-
جنگ سے معاہدے تک: ایران کا مؤقف
- سیاسی
- گھر
جنگ سے معاہدے تک: ایران کا مؤقف
631
M.U.H
16/05/2026
0
0
تحریر:عادل فراز
مشرق وسطیٰ میں صورت حال روز بہ روز کشیدہ ہوتی جارہی ہے ۔امریکی صدر نے ایران کے شرائط کو مسترد کردیاہے ۔جوہری آبدوز اور جنگی بحری بیڑے سمندر میں موجود ہیں ۔آبنائے ہرمز کا ناکام محاصرہ جاری ہے ۔ٹرمپ مسلسل کہہ رہاہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ وینٹی لیٹر پر ہے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ امریکہ اپنے شرائط پر جنگ بندی کا خواہاں ہے ۔کیونکہ ایران کے شرائط پر جنگ بندی کی صورت میں اس کی رہی سہی ساکھ بھی برباد ہوجائے گی ۔اگر ایسانہ ہوتاتوجنگ سے فرار کے لئے بے چین امریکہ کب کا معاہدہ کرچکاہوتا۔مگر اس کی ختم ہوتی ہوئی ڈکٹیٹر شپ اور دنیاپر حکمرانی کا ادھورا خواب،ایران کے شرائط پر معاہدے سے باز رکھے ہوئے ہے ۔اس دوران ٹرمپ چین کے دورے پر ہے ۔کیونکہ چین کو ایران کا قریبی ساتھی سمجھاجاتاہے ۔ممکن ہے ٹرمپ چین کو سنہری خواب دکھلاکر ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کرے ،لیکن چین امریکہ کی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی فطرت سے واقف ہے ،لہذا یہ قرین قیاس نہیں ۔دوسرے چین اور ایران کے درمیان طویل مدتی معاہدے موجود ہیں جن کے پیش نظر چین کبھی امریکہ کے پالے میں نہیں جائے گا۔امریکہ اس وقت چین اور روس کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کی فکر میں ہے مگر دونوں ملک امریکی شیطنت سے بے خبر نہیں ،لہذا شکست سے بوکھلایاہواامریکی صدر شطرنج کی بساط پر ہر چال اُلٹی چل رہاہے ۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی چین کے دورے کے بعد ہندوستان پہونچے ہیں ۔وہ برکس اجلاس میں شرکت کے لئے ہندوستان آئے ہوئے ہیں ۔انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے پہلے چین کا دورہ کیاجو بہت معنی خیز تھا۔گوکہ ایران امریکی صدر کےچین دورے سے ذرہ برابر پریشان نہیں تھاکیونکہ ایران نےموجودہ جنگ میں کسی پر انحصار نہیں کیا۔اس کےباوجود خارجہ پالیسی کی برتری اور خطے میں اپنے دوستوں کو جوڑنے کے لئے ایران کوتاہی نہیں برتے گا۔چین کے علاوہ روس بھی ایران کا قریبی اتحادی ہے لیکن روس اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔روس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یوکرین جنگ میں امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں نے پوری طرح یوکرین کی حمایت کی ہے ،جب کہ ایران روس کی پشت پر کھڑاہواتھا۔روس کی مشکل یہ ہے کہ وہ یوکرین جنگ سے نکلنے کے لئے پھڑپھڑارہاہے جس طرح امریکہ ایران کے ساتھ جنگ سے فرار کے راستے تلاش کررہاہے ۔یوکرین جنگ نے روس کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اب وہ مزید نقصان جھیلنے کی حالت میں نہیں ہے ۔اس کے باوجود روس کبھی اپنے وقار کو دائوں پر لگاکر یوکرین سے معاہدہ نہیں کرےگاکیونکہ اس طرح دنیا ،خاص طورپر مشر ق وسطیٰ میں اس کی آبرو پامال ہوجائے گی ۔لہذا ایران کی خارجہ پالیسی موجودہ صورت حال میں برتری لئے ہوئے ہے اور امریکہ چھٹپٹارہاہے ۔’برکس ‘ میں عباس عراقچی کی بے خوف شرکت ایرانی خارجہ پالیسی کی برتری کا واضح اعلان ہے ۔
