-
ماضی کے سائے میں حال کی سیاست
- سیاسی
- گھر
ماضی کے سائے میں حال کی سیاست
24
M.U.H
22/02/2026
0
0
تحریر:عادل فراز
ہندستان کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے ۔اگر ماقبل تاریخ تہذیبوں کی بات کی جائے تو ہندستان بھی ان میں شامل ہے ،یہ الگ بات کہ آج سماعی اور من گھڑت واقعات کو تاریخ کاحصہ بناکر پیش کیاجارہاہے۔اگر ہندوستانی تمدن کا تعلق ماقبل تاریخ سے ہے ،توپھر اساطیر اور سماعیات کو تاریخی حقائق کے نام پر کیوں پیش کیاجاتاہے ۔ایک طرف ماقبل تاریخ کے واقعات پر افتخار ہے تودوسری طرف تاریخ میں تدلیس اور تلبیس کا عمل جاری ہے ۔یہ کھیل سرکاری سرپرستی میں کھیلاجارہاہے تاکہ مسلمانوں کو ذلت کا احساس کروایاجائے ۔ہندستان پر صرف مسلمانوں نے حکمرانی نہیں کی بلکہ اس سرزمین پر موریہ، گپت، چولا، راجپوت، مرہٹہ، مغل، افغان، سکھ اور انگریز،سب نے کسی نہ کسی دور میں اقتدار سنبھالا۔ اگر تاریخ کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ہندستان کا اقتدارکسی ایک مذہب یا ایک قوم کی میراث نہیں رہا۔مسلمان حکمرانوں کا دور بھی اسی طویل تاریخی سلسلے کا ایک باب تھا۔ اس دور میں بھی صرف ’مسلمان‘بطور قوم حکمران نہیں تھے، بلکہ درباروں، فوجوں اور انتظامیہ میں ہندو، راجپوت، مرہٹے اور دیگر طبقات نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔ اکبر کے دربار سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک، اقتدار کا ڈھانچہ کثیر مذہبی اور کثیر لسانی رہا۔اودھ میں تو شیعوں کی حکومت تھی مگر وزیر اعظم جیسے اہم عہدوں پر ہندو فائز رہے ۔اسی طرح انگریزی دور میں بھی ہندستانی چاہے کسی بھی مذہب سے ہوں،ان کی ملازمت اور اقتدار کے نظام کا حصہ بنے۔پھر سوال یہ ہے کہ آج تاریخ کے ایک خاص دور کو صرف ’مسلمانوں کی حکومت‘کہہ کر موجودہ نسل کے مسلمانوں کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟کسی بھی قوم یا مذہب کو صدیوں پرانے سیاسی واقعات کی بنیاد پر مجرم قرار دینا نہ تاریخی انصاف ہے اور نہ اخلاقی۔ موجودہ دور کا مسلمان بھی دیگر مذہبوں اور ذاتوں کےافراد کی طرح اس ملک کا شہری ہے ،اپنے حکمرانوںکی کارستانیوں کا ذمہ دار نہیں!اگر تاریخ کی بنیاد پر اجتماعی جرم طے کیا جائے تو پھر ہر دور کے ہر حکمران کی زیادتیوں کا بوجھ ان کے ہم مذہب یا ہم نسل افراد پر ڈالنا پڑے گا،جو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ تاریخ کا مقصد سبق لینا ہے، انتقام کی آگ بھڑکانا نہیں۔
تاریخ سے عبرت لینا چاہیے ،مگر ہم نے نفرت اور انتقام کا درس لیا۔یہ بات موجودہ سیاسی بیانیے پر بھی عائد ہوتی ہے اور مسلمانوں کے تمام فرقوں پر بھی ۔ہم دوسروں پرتو تنقید کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے ۔مسلمانوں نے بھی اپنی تاریخ سے سبق لینے کے بجائے نفرت اور انتقام کا درس لیا۔ایک فرقہ دوسرے فرقے کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں ۔کلمہ گویوں کی تکفیر کافتویٰ دے کر ان کا خون بہایاجاتاہے ۔ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین وطیرہ بنالیاگیاہے ۔مذہبی تشخص بھی فرقوں میں بٹ گیا۔نہ قرآن پر اجتماعی اعتقاد ہے اور نہ پیغمبر اکرمؐ پر ۔توپھر ہمیں دوسروں پر تنقید کا کیاحق پہنچتا ہے ؟ اگر آج ہندستان میں تاریخ بدلی جارہے تو مسلمان بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہے ۔اگر آج ہمارے یہاں اقلیتوں پر ظلم ہورہاہے تو مسلم حکومتوں کا دامن بھی ان مظالم سے خالی نہیں ۔کون سا ایسا ظلم ہےجو مسلمانوں پر ہورہاہے اور مسلم حکومتیں ان مظالم سے پاک ہیں ۔اس کے باوجود ہم ان کی مذمت نہیں کرتے بلکہ فرقوں کی آڑ میں ان کے مظالم کے جواز پیش کرتے ہیں ۔ظلم بہرحال ظلم ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب اور عقیدے کے افراد پر کیاجائے ۔کرنے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم ،اس کو مجرم ماننا چاہیے ۔
تاریخ کبھی غیر جانب دار نہیں ہوتی ۔خواہ تاریخ حکمران لکھوائے یا مورخ آزادانہ طورپر لکھے ۔تاریخ کتاب کے صفحات پر نہیں بلکہ بین السطور موجز ن ہوتی ہے ۔اس کو تلاش کرنا تاریخ کے طالب علم کی ذمہ داری ہے سیاست مداروں اور مذہبی رہنمائوں پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا۔اگر تاریخی تناظر میں موجودہ نسلوں کو مجرم قراردیاجارہاہے تو پھر ہم نہ تو آسٹرکوں کو معاف کرسکتے ہیں، نہ آریائی حکمرانوں کو۔ دراوڑوں کا قتل عام ہویا ہندوستان میں مروجہ طبقاتی نظام ،اس کے پس پردہ مسلم حکومتیں کارفرما نہیں تھیں ۔اسلام تو طبقاتی نظام کا مخالف ہے اسی بناپر ہندستان میں اسلام پسماندہ ذاتوں کےدرمیان تیزی سے پھیلا،مگر آج اس کو بھی ’تلوار کے زور‘ کی توسیع قراردیاجاتاہے ۔جب کہ ہندستان کے مسلم حکمرانوں نے کبھی اسلام کے فروغ کے لئے سیاست نہیں کی بلکہ ان کا مقصد بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح مذہب کو ڈھال بناکر اقتدار پر جمے رہنا تھا۔اس کے باوجود آج مسلم حکمرانوں کی سیاست کو مذہب سے جوڑ کردیکھاجاتاہے اور اس کے لئے تمام مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایاجاتاہے ۔لیکن مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور ذاتوں کے ساتھ ایسانہیں ہوتا۔کیا ان کے حکمرانوں نے مذہب کے نام پر سیاست نہیں کی ۔کیا انہوں نے ہندستان میں عبادت گاہوں کو نہیں توڑا۔کیا ان حکومتوں میں ظلم نہیں ہوئے ؟ بدھشٹوں کی عبادت گاہوں کی مسماری پر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔آخر ایساکیوں ہے ؟ کیاآزاد ہندستان میں مجرم صرف مسلمان ہے ؟آخر انہیں کے خلاف انتقام کا جذبہ کیوں ابھاراجاتاہے ؟انہیں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کی اپیلیں کیوں ہوتی ہیں ؟اگر تاریخی تناظر میں موجودہ نسلوں کو مجرم قراردیناایک سیاسی عمل ہے تو یہ امتیازی سلوک صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی کیوں ؟جب کہ موجودہ دور کا مسلمان نہ تومسلم حکمرانوں کو اپنا آئیڈیل مانتاہے اور نہ ان کی تاریخ پرمفتخر ہے ۔اگر کچھ لوگ اس خمار میں ہیں تو ان کاحال بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے مختلف نہیں ۔مذہب کا نشہ ہر جگہ ہے ،مسلمان بھی اس کی لت سے بری نہیں۔اس کے باوجودآج کا مسلمان ’ماضی پر افتخار ‘ اور ’پدرم سلطان بود‘ کے جذبے سے باہر آچکاہے ۔یہ الگ بات کہ اس کے پاس نہ تو مستقبل کا لایحۂ عمل ہے اور نہ مضبوط قیادت ،اس کے باوجود وہ اپنے حال پر سنجیدہ اور مستقبل کے تئیں فکر مند ہے ۔
