-
ایران میں احتجاجی بحران اور سیاسی بیانیہ
- سیاسی
- گھر
ایران میں احتجاجی بحران اور سیاسی بیانیہ
329
M.U.H
14/01/2026
0
0
تحریر: عادل فراز
ایران میں احتجاج کا سلسلہ ۲۸ دسمبر ۲۰۲۵ کو تہران کے بازاروں میں تاجروں کی جانب سے مہنگائی اور اقتصادی مشکلات کے خلاف ہڑتال اور مظاہروں کے ساتھ شروع ہوا۔ابتدا میں یہ احتجاج معاشی مسائل تک محدود تھالیکن جلد ہی یہ ملک گیر سیاسی نعرے بازی میں بدل گیا۔ایران میں اقتصادی پابندیوں کی بناپر مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے ۔حتیٰ کہ روز مرّہ کی ضروری اشیابھی عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر پہنچ گئی ہیں ۔ایرانی کرنسی ریال میں تاریخی گرواٹ درج کی گئی جس کی وجہ سے درآمدات مزید مہنگی ہوگئیں اور عوام کی قوت خرید متاثر ہوئی۔بے روزگاری ،کم اجرت اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوامی ناراضگی بڑھائی ۔امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کی معیشت پر برااثر ڈالاجس سے تیل کی برآمدات اور دیگر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔یہ پابندیاں معاشی رفتار کوسست کررہی ہیں اور افراط زر میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں ۔ایسی صورت حال میں احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے لیکن اس کا فائدہ منافقوں اور دشمن کے آلۂ کاروں نے زیادہ اٹھایا۔امریکی صدر مظاہرین کو مسلسل ورغلارہے ہیں اور ایران میں نظام کی تبدیلی کا عندیہ دے رہے ہیں ۔اگر کسی ملک میں حکومت مخالف ہونے والے مظاہروں کو نظام کی تبدیلی کی بنیادمان لیاجائے تو پھر کوئی ملک اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔حکومت کے خلاف تو امریکہ ،اسرائیل ،تمام مغربی ممالک اور ہندوستان سمیت ہر جگہ احتجاج ہوتے رہتےہیں ۔اسرائیل میں نتن یاہو حکومت کے خلا ف مسلسل احتجاج ہوتے رہے لیکن کبھی ٹرمپ نے اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں کا نفسیاتی مسئلہ ایران کا موجودہ نظام ولایت ہے ۔امریکی صدر نے بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی کبھی ایران کی منتخب حکومت کی تبدیلی کی بات نہیں کی بلکہ وہ نظام ولایت کی جڑیں اکھاڑپھینکنے کی دھمکیاں دیتے رہے ،جس سےمعلوم ہوتاہے کہ استعماری طاقتیں نظام ولایت سے کس قدر خوف زدہ ہیں ۔اسی نظام کو بدلنے کے لئے امریکی اور اسرائیلی کوششیں برس ہا برس سے جاری ہیں لیکن ہمیشہ انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔
ایران میں جب بھی سماجی اور سیاسی بحران پیداہوتاہے تو اس کے پس پردہ مختلف عوامل کارفرماہوتے ہیں ۔ان تمام عوامل پر الگ الگ موقعوں پر گفتگو ہوتی رہتی ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ امریکی اور اسرائیلی مداخلت کا ہوتاہے ۔آخر اسرائیل اور امریکہ ایران کے نظام سے اس قدر خائف کیوں ہیں ؟رضا شاہ پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں لاکر انہیں کیا فائدہ حاصل ہوگاجب کہ ایران کے عوام کی شکایت نظام سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے ۔اس کو اس طرح سمجھاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں جب تہران کے بازاروں میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہواتو اس کا رخ سرکار کی طرف تھا۔