-
ایران کی استقامت اور سامراج کی ہزیمت
- سیاسی
- گھر
ایران کی استقامت اور سامراج کی ہزیمت
14
M.U.H
15/04/2026
0
0
تحریر: عادل فراز
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات ضرور ابھر رہے ہیں، اور ایران نے اپنے مخصوص شرائط کے ساتھ اس پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم زمینی حقائق ابھی کسی فوری جنگ بندی کی واضح نشاندہی نہیں کرتے، کیونکہ اسرائیل اس عمل کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ اگر جنگ بندی ہو بھی جائے تو ہر فریق اپنی فتح کا اعلان کرے گا، جو صورتِ حال کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ بنا سکتا ہے۔ امریکی صدر کے لیے اپنی ناکامی تسلیم کرنا آسان نہیں، اس لیے ایران کی ممکنہ فتح کے دعووں پر ردِعمل کے طور پر دوبارہ جارحیت کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کے وعدوں پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہے، اور ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس کے باوجود خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ناگزیر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک مؤثر اور بااعتماد ثالث کی ضرورت ہے، جو یقیناً پاکستان نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ امریکہ کو اپنے شرائط پر مذاکرات پر آمادہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ایک مضبوط اور غیر جانب دار ثالث ہی جنگ بندی کو دیرپا معاہدے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے اسے ٹھوس اور قابلِ اعتماد ضمانت درکار ہوگی، تاکہ دوبارہ جارحیت کا راستہ روکا جا سکے۔ امریکی وعدوں پر اس کا عدم اعتماد بھی بے بنیاد نہیں، کیونکہ ۲۸ فروری کا حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عمان میں مذاکرات جاری تھے اور دنیا ایک ممکنہ پائیدار معاہدے کی امید لگائے بیٹھی تھی۔ مگر انہی مذاکرات کے پردے میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا، جس نے نہ صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی آگ میں دھکیل دیا۔
ایران کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی حد تک معاہدے کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی مفاہمت کے امکانات تقریباً معدوم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک معاہدہ صرف خودمختار ریاستوں کے درمیان ممکن ہوتا ہے، نہ کہ ان قوتوں کے ساتھ جنہیں وہ ایک قابض یا توسیع پسند نظام کا نمائندہ سمجھتا ہے۔ ایران کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قابض ہے، اور اس زمین پر اصل حق فلسطینیوں کا ہے؛ لہٰذا اس قبضے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران یہودیت اور صہیونیت میں واضح فرق کرتا ہے، اور اس کا مطالبہ بھی صہیونی فکر و نظام کے خاتمے سے متعلق ہے، نہ کہ بطور مذہب یہودیت سے۔ایران کے نزدیک صہیونیت ایک ایسی سیاسی تحریک ہے جس نے نہ صرف یہودیت کی شبیہ کو متاثر کیا بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کو بھی مجروح کیا۔ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور ان کے خلاف مسلسل تشدد کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہ کاریوں نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے کہ طاقت کے استعمال کی انتہا صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ روایتی ذرائع سے بھی کسی معاشرے کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے واقعات اپنی جگہ، مگر غزہ میں جاری منظم تباہی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ جدید جنگیں کس طرح انسانی آبادیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جہاں اسرائیل خطے میں امریکی مفادات کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا اثر و رسوخ برقرار رہے، اور اس میں اسرائیل ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل خصوصاً توانائی کے ذخائرہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم ایران کے ساتھ تنازع کی اصل وجہ صرف وسائل نہیں بلکہ اس کا خودمختار سیاسی بیانیہ بھی ہے، جو کسی بیرونی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ یہی وہ نقطۂ اختلاف ہے جس نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو محض جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی تصادم کی شکل دے دی ، اور جس نے ایرانی معاشرے میں مزاحمت اور استقلال کے جذبے کو مزید تقویت بخشی ہے۔
