-
ایران بمقابلہ امریکہ: نظریاتی جنگ سے عسکری ٹکراؤ تک
- سیاسی
- گھر
ایران بمقابلہ امریکہ: نظریاتی جنگ سے عسکری ٹکراؤ تک
316
M.U.H
02/04/2026
0
0
تحریر:عادل فراز
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ ایک نازک اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہوچکاہے ۔اس صورتحال میں اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں بھی ممکنہ تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگر بروقت دانشمندانہ فیصلے نہ کئے گئے تو یہ بحران ایک وسیع تر علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے نازک مراحل تاریخ میں نئے توازن اور نئی قیادت کے ابھرنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ایران نے جس طرح عرب ملکوں میں موجود امریکی عسکری مراکز پر پے درپے حملے کئے اس نے طاقت کے توازن کو بدل دیاہے ۔عربوں کو بھی اب یہ احساس ہوچکاہے کہ امریکہ ان کی حفاظت کے لئے کافی نہیں ۔اگر انہوں نے ایران کی طرح اپنی عسکری قوت میں اضافہ کیاہوتاتو انہیں کبھی کرائے کے محافظوں کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔امریکہ اسلامی ملکوں کے قدرتی ذخائرپر گدھ کی طرح نظریں گاڑے ہوئے ہے ۔امریکہ کو مسلم ملکوں کے سیاسی استحکام اور عسکری قوت کی تنظیم و تشکیل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔اس حقیقت کو آج تک مسلم حکمران باور نہیں کرسکے کہ امریکہ کبھی ان کے درمیان اتحاد گوارا نہیں کرسکتا۔ان کے درمیان تصادم کی مختلف وجہیں پیداکی جاتی رہی ہیں اور کی جاتی رہیں گی ۔جب تک عرب بیدار نہیں ہوں گے مشرق وسطیٰ اسی طرح عدم استحکام کا شکار ہوتارہے گا۔
امریکہ نے ایران پر حملے کے وقت یہ باور کرلیاتھاکہ جنگ دو تین دن میں ختم ہوجائے گی ۔ٹرمپ کا خیال خام یہ تھاکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نظام بدل جائے گا۔نظام کی تبدیلی کے بعد وہ جسے چاہیں گے اقتدار پر مسلط کردیں گے ۔نتیجہ یہ ہوگاکہ ولایت فقیہ کے حامیوں کو کچلنے کے لئے امریکی اور اسرائیلی وسائل کے بجائے ایرانی وسائل کو استعمال کیاجائے گا۔مگر ایساممکن نہیں ہوسکا۔کیونکہ ولایت فقیہ کے نظام اور اس نظریے کے اثرات کو سمجھنے میں ان سے بڑی غلطی سرزد ہوئی ۔ایران میں اس نظام کے حامی بھی ہیں اور مخالف بھی ۔جس طرح ہر ملک میں ایک نظام کے طرف دار بھی ہوتے ہیں اور ناقد بھی ۔لیکن یہ مخالفت کئی سطحوں پر ہوسکتی ہے ۔اول سیاسی نظریہ ہے ۔ممکن ہے مخالف گروہ سیاسی نظریے کا حامی نہ ہو۔دوسرا سبب داخلی مسائل ہوسکتے ہیں ۔خارجہ پالیسی کو بھی مخالفت کی وجہ قراردیاجاسکتاہے ۔ایران ان تینوں سطحوں پر داخلی کشمکش کا شکار رہاہے ،جس کا مختلف سطحوں پر تجزیہ کیاجاسکتاہے ۔لیکن یہ مخالفت اس وقت حمایت میں بدل جاتی ہے جب بات ملک کے وقار اور بقاپر آجاتی ہے ۔ایران میں بھی ایساہی ہواہے ۔اگر آیت اللہ خامنہ ای شہید نہیں ہوتے تو ممکن تھاکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد نظام کے خلاف عوام احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلتے ،مگر رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد صورت حال بدل گئی ۔ایرانی عوام بمباری کے درمیان نظام کی حمایت میں سڑکوں پر ہیں ۔