-
نیا عالمی نظام اور طاقت کا توازن
- سیاسی
- گھر
نیا عالمی نظام اور طاقت کا توازن
612
m.u.h
26/09/2023
0
0
تحریر:عادل فراز
عالمی نظام (ورلڈ آڈر) میں برقی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔وہ عالمی نظام جو کبھی’ دوقطبی‘ اور ’یک قطبی‘ تھا اب کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہورہاہے۔اس تبدیلی نے عالمی طاقت کا توازن بھی بدل دیاہے ۔اس وقت عالمی سطح پر کسی ملک کی چودھراہٹ قائم نہیں ہے اور نہ کوئی’سُپر پاور ‘ ہے ۔مختلف طاقتوں کے اتحادیہ کے بغیر عالمی طاقت کا قیام ممکن نہیں ۔اس لئے یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ اس وقت کون عالمی طاقت کا درجہ رکھتاہے ۔دنیا میں اس وقت کئی طاقتوں کا اتحاد یہ منصہ شہود پر ہے ،جس نے کثیر قطبی نظام کو زندگی بخشی ہے اور یہی نظام دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہاہے ۔امریکی تجزیہ نگار بھی اب یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ’یک قطبی نظام ‘ نے دم توڑ دیاہے ،جبکہ ’یک قطبی نظام ‘ کبھی موجود ہی نہیں تھا ۔اگر اس تناظر میں امریکہ کودیکھاجائے تو وہ بھی مختلف طاقتوں کے اتحادیہ کی تشکیل کی بناپر عالمی طاقت کی کرسی پر براجمان تھا۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے نےاس نظام کو جنم دیا تھا ،جس کی موت کا اعلان امریکی وزیرخارجہ نے گذشتہ دنوں کردیا۔انہوں نے کہاکہ ’گذشتہ ورلڈ آڈر ختم ہوگیا‘۔گویا وہ اس نظام کی موت کا اعلان کررہے تھے جوسویت یونین ٹوٹنے کے بعد استعمارکی حمایت سےامریکہ کے مفاد میں تشکیل پایا تھا ۔یہ نیا نظام بھی جنگیں روکنے میں ناکام رہا بلکہ اس کی دلچسپی جنگوں میں زیادہ رہی ۔خاص طورپر ’اسلاموفوبیا‘ کو فروغ دیا گیا ،جس کے نتیجے میں کئی مسلمان ملکوں کو تباہ و برباد کردیاگیا۔
سویت یونین ٹوٹنے کے بعد استعماری نظام نےمزید پیر پسارنے شروع کئے ۔دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور شدید جانی ومالی نقصان کےباجود جنگجویانہ ذہنیت نے سکون کا سانس نہیں لیا ۔نیا نظام جو دنیا کو اپنی گرفت میں لینا چاہتاتھا اس نے اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے کوریا ،ویتنام ،افغانستان ،عراق ،یمن اور شام کو میدان جنگ بنادیا۔اس عہد میں کہ جب مسلمانوں کو عالمی دہشت گرد ثابت کیا جارہاتھا،سرد جنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔بلکہ ’اسلامی دہشت گردی‘ اسی سرد جنگ کے نتیجے میں وجودمیں آئی تھی ،جس کے پیچھے استعماری ذہنیت کارفرما تھی ۔دوسری جنگ عظیم کی آگ بھڑکانے والوں نے نیا نظام قائم کیا تھا ،جس کےنتیجے میں مختلف عالمی تنظیموں کو جنم دیا گیا۔اقوام متحدہ بھی اسی نظام کی پروردہ تنظیم ہے ،جس کا مقصد استعماری نظام کی پشت پناہی اور اس کےمفاد کا تحفظ کرناہے ۔یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ تقریباً ہر محاذ پر ناکام ہے اور کسی جنگ کو روکنے میں اس کا موثر کردار سامنے نہیں آیا ۔خاص طورپر کوریا،ویتنام ،عراق ،افغانستان ،یمن اور شام کی جنگوں اور ان جنگوں کے نتیجے میں پیداہوئے بحران پر اقوام متحدہ نے کوئی قابل ذکر کردار ادانہیں کیا ۔اس کا خمیازہ آج استعمار و استکبار کو اس شکل میں بھگتنا پڑرہاہے کہ اب نیاعالمی نظام معرض وجود میں آچکاہے ،جس میں یوروپی یونین اور ’ناٹو ممالک ‘ کے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اس نظام کی تاثیر رفتہ رفتہ ہمارے سامنےآرہی ہے ،جس کی ایک جھلک روس اور یوکرین کی جنگ میں بھی دیکھی گئی۔اس کے علاوہ ایشائی ملکوں کے اتحاد نے بھی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیاہے ۔اس اتحاد نے مختلف ملکوں کےدرمیان برس ہا برس سے چلی آرہی دشمنی کو بھی ختم کردیا ۔ایران اور سعودی عرب کےدرمیان تعلقات کی استواری کو بھی اس تناظر میں دیکھاجاسکتاہے۔
