-
اسرائیل کا عالمی سطح پربائیکاٹ ضروری
- سیاسی
- گھر
اسرائیل کا عالمی سطح پربائیکاٹ ضروری
24
M.U.H
17/05/2026
0
0
تحریر:سندیپ پانڈے
گلوبل صمود فلوٹیلا کو جس میں سوار ہوکر دنیا کے مختلف ملکوں سے حقوق انسانی کے زائد از ہزار جہدکار غزہ میں اسرائیل کی ناکہ بندی توڑنے جارہے تھے، انہیں اسرائیل نے غزہ پہنچنے سے تقریباً ایک ہزار کیلو میٹر پہلے ہی روک دیا ۔ اسرائیل نے یونان کے قریب نہ صرف اس فلوٹیلا کو روکا بلکہ تحفظ انسانیت کے لئے غزہ کی جانب بڑھنے والی اس کشتی سے 175 جہدکاروں کو اتارا اور انہیں ملک بدر کردیا جبکہ اسٹرینگ کمیٹی کے دو ارکان سیف ابو کیشگ اور تھپاگو اوپلا کو گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کیا گیا ۔ سیف فلسطینی نژاد اسپینی شہری ہیں جبکہ تھپاگو اوپلا کا تعلق برازیل سے ہے۔ حقوق انسانی کے ان جہد کاروں کے خلاف اسرائیل کی یہ کارروائی باضابطہ طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ پچھلے تین برسوں کے دوران اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارہ پر مسلسل حملے کئے ۔ گزشتہ سال جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 800 فلسطینی اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے ۔ پچھلے تین برسوں میں اسرائیل کے زمینی اور فصائی حملوں خاص کر بمباری میں تقریباً 75 ہزار فلسطینیوں کی جانیں گئیں جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے ۔ اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں میں غزہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہوگیا ۔ اسرائیل نے صرف فلسطینیوں کے قتل عام پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فلسطینیوں کو غذائی اشیاء ، پانی اور ادویات سے بھی محروم کر کے رکھ دیا ۔ طویل عرصہ سے اس نے غزہ کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ اسرائیل نے غزہ میں غذائی اشیاء ، پانی اور ادویات کی سربراہی بھی روک دی ۔ حد تو یہ ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کیلئے اقوام متحدہ کی جانب سے قائم ایجنسی UNRWA کو خدمات انجام دینے سے بھی روک دیا ۔ اس نے فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔ جب جنوبی افریقہ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ درج کروایا تب ججس نے پرزور انداز میں رولنگ دی کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع اتمار بین گویر جنگی مجرمین ہیں۔ اس عالمی عدالت نے دونوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے۔ اسی دوران کئی یوروپی ممالک بشمول اسپین ، اٹلی ، فرانس ، ترکی ، سویڈن ، ڈنمارک ، ناروے ، سلوانیا ، آئرلینڈ ، بیلا روس کے ساتھ ساتھ ملایشیا نے اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کیا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی درندگی کو دیکھتے ہوئے چین نے نقشوں سے اسرائیل کو نکال کر اس کی جگہ فلسطین کو نقشوں میں شامل کیا ۔ اسپین کے صدر پیڈرو سانچسٹر کا کہنا تھا کہ تاریخ ان لوگوں کو نہیں معاف نہیں کرے گی جنہوں نے غزہ والوں پر ظلم کے پہاڑ تورے ۔ اسپین اور سلواوانیا نے یوروپی یونین سے اپیل کی کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور اقوام متحدہ کی آزادی کا تحفظ کرنے کارروائی کر کے حرکت میں آئے ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے سرگرم اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز کا پر زور انداز میں کہنا ہے کہ اسرائیل ، فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر مشہور و معروف کئی فلمی شخصیتوں اور فنکاروں نے جن میں انجلینا جولی ، سوزان سرنڈن مارک ، فالو، جیسی ولیمس ، ڈالیپا اور زاویئر برڈام بھی شامل ہیں ببانگ دہل فلسطینیوں کی تائید و حمایت کی حالانکہ پیشہ وارانہ سطح پر انہیں کئی ایک خطرات لاحق تھے تاہم ان فلمی ہستیوں نے انسانیت کی حمایت کی جو یقیناً قابل ستائش ہے۔ دوسری طرف جو مایہ ناز اتھلیٹس فلسطینیوں کی کھل کر تائید و حمایت کر رہے ہیں ، ان میں مشہور و معروف باکسر مائیک ٹائیسن بھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن کی ایک گریجویشن تقریب میں پروفیسر ڈیریک پیٹرسن نے فلسطینیوں کے حقوق کی تائید و حمایت کرنے پر طلبہ کی ستائش کی ، انہیں شاباشی دی۔ بہرحال اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اسی طرح اسرائیل کا بائیکاٹ کریں جس طرح ماضی میں نسل پرستانہ کارروائیوں کی پاداش میں جنوبی افریقہ کا بائیکاٹ کیا گیا۔