ایران جو گزشتہ سینتالیس سال سے اقتصادی اور معاشی پابندیوں کی زد میں ہے ،اس بار جامع معاہدے کا خواہاں ہے ۔ایران جانتاہے کہ اگر اتنے جانی و مالی نقصان کے بعد بھی وہ اپنے شرائط پر معاہدہ نہیں کرسکاتو آئندہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوجائے گی ۔ایران ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ کی پالیسی پر عمل پیراہے ۔وہ عارضی جنگ بندی اور ناپائیدار معاہد ے کے بجائے ایسا معاہدہ چاہتاہے جو ’مستقل امن ‘ کی بنیاد بنے۔ ایران نے اس سے پہلے براک اوبا کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی تھی مگر امریکی صدر ٹرمپ نے یک طرفہ فیصلہ لیتے ہوئے اس معاہدے کو صہیونی دبائو میں منسوخ کردیاتھا۔ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد مشر ق وسطیٰ میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکا۔جنگ کی آگ خطے میں پھیلتی گئی اور اب پوری دنیا بدامنی اوراقتصادی بحران کا شکار ہے ۔اگر اس وقت ایران اپنے شرائط پر معاہدہ نہیں کرسکاتو مستقبل میں اس کےامکانات اورمعدوم ہوجائیں گے ۔
معاہدہ تشکیل نہ پانے کی ایک وجہ ایران کی دوررس پالیسیاں ہیں ۔وہائٹ ہائوس جانتاہے کہ ایران نے معاہدے کے لئے صرف شرائط نہیں بھیجے بلکہ ایرانی قوم اور مشرق وسطیٰ کی تقدیر کا نوشتہ بھیجاہے۔اس معاہدے سے مقاومتی محاذ کو تقویت ملے گی اور صہیونی برتری کا خواب ٹوٹ جائے گا۔لہذا امریکی صدر نے ایرانی شرائط کو مستردکردیا۔ تہران کے بنیادی شرائط میں فوری طورپر امریکہ اور اسرائیل کے تمام حملوں کا خاتمہ شامل ہے ،خواہ یہ حملے سمندر میں ہورہے ہوں یا لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت ہو۔ایران نے جنگ بندی کے شرائط میں مزاحمتی محاذ کے ساتھ بھی مکمل جنگ بندی کی شرط کو شامل رکھاہے جس میں غزہ ،لبنان ،عراق اور یمن شامل ہیں ۔ایران امریکہ سے دوبارہ حملے نہ کرنے کی قابل اعتماد ضمانت چاہتاہے ۔اس ضمانت کا ملناآسان نہیں کیونکہ کوئی بھی ضامن امریکہ پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ملک ضامن بننے کے لئے تیار نہیں۔پاکستان بھی اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ قابل اعتماد ضامن کا موثر کردار اداکرسکے ۔کیونکہ ضامن کا کردار وہی اداکرسکتاہے جس کے ہاتھ میں امریکی صدر کی لگام ہو۔ایران نے جنگی نقصان کا معاوضہ بھی طلب کیاہے ،جو ایران کا بنیادی حق ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایاہے ۔اگر امریکہ جنگی تاوان ادانہیں کرے گاتو اس کو آئندہ حملے کے لئے حوصلہ ملے گا۔
ایران کے اہم شرائط میں منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے ۔پوری دنیامیں ایران کے اثاثے منجمد ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالر ہے ۔ایران کے اقتصاد کے لئے یہ نہایت ضروری قدم ہے جس کو امریکہ آسانی سے قبول نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ ایران نے مکمل اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیاہے ۔