-
استعمار مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے بیتاب
- سیاسی
- گھر
استعمار مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے بیتاب
1169
m.u.h
21/09/2019
0
0
عادل فراز
یمنی مزاحمتی تنظیم کے ذریعہ دنیا کی سب سے بڑی سعودی تیل کمپنی آرامکوکے دو پلانٹس کو نشانہ بنائے جانے پر پوری دنیا انگشت بہ دنداں ہے ۔کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک چھوٹی سی مزاحمتی تنظیم خطّے کی ایک بڑی طاقت کو دھول چٹانے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔جبکہ دھول چٹانے کا یہ کام وہ ایک عرصے سے کررہے ہیں جس پر دنیا کی نگاہیں مکمل طورسے جمی ہوئی ہیں مگر انہوںنے کبھی یہ اقرار نہیں کیا کہ یمن میں امریکہ و اسرائیل کی پشت پناہی کے باوجود سعودی عرب کی فوجوں کو شکست فاش ہوچکی ہے ۔ٹھیک اسی طرح جس طرح شام میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑاتھا،مگر عالمی طاقتوں نے ابھی تک اس شکست کو تسلیم نہیں کیاہے۔لیکن حال ہی میں جب یمنی مزاحمت کاروں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا تو دنیا حیرت زدہ رہ گئی ۔جن حوثیوں کی طاقت اور کامیابی کا اقرار آج تک اعلانیہ طورپر نہیں کیا گیا تھا ،دنیا مجبور ہوگئی کہ ان کی اس کامیابی پر سینہ کوبی کرے ۔نام نہاد امن پسند ملکوں کی چیخیں فضا میں گونج رہی ہیں ۔اور دنیا ان چیخوں میں حوثی مزاحمت کاروں کی فتح کے نغمے سن رہی ہے ۔ظالم طاقتیں تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی چیخ رہی ہے مگر ان کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہے ۔کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کبھی یمن کے مظلوموں کی چیخیں نہیں سنیں ۔یمن کو امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں سعودی دہشت گردوں نے تباہ کردیاہے ۔یمن غذائی قلت کا شکارہے اور وبائی امراض سے دن بہ دن موتیں ہورہی ہیں ،مگرنام نہاد امن پرست دنیا نے کبھی ان مظلوموں کی فریاد رسی نہیں کی ۔آج حوثیوں نے سعودی تیل کمپنی کو نشانہ بنایا تو پوری دنیا چیخ رہی ہے ۔کبھی کسی نے عالمی پیمانے پر یہ سوال اٹھانے کی جرأت نہیں کی کہ آخر یمن میں جنگ کی فضا کیوں قائم ہے؟ سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک یمنی عوام کے داخلی معاملات میں مداخلت کیوں کررہے ہیں؟۔یمنی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیوں کردیا گیا اور ان پر ناخواستہ جنگ کیوں تھوپ دی گئی ؟۔ ان سوالات کا جواب دینا مشکل نہیں ہے مگر ان سوالوں کے جوابات سے عالمی طاقتیں بے نقاب ہوتی ہیں ،اس لئے ان سوالات کو ہمیشہ دبادیا جاتاہے ۔
حوثیوں کے ڈرون حملے کے بعد عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہونچ گئی ہیں۔عالمی بازار میںتیل کی قیمت میں 19.5ریکارڈ اضافہ ہواہے۔عالمی تیل منڈی میں 1990-91 کی خلیجی جنگ کے بعد ایک دن میں تیل کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔سعودی عرب کا کہناہے کہ اس حملےکے بعد دنیا بھر میں ۵ فیصد سے زیادہ یا ۵۷ لاکھ بریل یومیہ تیل کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے ۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبیلو ٹی آئی ) کے مطابق خام تیل کی قیمت میں ۱۵ء۵ فیصد تک اضافہ درج کیا گیاہے جو ۲۲ جون ۱۹۹۸ ء کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے ۔
سعودی عرب کے آقائوں نے اس حملے کا سارا الزام ایران کے سرمنڈھنے کی کوشش کی ہے ۔جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور فوجی کمانڈروں نے اس حملے میں ایران کے کردار سے صاف انکار کرتے ہوئے اسے امریکہ کی کھسیاہٹ قرار دیاہے ۔امریکہ نے ڈرون حملے کے فوراََ بعد ہی یہ عندیہ دیدیا تھا کہ یہ حملہ ایران کی طرف سے کیا گیاہے جبکہ سرکاری طورپر امریکی صدر نے سعودی عرب کے مؤقف کے اعلان کے انتظار کی بات کہی تھی ۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ بخوبی جانتاہے کہ اس حملے کا جواز کن لوگوں کے پاس موجود ہے اس کے باوجود ہم سعودی عرب کے مؤقف کا انتظار کریں گے ۔