حال ہی میں امریکہ اور ایران نے کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔امریکہ جو کبھی ایران کے سامنے جھکنے کو ترجیح نہیں دیتا،اس بار جھکتا ہوا نظرآیا۔دونوں کے درمیان دیرینہ دشمنی ہے ،جس کو دوستی میں نہیں بدلا جاسکتا۔قیدیوں کے تبادلہ سے پہلے امریکہ نے ایران کے جنوبی کوریا میں منجمدچھ ارب ڈالر کے اثاثے کو بحال کیا،جسے قطر منتقل کیاجائے گا،کیونکہ اس مذاکرات میں قطر نےاہم کردار اداکیاہے ۔یہ واقعہ اس وقت رونما ہورہاہے کہ جب روس اور یوکرین کے درمیان پنجہ آزمائی جاری ہے ۔امریکہ اور اس کے حلیف ممالک یوکرین کی بھرپور پشت پناہی کررہے ہیں اور روس اپنے اتحادیوں کے ساتھ ان کے مقابلے پر ڈٹا ہواہے ۔ایسے اوقات میں امریکہ کا جھکنا اس کی عالمی حیثیت پرسوالیہ نشان ہے ۔یوں بھی ایران اس کی چودھراہٹ کو تسلیم نہیں کرتا۔ کئی موقعوں پراس نے امریکہ کا ناصرف دلیری سے مقابلہ کیا بلکہ اس کے اتحادیوں کو شکست بھی دی ۔شام ،عراق ،یمن اور فلسطین میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلسل شکست اس دعویٰ کی شہادت کے لئے کافی ہے ۔خاص طورپر حزب اللہ لبنان ،حماس ،حشد الشعبی اور یمنی مقاومتی تنظیموں نے اس کی عالمی ساکھ کو برباد کرکےرکھ دیا ۔استعماری طاقتوں کے بموجب ان تمام مقاومتی تنظیموں کو ایران کی کھلی حمایت حاصل ہے ۔ان کا یہ اعتراف ایران کی طاقت اور استکبار کی کمزور ی کو ظاہر کرتاہے ۔اب جبکہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں ،ایسے میں اسرائیل اور امریکہ جیسے ملک اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں مصروف ہیں ۔یہ کام آسان نہیں ہے ،البتہ جب تک عالمی استکباری نظام ان کی پشت پناہی کررہاہے ،اس وقت تک صورت حال کبھی بھی بدل سکتی ہے ۔
امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ دنیا سہ قطبی نظام کی طرف گامزن ہے ،تب یہ بھی نظام ’یک قطبی‘ یا ’دوقطبی‘ نظام سے مختلف نہیں ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہناکہ ’پرانا ورلڈ آڈر کا ختم ہورہاہے ‘ اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ اب د نیا کثیر قطبی نظام کی طرف جارہی ہے ۔ہرخطے میں مختلف طاقتوں کا ظہور ہوچکاہے ۔ان طاقتوں کا الگ اتحادیہ تشکیل پارہاہے ۔مسلمان ملک بھی اب ایک نئی طاقت کی شکل میں ظاہر ہوچکے ہیں ۔ان کے درمیان بھی اتحاد کی خوشگوار فضا قائم ہورہی ہے ۔اگر مسلم ملکوں کے درمیان بلاتفریق اتحاد تشکیل پاجاتاہے تواس کی عالمی حیثیت سے انکار نہیں کیاجاسکے گا۔اس راہ میں استعماری طاقتیں بڑی رکاوٹ ہیں ۔کئی عرب ملک استعماری طاقتوں کے زیر اثر ہیں جو اس اتحاد میں شامل ہونے سے کترارہے ہیں ۔البتہ وہ یہ باورکرچکے ہیں کہ ان کی بقا ’وحدت اسلامی ‘ کے قیام میں ہے ،اس لئے اس راہ میں مزید پیش رفت ہونے کی امید ہے ۔
نئے عالمی نظام کی تشکیل کے پیچھے تنہا فوجی طاقت کارفرما نہیں ہے بلکہ برآمد،درآمد کی صلاحیتیں،آبی گذرگاہوں اورراہداریوں پر کنٹرول،توانائی کے شعبے میں ان کی حیثیت اورعالمی منڈی پر اثرات کی بناپر مختلف ملک نیا اتحاد تشکیل دے رہے ہیں ۔حال ہی میں جی۔۲۰ کانفرنس میں جنوبی ایشیا،مغربی ایشیا اور یوروپی بندرگاہوں کو باہم جوڑنے والی راہداری’انڈیا، مڈل ایسٹ-یورپ کوریڈور‘ کے قیام پر غوروخوض کیا گیا،جس کے فوراً بعد ترکی نے اس راہداری میں خود کو شامل نہ کئے جانے پرناراضگی کا اظہارکیا۔اردوگان نے کہاکہ بغیر ترکی کی شمولیت کے اس راہداری کا قیام ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ راہداری ترکی سے ہوکر گذرے گی۔لہذا خواستہ نخواستہ اس راہداری کے قیام میں ترکی کو شامل کرنا عالمی طاقتوں کی مجبوری بن جائے گی۔اب دیکھنایہ ہے کہ جی۔۲۰ ممالک ترکی کوکس سیاست کے تحت مہار کرتے ہیں۔البتہ یہ کام مشکل نہیں ہے کیونکہ ترکی ’ناٹو‘ کا رکن بھی ہے۔البتہ عالمی تجزیہ نگاروں کےمطابق یہ راہداری چین کےتعاون سے جلدی تیار ہوسکتی تھی لیکن امریکہ اور کئی دوسرےملک چین کا تعاون نہیں چاہتے ۔یعنی آئندہ ہر لمحہ طاقت کا توازن بدلے گا ،جس میں مسلمان ملک بھی اہم کردار اداکریں گے ۔