-
یوم قدس، یوم شعور
- سیاسی
- گھر
یوم قدس، یوم شعور
723
M.U.H
28/04/2022
0
0
تحریر:سید علی ہاشم عابدی
اسلام و مسلمین کے خلاف امریکہ اور یورپ کی سازش کے نتیجہ میں 1948 عیسوی سے سرزمین فلسطین پر ظالم و ستمگر صیہونی قابض ہیں۔ نتیجہ میں فلسطینی اپنی ہی زمین پر بیگانے بن گئے اور یہ ظالم و قاتل مالک بنے بیٹھے ہیں۔ نہ صرف مالک بنے ہیں بلکہ صیہونی مسلسل فلسطینیوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں۔ اب تک ہزاروں انسان قتل ہو چکے ہیں، نہ جانے کتنی بستیاں اجڑ چکی ہیں، قبلہ اول ان کے قبضہ میں ہے، وہاں عبادت کرنے والے صیہونی ظلم و بربریت کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
ایک جانب ظالم و ستمگر صیہونیوں کا نہ رکنے والا ظلم ہے تو دوسری جانب حقوق بشر کی پاسبانی کا دعویٰ کرنے والے عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور استعمار نواز میڈیا کا سکوت، بلکہ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بتانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ جس سے انسانیت شرمسار اور آدمیت شرمندہ ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عالم اسلام کیوں خاموش ہے؟ حرمین شریفین کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے کیوں مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنےسے کترا رہے ہیں۔ کیوں متحدہ عرب امارات اب تک اس سلسلہ میں خاموش ہے؟
ظاہر ہے مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت وہی کر سکتا ہے جس کا دامن مظلوموں کے خون سے رنگین نہ ہو۔ اسلام کے نام نہاد ٹھیکہ دار کیسے کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھا سکتے ہیں جبکہ خود ان کی گردنوں پر نہ جانے کتنے مظلوموں کا خون ہے۔ خود انکی جیلوں میں نہ جانے کتنے بے گناہ قید ہیں۔ قطیف میں آئے دن مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ بحرین میں ان کی بربریت سب کے سامنے ہیں، یمن میں انکی داستان ظلم ان کے چہروں پر پڑی نقاب نوچ کر انکی اصلی وحشیانہ صورت لوگوں کو بتا رہی ہے۔ عراق، لبنان، شام میں انکی خیانتیں دنیا پر عیاں ہیں۔
لیکن یاد رہے ظلم ظلم ہے چاہے کہیں بھی ہو یا کسی پر بھی ہو۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم قدس کا نام دیا اور امت مسلمہ کو اس سلسلہ میں پیغامات بھی دئیے۔
۱. یوم قدس اسلام کا دن ہے۔
یعنی کوئی یہ نہ سوچے کہ یہ شیعہ سنی کا مسئلہ ہے یا یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ ہے بلکہ اس اسلام کا مسئلہ ہے جس کے نبی نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ یہ اخوت جغرافیائی حدود میں محدود ہونے والی نہیں بلکہ جو بھی مسلمان یے وہ دوسرے مسلمان کا بھائی ہے چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ۔ لہذا اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے دنیا کے تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے اسلامی بھائیوں کی حمایت کریں۔
۲. یوم قدس اسلام کی حیات کا دن ہے۔
اسلام کا احیاء ظلم سے نہیں بلکہ عدل سے ہو گا، انصاف سے ہو گا، مقدسات کے احترام سے ہوگا۔ لہذا اس دن فلسطین سمیت دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہو۔ مظلوم کی حمایت اور ظالموں سے نفرت اور اظہار ہر مسلمان پر لازم ہے اور حتی المقدور اس سلسلہ میں کوشش بھی ضروری ہے۔
۳. یوم القدس ایک ایسا دن ہے (جو یہ یاد دلاتا ہے کہ) اسلام کو زندہ کرنا ضروری ہے۔
قبلہ اول کی بے حرمتی اور انبیاء و مرسلین کے مقدس آثار کی پامالی عالم اسلام کی غیرت کو للکار رہی ہے کہ اسلام کو احیاء کرو تا کہ مقدسات کی حرمت پامال نہ ہو اور انسانی خون سے ہولی نہ کھیلی جائے۔
۴. یوم القدس وہ دن ہے جب مظلوم قوموں کی تقدیر کا تعین ہونا چاہیے۔