اس سے پہلے کہ سعودی عرب اس حملے کے لئے ایران کو ذمہ دار ٹہراتا حوثی مزاحمت کاروں نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ۔جبکہ ابھی تک سعودی عرب حوثی مزاحمت کاروں کے اس قبولنامے کو رد کرنے کا جواز پیش نہیں کرسکاہے اور ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹہرانے میں ناکام ثابت ہوچکاہے مگر عالمی پیمانے پر اس نے اپنے حلیف ممالک کے ذریعہ یہ پیغام عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس ڈرون حملے کے پیچھے ایرانی منصوبہ بندی کارفرماہے ۔ایران نے سختی کے ساتھ سعودی عرب اور اسکے آقائوں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا’’کہ ایران پر الزام تراشی سے خطے میں تباہی ختم نہیں ہوگی ‘‘۔حسن روحانی نے اپنے بیان میں خطے میں فوجی تصادم کی خبروں کی بھی تردید کی تھی ۔البتہ انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ خطے میں امریکی مراکز اور طیارے ان کے میزائلوں کے نشانے پر ہیں ‘‘۔اس طرح خطے میں فوجی تصادم سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب مائک پومپیو کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ’’زیادہ سے زیادہ دبائو میں ناکامی کے بعد اب مائک پومپیو زیادہ سے زیادہ دھوکہ دینے کی سیاست اختیار کرچکے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے حالیہ بیان میں امریکی سرپرستی میں یمن میں جاری سعودی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے ’’کہ امریکہ کے نزدیک عربوں کے خون سے زیادہ اہم ان کا تیل ہے ‘‘۔
امریکہ نے حوثیوں کے ڈرون حملے کے فوراََ بعد جس سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا رفتہ رفتہ اس ردعمل میں کمی واقع ہوتی گئی ۔اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کی یہ صورتحال ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے بہانے تلاش کررہی ہے اور ڈرون حملے کے بعد پیدا ہوئے بحران کے پرامن حل کی خواہاں ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے اس بیان کے بعد بھی ایران کے رویّے میں نرمی نظر نہیں آئی ۔کیونکہ ایرانی اعلیٰ قیادت امریکہ کی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی سیاست کو اچھی طرح سمجھتی ہے ۔یہی وجہ ہے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کی مذاکرات کی کوششوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک امریکہ اپنی غلطیوں پر پچھتاوے کا اظہار نہیں کرتاہے اور منسوخ شدہ جوہر ی معاہدے کو بحال نہیں کرتاہے،اس وقت تک مذاکرات ممکن نہیں ہے ۔ایرانی صدر بھی اس بار مذاکرات کے ڈھکوسلے میں نہیں آرہے ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای کے موقف کی تائید میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں مگر ان کے بیانات کی عالمی پیمانے پر اب کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے ۔ان کے بیانات پر اب دنیا اعتبار کرنا بند کرچکی ہے ،جس کی حقیقت سے خود امریکہ بھی بخوبی واقف ہے ۔ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی پیشکش کی ہے ۔یہ پیشکش سب سے پہلے مئی میں جاپانی وزیر اعظم شنجو آبے کے ذریعہ ایرانی قیادت تک پہونچائی گئی تھی ۔اس مذاکرات کی خواہش کو حال ہی میں جی۔۷ اجلاس میں بھی دہرایا گیا تھا ۔ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کے ہونے والے اجلاس میں دونوں کے درمیان ملاقات ہو۔اُدھر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے مشیر خاص بولٹن کو بھی ان کے عہدے سے ہٹادیاہے ۔بولٹن کی خارجہ پالیسی ہمیشہ ایران مخالف رہی ہے اور یمن میں مزاحمت کاروں سے مذاکرات میں بھی انہوں نے کبھی کوئی دلچسپی نہیںدکھائی ۔ممکن ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے مشیران انہیں خطے میں امن و سلامتی کے لئے قیام کے لئے آمادہ کریں ۔اس کے لئے سب سے پہلے انہیں ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لئے آمادہ ہونا ہوگا ۔اگر ایساہوتاہے تو ایک بار پھر ایرانی خارجہ پالیسی کی فتح ہوگی اور ایران مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گا ۔