ایران کے شرائط پر جنگ بندی ایران کی فتح کا مکمل اعلان نہیں ۔ابھی فتح مبین کااعلان جلد بازی ہے ۔لیکن ایران نے دراصل اسی لمحے اپنی فتح کی بنیاد رکھ دی تھی جب اس نے بھرپور جرأت کے ساتھ امریکہ کے عسکری مراکز پر جوابی حملے کیے۔ یہ محض ایک فوجی ردِعمل نہیں تھا بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو چیلنج کرنے کا اعلان تھا۔ دنیا میں کون سا ایسا ملک ہے جو امریکہ پر براہِ راست حملے کا تصور بھی کر سکے؟ اب تک کسی ریاست نے یہ ہمت نہیں کی کہ وہ امریکہ کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارے۔اور جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی، اسے سنگین انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر ایران وہ واحد ملک بن کر ابھرا ہے جس نے نہ صرف امریکہ کو للکارا بلکہ مسلسل اس کے مقابل ڈٹا رہا۔28فروری کا حملہ، جس میں رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، بظاہر ایران کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔ مگر اسی سانحے کے بعد ایران نے جس شدت اور حکمت کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملے گی۔ یہ صرف جوابی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ قیادت کی شہادت بھی اس عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ ایران کی فتح کا دوسرا مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر نے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا اعلان کیا، مگر عملی میدان میں اسے ناکامی اور سبکی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ تیسرا اور فیصلہ کن منظر وہ تھا جب ایرانی عوام، امریکی حملوں کے خوف سے بے نیاز، رات بھر سڑکوں پر اپنی حکومت اور افواج کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہی عوامی استقامت دراصل امریکی عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی۔ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور فوج کی مؤثر جوابی حکمتِ عملی نے عالمی منظرنامے کے زاویے بدل دیے۔ وہ حکمران جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران چند دنوں میں میدان چھوڑ دے گا، اس کی عسکری صلاحیت دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں مل کر بھی آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں ناکام رہیں۔ امریکی صدر کے مسلسل دعووں کے باوجود یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا، جس کی بنیادی وجہ ایران کی مضبوط منصوبہ بندی اور دفاعی برتری تھی۔ اس صورتحال نے ثابت کر دیا کہ محض عسکری قوت ہی نہیں بلکہ عزم اور حکمت بھی جنگ کے نتائج کا تعین کرتے ہیں۔مثال کے طورپر آبنائے ہرمزپر ایران کا کنٹرول ایک نئی تاریخ کو رقم کررہاہے ۔علی لاریجانی کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، آج حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران نے جنگ بندی میں اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو کلیدی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں خطے میں طاقت کا توازن بدلتا نظر آتا ہے۔یہ ایک بڑی حقیقت ہے جسے عالمی قوتوں کو بالآخر تسلیم کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر کا جنگ بندی پر اتفاق دراصل ایک غیر اعلانیہ پسپائی کا اظہار تھا، خصوصاً اس دعوے کے بعد کہ ایران کی تہذیب کو مٹا دیا جائے گا۔ ایران کے شرائط تسلیم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ ہر صورت اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے، کیونکہ اندرونِ ملک بھی نقصانات اور رسوائی پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ایران کے حملوں نے امریکی عسکری وقار کو شدید دھچکا پہنچایا اور خطے میں اس کی برتری کو چیلنج کیا۔ ایران کا مؤقف تھا کہ جن اڈوں سے اس پر حملہ ہوا، انہی کو نشانہ بنانا اس کا حق ہے،چاہے وہ مسلم ممالک میں ہی کیوں نہ ہوں۔ اس صورتحال نے ان ممالک کے لیے بھی ایک لمحۂ فکریہ پیدا کیا ہے جو اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔یہ جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ جدید ہتھیار، دفاعی نظام اور بحری طاقت جن پر امریکہ کو ناز تھا،ایران کے سامنے غیر مؤثر دکھائی دیے۔ اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش بھی امریکہ کی جانب سے آئی، جو اس کی بے چینی اورجنگ سے نکلنے کی خواہش کو واضح کرتی ہے۔ یہ تصادم دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی طاقت کا تصور بدل رہا ہے، اور محض عسکری برتری اب فیصلہ کن عنصر نہیں رہی۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کو یقیناً نقصان پہنچا، مگر ایرانی عوام کی غیر معمولی استقامت نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ میزائلوں اور بمباری کے سائے میں بھی لوگ خوفزدہ ہونے کے بجائے رات بھر سڑکوں پر موجود رہتے ہیں، دشمن کے خلاف نعرے بلند کرتے ہیں اور نظامِ ولایت کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر عوامی زندگی میں کسی بڑی قلت کی شکایت سامنے نہیں آئی۔بازار معمول کے مطابق آباد ہیں اور ضروری اشیاء وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ حکومت نے بھی رسد کی فراہمی کو مزید سہل بنا دیا ۔ یہاں تک کہ بعض دکانوں پر یہ پیغام درج ہے: ’’یہ کوئی مذاق نہیں، جو درکار ہو لے جائیے، قیمت جنگ کے بعد ادا کر دیں۔‘‘ ایسی حوصلہ مند اور بااعتماد قوم کو محض عسکری طاقت کے زور پر زیر کرنا آسان نہیں۔فی الحال جنگ بندی کے لیے چند شرائط پیش کی گئی ہیں، مگر انہیں حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا؛ صرف یہ طے پایا ہے کہ ان نکات پر آئندہ مذاکرات ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات ایران کی شرائط کے مطابق آگے بڑھنے کا عندیہ دیتے ہیں، جو اس کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر جنگ بندی کو حتمی کامیابی سمجھ کر جشن منانا قبل از وقت اور عجلت پر مبنی ہوگا۔