-
عرب دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع
- سیاسی
- گھر
عرب دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع
15
M.U.H
10/03/2026
0
0
تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ کے ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ برسوں تک اس خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ایسی حقیقت بنا کر پیش کیا گیا جیسے وہ ہمیشہ کے لیے یہاں قائم رہیں گے۔ عرب دنیا کے بہت سے ممالک میں امریکی فوجی بیس طاقت، دباؤ اور سیاسی اثر و رسوخ کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس خطے کے فیصلے یہاں کی سرزمین پر نہیں بلکہ ان اڈوں کے سائے میں طے ہوتے ہیں۔ لیکن تاریخ کا دستور ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، اور کبھی کبھی ایک واقعہ پورے منظرنامے کو بدل دیتا ہے۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو انہیں گمان تھا کہ ایران دباؤ میں آ جائے گا اور خاموشی اختیار کر لے گا۔ مگر ایران نے اس حملے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور ایسا جواب دیا جس نے پورے خطے کی فضا بدل دی۔ ایران کے میزائل حملوں نے عرب ممالک میں قائم کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ وہ اڈے جنہیں امریکہ اپنی طاقت کی علامت سمجھتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے تباہی کا منظر پیش کرنے لگے۔ ان حملوں نے یہ واضح کر دیا کہ اب اس خطے میں یک طرفہ طاقت کا زمانہ گزر چکا ہے۔
ان واقعات کے بعد ایک نئی حقیقت سامنے آئی۔ کئی مقامات پر امریکہ کو اپنے فوجی اڈے خالی کرنے پڑے، کہیں اس کی فوجی موجودگی کم ہو گئی اور کہیں اسے اپنا سامان اور افواج واپس بلانا پڑیں۔ جو فوج کل تک یہاں مستقل ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی، وہ اب خاموشی کے ساتھ اپنے قدم سمیٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ کے لیے یہ پیغام صاف ہے کہ اس خطے میں اب پرانا انداز زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
یہ منظر دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ طاقت ہمیشہ ہتھیاروں اور اڈوں سے قائم نہیں رہتی۔ جب کسی قوم کے سامنے مزاحمت اور عزم کھڑا ہو جائے تو بڑی سے بڑی فوجی طاقت بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے صرف چند اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اس تصور کو بھی چیلنج کیا کہ مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے زیر اثر رہے گا۔
اس صورت حال نے عرب دنیا کے سامنے ایک واضح سوال رکھ دیا ہے۔ یہ وہی عرب سرزمین ہے جس نے تاریخ میں بڑے بڑے فاتح، رہنما اور مفکر پیدا کیے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے علم، تہذیب اور شجاعت کی روشنی دنیا میں پھیلی۔ ایسی قومیں اگر چاہیں تو اپنی سرزمین کے بارے میں فیصلے خود کر سکتی ہیں۔ بیرونی فوجی اڈے کبھی بھی کسی قوم کے وقار اور خودمختاری کی علامت نہیں ہوتے۔
ایران نے اپنے عمل جذبے اور ہمت سے ایک بات واضح کر دی کہ اگر کوئی قوم دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے ڈٹ کر کھڑی ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑتے ہیں۔ آج خطے کے کئی امریکی فوجی اڈے ختم ہو چکے ہیں اور باقی جگہوں سے بھی امریکہ کے نکلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جو طاقت کل تک یہاں اپنے وجود کو ناقابلِ چیلنج سمجھتی تھی، آج اسے اپنے بوریہ بستر سمیٹنے پڑ رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال عرب دنیا کے لیے صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ اگر عرب ممالک اپنی قوت، اپنے وسائل اور اپنی سرزمین کی قدر کو پہچان لیں، باہمی اتحاد کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکی افواج کو دوبارہ اپنے ممالک میں قدم جمانے نہ دیں، تو وہ اپنے خطے کو بیرونی فوجی موجودگی سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی عزت اسی وقت محفوظ رہتی ہے جب وہ اپنے فیصلے خود کرتی ہیں اور اپنی سرزمین کی حفاظت دوسروں کے سہارے نہیں بلکہ اپنے عزم اور طاقت سے کرتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتیں ہمیشہ کمزور ارادوں والی قوموں میں جگہ بناتی ہیں۔ جہاں خود اعتمادی کمزور پڑ جائے اور باہمی اختلافات غالب آ جائیں وہاں باہر کی قوتیں آسانی سے اپنے اڈے قائم کر لیتی ہیں۔ لیکن جہاں قومیں بیدار ہوں، اپنی تاریخ اور اپنی عزت کو یاد رکھتی ہوں، وہاں کسی بیرونی طاقت کے لیے مستقل ٹھہرنا آسان نہیں رہتا۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات یہی بتا رہے ہیں کہ امریکہ کے کئی فوجی اڈے خالی ہو چکے ہیں اور باقی جگہوں سے بھی اس کا نکلنا مشکل نہیں رہا۔ اگر عرب دنیا اس حقیقت کو سمجھ لے اور اپنے مستقبل کے بارے میں واضح قدم اٹھائے تو وہ دن دور نہیں جب اس خطے میں بیرونی فوجی طاقتوں کا باب بند ہو جائے گا اور عرب سرزمین اپنی اصل خودمختار حیثیت کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑی ہوگی۔