یہ دن عالم انسانیت کی عموما اور عالم اسلام کی خصوصا غیرت و حمیت کو للکار رہا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانیت پر ظلم ہو رہا ہو۔ انسانی اقدار پامال ہو رہی ہوں تم پر لازم ہے کہ تم مظلوم کی برملا حمایت کرو تا کہ تخت ظلم کی چولیں ہل جائیں اور ظالمین مظلوموں اور کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز آجائیں۔
۵. یوم القدس ایک عالمی دن ہے؛ یہ دن صرف قدس سے مخصوص نہیں ہے، یہ مظلوموں کے لیے مستکبرین سے مقابلہ کرنے کا دن ہے۔
ایسا نہ سمجھا جائے کہ اس دن صرف فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا ہے بلکہ جہاں کہیں بھی انسان کمزور اور مظلوم ہیں ان کے حق میں آواز اٹھا کر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئیے تا کہ ظالمین مظلوموں کو اور کمزوروں کو تنہا نہ سمجھیں بلکہ ان کے اندر خوف پیدا ہو۔
۶. یوم القدس جو لیلۃ القدر سے متصل ہے، اسے مسلمانوں میں دوبارہ زندہ کرنے اور ان کی بیداری اور ہوشیاری کا ذریعہ بننے کی ضرورت ہے۔
یہ دن غور و فکر کا دن ہے، تدبر و تفکر کا دن ہے، شعور و بصیرت کا دن ہے۔ مسلمان دینی اور مذہبی تعصبات کی زنجیروں سے آزاد ہو کر مظلوم کی حمایت کریں۔ چاہے سات سمندر پار گورے کالوں پر ظلم کر رہے ہوں۔ یا عرب عجم پر۔ ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ ہم صرف فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونیوں کی مخالفت کریں، بلکہ افغانستان میں جو شیعوں پر ظلم ہو رہا ہے، آئے دن اسکولوں اور مساجد میں شیعہ شہید ہو رہے ہیں، پاکستان میں شیعوں پر آئے دن حملے ہو رہے ہیں، عراق میں دہشت گردانہ حملوں میں انسانی خون بہہ رہا ہے۔ بحرین، یمن، نائیجیریا اور قطیف میں انسانی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔
ہمیں ان تمام مظلوموں سے اظہار ہمدردی اور ظالموں سے اظہار نفرت کرنی ہے۔ اس کا تجربہ بھی ہو چکا ہے کہ جب بھی عالم اسلام شیعہ سنی تعصب کا شکار ہوا اور مذہبی تعصب نے اسے حق بیانی سے روکا تو اس سے بڑے خطرے نے اس کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ 1926 عیسوی میں بزدل یہودیوں کے ایجنٹ آل سعود نے جنت البقیع سمیت تمام اسلامی آثار مٹانے کی ٹھان لی۔ مسلمانوں نے اسے شیعہ مسئلہ سمجھ کر خاموشی میں عافیت سمجھی تو چیلے کی کامیابی پر یہودی گرو نے 1948 عیسوی میں فلسطین پر حملہ کیا اور قبلہ اول کی توہین ہوئی۔ اگر 1926 میں ہی منھ توڑ جواب دے دیا جاتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ افسوس آج بھی یہ فکر رائج ہے کہ افغانستان، پاکستان، عراق، شام، لبنان، بحرین، قطیف، یمن اور نائیجریا میں جب شیعہ شہید ہوتے ہیں تو اسے شیعہ مسئلہ سمجھ کر خاموشی میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔ جب کہ اسلام نے کسی انسان پر چاہے کسی بھی دین و مذہب کا ہو اس پر نہ ظلم کی اجازت دی ہے اور نہ ہی ظلم کے سامنے سکوت کو جائز قرار دیا ہے۔
۷. دنیا کے مسلمانوں کو یوم قدس کو تمام مسلمانوں بلکہ تمام دنیا کے مظلوموں کا بھی دن سمجھنا چاہیے۔
بے شک یہ مظلوموں کا دن، کمزوروں کا دن ہے۔ لہذا تمام ظالموں کو للکارنا عالم اسلام کی ذمہ داری ہے۔
۸. یوم القدس جو کہ خدائے بزرگ و برتر کے مہینہ کے آخری ایام میں ہے، اس بات کا مستحق ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان بڑے شیطانوں اور طاغوتی سپر پاورز کی غلامی سے آزاد ہو کر خدای لایزال کی طاقت میں شامل ہو جائیں۔
عالم اسلام جان لے کہ نجات صرف اللہ والا بننے میں ہے، استعمار کی غلامی میں نہیں ہے۔ جیسا کہ علمبردار انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ الوارف نے فرمایا: مصر اور اردن نے برسوں پہلے یہ غلطی کی کہ اگر صیہونیوں سے تعلقات بڑھا لیں تو نجات مل جائے گی لیکن بجائے فائدے کے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔
لہذا ضروری ہے کہ ہم صرف زبانی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے مانیں کہ اللہ اکبر بے شک اللہ سب سے بڑا ہے وہی قادر مطلق ہے۔