اگر موجودہ سیاسی صورت حال میں مسلمانوں کو ان کے حکمرانوں کے جرائم کی بنیاد پر مجرم ٹھہرایاجارہاہے تو پھر مغلوں کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انگریز اس ملک پر حکمران رہے ۔کیا انگریزی دور میں ہندوئوں پر ظلم نہیں ڈھائے گئے ؟کیا انگریزی دور میں ہندوئوں کی جان مال اور ناموس کو تحفظ حاصل تھا؟ اگر ہاں!توپھر آزادی کی لڑائی کس کے خلاف لڑی گئی ؟مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ مسلم حکمرانو ںکو برابھلا کہاجاتاہے ،ایک لفظ کبھی انگریزحکمرانوں کے ظلم و ستم کے بارے میں نہیں کہاجاتا۔یہ دُہرا معیار کس لئے ؟کیا انگریزی دور میں ہوئے مظالم کی داستان بھلادی گئی ۔ہندستان کے سبھی مذہبوں اور ذاتوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیااور کامیابی حاصل کی ۔لیکن کبھی کسی دور میں مسلم حکمرانوں کی زیادتیوں کے خلاف کوئی تحریک وجود میں نہیں آئی ۔اگر ان حکومتوں میں ناانصافی تھی تو کسی مذہب اور ذات کے لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کیوں نہیں کی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی تمام باتیں افسانہ ہیں جنہیں موجودہ صور تحال میں اقتدار پر جمے رہنے کے لئے حقیقت کا روپ دیاجارہاہے ۔ظلم اور ناانصافی تو ہر دور حکومت میں ہوئی ہے ،ایساصرف مسلم ادوار میں نہیں ہوا۔ان جرائم کے جواز پیش کرنا بھی ظلم ہے خواہ ایسامسلمان کرے یا غیر مسلمان ۔لیکن اکثر اوقات ماضی کے زخموں کو حال کی سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب معیشت، تعلیم اور روزگار جیسے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں تو شناخت کی سیاست ابھاری جاتی ہے۔ اس میں ایک مخصوص بیانیہ تیار کیا جاتا ہے کہ گویا ایک طبقہ ہمیشہ سے ’حاکم‘رہا اور دوسرا ’مظلوم‘۔ حالانکہ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشترکہ ہے۔
اگر ہندوستان پر صرف مسلمانوں نے حکومت نہیں کی، تو آج صرف مسلمانوں کو مجرم کیوں ٹھہرایا جائے؟شاید اس کا جواب تاریخ میں نہیں، بلکہ ہمارے حال کے رویّوں میں پوشیدہ ہے۔ایسی ناگفتہ بہ صور تحال میں اگر مسلمان دفاعی انداز اختیار کئے رہے تو صور ت حال مزید پیچیدہ ہوجائے گی ۔تاریخ کی صحیح افہام و تفہیم کی ذمہ داری مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے مگر ہم اس طرف بالکل متوجہ نہیں ۔دوسرےقیادت کا فقدان ڈھیروں مسائل کو جنم دیتاہے ،یہ صورت حال بھی قیادت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے ،اس لئے مسلمانوں کو اپنے درمیان قیادت کی تلاش کرنی چاہیے ۔بغیر قیادت کے قومیں ترقی نہیں کرتیں ،یہ سمجھنا ہوگا۔