امریکہ بخوبی جانتاہے کہ ایران نے سینتالیس سالہ پابندیوں کے باوجود ہر شعبۂ حیات میں ترقی کی ہے ،اگر پابندیاں اٹھالی گئیں تو اس کی ترقی کی رفتار کو روکنایا سست کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ایران نے پائیدار معاہدے کے لئے آبنائے ہرمز کو کلیدی حیثیت دی ہے ۔ایران نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے حق کو تسلیم کیاجائے ،گویاآئندہ بھی ایران آبنائے ہرمز میں اپنا دبدبہ اسی طرح برقراررکھےگا۔اس کی رضامندی کے بغیر کوئی مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گذر سکےگا،اسکے علاوہ ایران کی طے کردہ کرنسی میں ٹیکس بھی اداکرناہوگا۔اس شرط کو ماننے کے لئے امریکہ کو بحری ناکہ بندی اٹھانی پڑے گی بلکہ ایرانی ساحل کے قریب موجود تمام بحری بیڑوں کو یاتوواپس بلاناپڑے گایا پھر انہیں بحر ہند یا کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرناہوگا۔اس شرط کو مانناگویاعلاقائی پسپائی کو قبول کرناہے ۔
امریکہ نے ایرانی شرائط کو یہ کہہ کر مسترد کردیاہے کہ’ یہ مطالبات حد سےزیادہ ‘ہیں ۔خاص طورپر آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری ،جنگی ہرجانے اور امریکی افواج کی علاقائی پسپائی جیسے نکات وہائٹ ہائوس کے لئے ناقابل قبول ہیں ۔امریکہ چاہتاہے کہ ایران پہلے اپنے جوہری پروگرام ،جوہری توانائی کی افزودگی اور تزویراتی سرگرمیوں پر بڑی رعایت دے ،پھر پابندیوں میں نرمی کے بارے میں مذاکرات ہوں گے ۔ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو بعض مواقع پر ’اہم مگر ناکافی ‘ اور بعد میں ’ناقابل قبول ‘ قراردیا۔گویاکہ ایران نے سانپ کی دُم پر پیر رکھ دیا اور اس کا سر کچلنے کی حالت میں ہے ۔
موجوہ صورت حال یہ ہے کہ اپریل میں طے پانے والی عارضی جنگ بندی انتہائی کمزور بنیادوں پر قائم ہے ۔البتہ بڑے حملے محدود ہوئے ہیں مگر پنجہ آزمائی ختم نہیں ہوئی۔ امریکی داخلی سیاست میں بھی اس جنگ پر اختلاف بڑھ رہا ہے، حتیٰ کہ سینیٹ میں جنگی اختیارات پر شدید بحث ہوچکی ہے۔ دوسری طرف ایران اپنے شرائط سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ،جس سے حالات مزید دگرگوں ہوسکتے ہیں ۔امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مسلسل شرمندگی کا سامناہے اور ایرانی فوجوں نے سمندری علاقے کو کنٹرول میں لے رکھاہے ۔اس پوری کشمکش کا سب سے برا اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل کی رسد متاثر ہوئی، قیمتیں بڑھ گئیں ، اور عالمی منڈی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ اگر ہمارے لئے دنیا مشکلیں کھڑی کرے گی تو پھر دنیا کو بھی ہم سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ ایران پائیدار امن چاہتا ہے جس میں عالمی کردار نظر نہیں آیا۔ موجودہ حالات میں جنگ بندی اہم نہیں بلکہ دونوں فریق کے درمیان معاہدے کی تشکیل ہے تاکہ علاقے میں ایک پائیدار سیاسی نظم قائم ہوسکے۔ فی الحال اس کا جواب غیر واضح ہے اور خطہ بدستور ایک غیریقینی امن کے سائے میں کھڑا ہے، جس کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ پائیدار امن کے لئے امریکہ کو ضد چھوڑنی ہوگی اور ایران کے شرائط کو ماننا ہوگا کیونکہ امریکہ بھی جانتا ہے کہ اس جنگ میں ایران کو برتری حاصل ہے۔معاہدے شکست خوردہ نہیں لکھتے، جنگ کے فاتح اپنے شرائط منواتے ہیں۔