استعماری آلۂ کاروں نے رفتہ رفتہ اس احتجاج کو نظام کی طرف موڑ دیا۔اس میں حکومت کے بعض عناصر بھی شامل تھے جو نظام ولایت فقیہ کی بالادستی کو برداشت نہیں کرپارہے ہیں ۔حکومت اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے نظام کو مورد الزام ٹھہراکر عوام کے غصے کا رخ موڑناچاہتی تھی ،جس کا فائدہ دشمن نے بخوبی اٹھایا۔جن تاجروں نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج شروع کیاتھاانہوں نے خود کو فسادیوں سے الگ کرلیااور باقاعدہ بیان جاری کرکے فتنہ پردازوں کی مذمت کی ۔اسی طرح دیگر شہروں میں بھی مظاہرین نے خود کو فسادیوں سے الگ کرلیا،جس کے بعد یہ حقیقت سامنے آگئی کہ مظاہرین اور ہیں اور دشمن کے اشاروں پر بدامنی پھیلانے والے اور ہیں ۔آیت اللہ خامنہ ای نےبھی اپنے خطاب میںمہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوام کے احتجاج کو جائز ٹھہرایاتھامگر احتجاج کی آڑ میں بدامنی پھیلانے والوں کی مذمت بھی کی تھی ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ نظام بھیمعاشی مسائل پر احتجاج کا مخالف نہیں بلکہ عوامی احتجاج کو جمہوری نظام کا حصہ سمجھتاہے۔اس کے برعکس حکومت نے مظاہرین کو اعتماد میں لینے کے بجائے انہیں اکسانےکاکام کیا۔اس کی بنیادی وجہ نظام ولایت اور بعض حکومتی افراد کے درمیان تال میل کی کمی ہے ۔ایرانی حکومت نے ہمیشہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ منتخب حکومت کے پاس لایحۂ عمل توہے مگر وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لئے نظام ولایت کی پابند ہے ۔جب کہ حکومت کا یہ تاثر جواب دہی سے فرار کے لئے تھا۔اس سے یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ اصل تنازع عوامی حاکمیت اور مذہبی بالادستی کے درمیان ہے۔حکومت جب بھی معیشت ،روزگار ،مہنگائی اور داخلی سطح پر دیگر معاملات میں ناکام ہوتی ہے تو وہ عام طورپر یہی موقف اختیار کرتی ہے کہ ’فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں‘ ۔یوں ناکامی کی ذمہ داری براہِ راست نظام پر ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔اس بناپر عوام بھی یہ تصور کرنے لگتی ہے کہ منتخب حکومت ہمارے مسائل کاحل چاہتی ہے مگر موجودہ نظام اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،جس بناپر حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجات کا رخ نظام کی مخالفت کی طرف موڑنا آسان ہوجاتاہے۔حکومت کی دانستہ حکمت عملی بعض مواقع پر یہ محض مجبوری نہیں بلکہ سیاسی حکمتِ عملی بھی رہی ہے۔حکومت عوامی احتجاج کا سامنا کرتے وقت خود کو’نظام کا کمزور فریق‘ دکھاتی ہے۔اصلاح پسند صدور (خصوصاً خاتمی اور روحانی کے ادوار میں) نےکھل کر ٹکراؤ سے گریز کیا،مگر پسِ پردہ یہ تاثر برقرار رکھا کہاصل رکاوٹ موجودہ نظام ولایت ہے۔احمدی نژاد کے دور میں یہ تصادم منظر عام پر آیااور اس کے نقصانات داخلی اور خارجی سطح پر ایران کو بھگتنے پڑے ۔یہ طرزِ عمل حکومت کو عوامی غصے سے وقتی تحفظ دیتا ہے،مگر اندرونی تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