اب تک کوئی ایسا واقعہ دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا کہ نظام کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوں ۔خاص طورپرشہید رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے فرزند ،آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد عوام نظام کی حمایت میں سڑکوں پر نظر آئے ،مخالفت میں نہیں ۔کیونکہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مجلس خبرگان نے منتخب کیاہے ،یہ عہدہ انہیں وراثت میں نہیں ملا۔مجلس خبرگان میں جتنے علماءاور فقہاء ہیں وہ عوامی نمائندے ہوتے ہیں ،اس لئے ولی فقیہ عوامی نمائندوں کا منتخب نمائندہ ہوتاہے ۔ایران میں شاہی نظام نہیں ہے کہ بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا تخت نشین ہوگا۔شہزادوں کی تخت نشینی کے لئے الیکشن نہیں ہوتا بلکہ ان کا تخت موروثی ہوتاہے ۔چونکہ دشمن ایران میں ہر محاذ پر ناکام ہوچکاتھااس لئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر سوال اٹھائے گئے ،مگر یہاں بھی انہیں ناکامی ہاتھ آئی ۔نظام کی تبدیلی کا نعرہ دینے والے ایرانی عوام کا نعرہ بھی تبدیل نہیں کرسکے۔ ا س سے زیادہ خودساختہ عالمی طاقتوں کی ذلت اور کیاہوگی ۔
ایران اور امریکہ کی دشمنی کی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے ۔ انقلاب1979ء سے پہلے امریکہ ایران کا قریبی دوست تھا۔بلکہ یوں کہاجائے کہ ایران امریکہ کے زیر دست تھا۔ایران کا بادشاہ رضا شاہ پہلوی امریکہ نواز تھا۔ایران میں مغربی تمدن کا نمایاں غلبہ تھا۔حتیٰ کہ شراب پر بھی پابندی عائد نہیں تھی ۔امام خمینیؒ کے انقلاب کے بعد جسے ’مستضعفین کا انقلاب کہاگیا‘جب شاہ ایران امریکہ فرار ہوگیاتو ایران میں اسلامی نظام نافذ ہوا۔اس نظام کو امام خمینیؒ نے ’ولایت فقیہ ‘ کا نام دیا۔ولایت فقیہ کا نظریہ تو پہلے سے موجود تھامگر اس کا نفاذ کبھی ممکن نہیں ہوسکاتھا۔امام خمینیؒ نے اس نظام کو متعارف کروایااورآیت اللہ خامنہ ای نے اس کو مضبوطی عطاکی۔امریکہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد مسلسل ایران میں نظام کی تبدیلی کے لئے کوششیں کرتارہا،مگر اس کو کبھی کامیابی نہیں ملی ۔اس کا اصلی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ’ولایت فقیہ ‘ کے نظام پر ضرب لگاناہے ۔۲۸ فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے حملے کا مقصد بھی نظام ولایت فقیہ کا خاتمہ تھا۔ایسانہیں ہے کہ ٹرمپ نے پہلی بار یہ خواب دیکھاتھابلکہ انقلاب کی کامیابی کے بعد ہر امریکی صدر کا یہی خواب رہاہے ۔ظاہر ہے اگر یہ نظام اتنا کمزور ہوتاتو انقلاب کی ابتدا میں ہی ختم ہوچکاہوتا۔اس زمانے میں نہ تو ایران اتنا مضبوط تھا اور نہ اس کے پاس دفاعی صلاحیت موجودتھی ۔لیکن عوام کی زبردست حمایت نے ستعمار کے اس خواب کو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دیا۔امریکہ جب ہر محاذ پر ناکام ہواتو ایران اور عراق کے درمیان جنگ کا صور پھونک دیاگیاتاکہ صدام حسین کے ذریعہ ایران میں سیاسی اور سماجی اضطراب پیداکرکے نظام کو بدلاجاسکے ۔مگر امریکہ نے صدام حسین کےاقتدار کو ہی ختم کرکے یہ ظاہر کردیاکہ وہ اپنے طرف داروں کا بھی بہی خواہ نہیں ہے۔
انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کو مختلف سطحوں پر مسائل اور مشکلات کا سامنارہاہے ۔چونکہ امام خمینیؒ نے امریکہ نواز حکومت کا خاتمہ کیاتھالہذا سب سے زیادہ مشکلات کا سامناامریکہ کی طرف سے ہی کرناپڑا۔مشکلات کا نیا مرحلہ تب شروع ہواجب امام خمینیؒ نے فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام کو ناجائز اور غاصبانہ قراردیا ۔انہوں نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ’یوم القدس‘ کے لئے مخصوص کردیااور تمام مسلمانوں سےجمعۃ الوداع کو فلسطین کی آزادی کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔اس اعلان کا مقصد امت مسلمہ اور دنیا کے تمام انصاف پسند افراد کو یہ باور کرانا تھاکہ بیت المقدس کا مسئلہ صرف ایک سرزمین کا تنازع نہیں بلکہ ظلم اور مزاحمت کے درمیان تاریخی کشمکش ہے ۔چونکہ مسلم حکمران امریکہ اور اسرائیل کے زیر اثر تھے لہذا ان ملکوں میں اس تحریک کو زیادہ پنپنے بھی نہیں دیاگیا۔آج امت مسلمہ امام خمینیؒ کے اس اعلان کی حکمت کو باور کررہی ہے اور اب مسئلۂ فلسطین کو بہت سنجیدگی سے سمجھاجارہاہے ۔مختصر یہ کہ ایران کوگزشتہ سینتالیس سال میں فلسطین کی حمایت کا خمیازہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں بھگتناپڑا۔آج بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی کی اہم وجہ مسئلۂ فلسطین پر ایران کا واضح موقف ہے۔مسئلۂ قدس کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں بھی ایران نے دیں ۔اس کے ڈھیروں افراد شام ،عراق اور لبنان میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ،اس کے باوجود ایران فلسطین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوا۔ مسلمانوں کو یاد رکھناچاہیے کہ سامراج کی ایران سے دشمنی کی بنیادی وجہ فلسطین کی حمایت اور مزاحمتی محور کی تائید ہے ۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد جس طرح ایران نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیاہے اس کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔امریکہ جس کی طاقت کا دنیا لوہامانتی تھی ایران نے دھول چٹادی ۔اس کے بحری بیڑے جو ایران کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ،فرار کرگئے ۔اس کے دفاعی نظام کی قلعی کھل گئی ۔اسرائیل جس نے اپنی عسکری صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹا ہواتھاایران نے اس کو زمین دوز کردیا۔جنگ کی ابتدا میں ہر کوئی یہ گمان کررہاتھاکہ ایران ایک ہفتے سے زیادہ میدان میں نہیں ٹک سکے گامگر جنگ اب بھی جاری ہے ۔امریکہ نے کئی بار ایران کو صلح اور مذاکرات کی پیش کش کی مگر ایران نے یہ کہہ کر مسترد کردیاکہ اب کوئی مکالمہ نہیں ہوگا۔امریکی صدر نے جنگ بندی کی بات کی تو ایران نے کہاکہ جنگ بندی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک ہم نہیں چاہیں گے ۔گویاکہ ایران اس وقت آرپار کے موڈ میں ہے ۔ایران نے جنگ بندی کے لئے جو شرائط رکھی ہیں وہ بہت اہم ہیں ۔ظاہر ہے امریکہ اور اسرائیل کے لئے ان شرائط کا تسلیم کرنا آسان نہیں ہوگالیکن ایران اپنے شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہے ۔ایران کو آٹھ سالہ طویل جنگ لڑنے کا تجربہ ہے لہذا اس کے لئے طولانی جنگ تھکادینے والی نہیں ہوگی ۔ایران اس جنگ سے نتیجہ چاہتاہے یقین دہانی نہیں ۔اس لئے آئندہ حالات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں ۔