تبدیلی اقتدار کی بقا کی ضامن نہیں ہوسکتی ۔ممکن ہے کچھ دیر کے لئے حکمراں طبقے کو ذہنی آسودگی مل جائے لیکن اس کو دوام نہیں ہوسکتا۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حکمراں حسب منشا تاریخ تو لکھواسکتےہیں لیکن تاریخ کتابوں میں نہیں ’بین السطور‘ ہوتی ہے ۔تاریخ کا ذہین طالب علم ان تاریخوں کی تہوں سے حقائق تلاش کرسکتاہےاور ایساکیا گیاہے ۔اس لئے موجودہ حکمرانوں کو بہتر نظام اور عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے ،ظلم اور نفرت کو نہیں ،تاکہ تاریخ ان کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کرسکے۔