اب آتے ہیں ایران میں جاری احتجاجات پر عالمی اور قومی میڈیا کے رویے کی طرف ۔موجودہ عالمی منظر نامےپر میڈیا بے اعتبار ہوچکاہے ۔خاص طورپر ہم قومی تناظر میں اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔تمام میڈیائی اداروں پر استعمار کا قبضہ ہے ۔پروپیگنڈہ خبریں نشر کرکے عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے ۔اس کے پس پردہ حکومت بھی متحرک ہے اور وہ بھی میڈیائی اداروں کو اپنے کنڑول میں رکھناچاہتی ہے تاکہ حقیقت عوام تک نہ پہونچ سکے ۔ایران میں جاری احتجاجات پر میڈیا ئی رویے کا مختلف لحاظ سے تجزیہ کیاجاسکتاہے ۔مختصر یہ کہ میڈیا حقیقت سے دور خودفریبی کے دام میں گرفتارہے ۔ہم ایسے میڈیا سے حق گوئی کی توقع نہیں کرسکتے جو جنگ کے دوران امن کا پیغام عام نہ کرسکے ۔آپریشن سیندور کے وقت ہمارا میڈیا لاہور پر قبضہ کرچکاتھاجس سے عالمی فضیحت ہوئی۔ایسامیڈیا ایران میں جاری احتجاجات کی صحیح تصویر کشی کیسے کرسکتاہے ۔بار بار نیوز چینلوں پر یہ جھوٹ پھیلاناکہ’ ملک پر مظاہرین کا کنٹرول ہوچکاہے اور آیت اللہ خامنہ روس یا ترکی فرارکرنے والے ہیں‘استعماری چالوں کا حصہ تھا۔اسی طرح کا بیانیہ بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی ترتیب دیاگیاتھاکہ’ آیت اللہ خامنہ ای اسرائیلی حملوں کے خوف سے بنکر میں جاچھپے ہیں‘ ۔اس وقت بھی آیت اللہ خامنہ ای نے بلاخوف تاریخی نماز جمعہ پڑھاکر دشمن کے منصوبے کو خاک میں ملادیاتھا اور اب بھی کہ جب ان کے ترکی یا روس فرار ہونے کی خبریں پھیلائی جارہی تھیں ،انہوں نے اپنے خطاب سے دشمن اور ان کے آلۂ کاروں کو رسواکردیا۔انہوں نے واضح الفاظ میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ’ عنقریب ٹرمپ کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا۔جب فرعون ،نمرود اور رضا شاہ پہلوی جیسے آمروں کو ان کے غرورنے خاک میں ملادیاتو ٹرمپ کیا چیز ہیں‘۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم کرائے کے قاتلوں کے سامنے ہرگز تسلیم نہیں ہوں گے‘۔ایرانی سپریم لیڈر کا یہی رویہ استعماری طاقتوں کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔اسی قائدانہ شجاعت نے انہیں دن میں تارے دکھلائے جس کے خاتمے کے لئے عالمی طاقتیں پوری توانائی صرف کررہی ہیں ۔
دنیا نے قریب سےمشاہدہ کیاہے کہ ایران کا دشمن بڑابے غیرت اور بے حس ہے ۔وہ بار بار شکست کھانے کے باوجود اپنی فتح کا جھوٹا پرچار کرتاہے ۔ورنہ بارہ روزہ جنگ میں ایران نے استعماری طاقتوں کے دانت کھٹے کردئیے تھے جس کا اعتراف دشمن کے ذرائع نے بھی کیا۔ٹرمپ اور نتن یاہو نے اس وقت بھی کہاتھاکہ’ مکمل تباہی یا غیر مشروط سرینڈر‘۔مگر نہ تو وہ ایران کو تباہ کرسکے اور نہ ایرانی قیادت کو سرینڈر پر مجبور ۔اسی وقت دشمن نے یہ باورکرلیاتھاکہ ایران کو فوجی محاذ پر شکست دیناآسان نہیں اس لئے اب داخلی بدامنی کا راستہ اختیارکیاگیاتاکہ ایرانی عوام کو نظام سے بدگمان کرکے اقتدار کی تبدیلی کی راہ ہموار کی جاسکے ۔مگر اب بھی دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکے گاکیونکہ ایران کے پاس بابصیرت شجاع قیادت موجود ہے ۔اسی قیادت نے دشمن کو ہر محاذ پر گھنٹے ٹیکنے کے لئے مجبورکیاہے اور آئندہ بھی ان کی کامیابی کے امکانات نہیں ہیں ۔داخلی نظام میں عدم استحکام پیداکرنے کی استعماری کوششوں سے ایرانی عوام اور خاص طورپر نظام ولایت آئندہ کے لئے مزید توانائی حاصل کرے گا۔کیونکہ بالآخر شر میں بھی خیر کا عنصر ضرور ہوتاہے ۔