-
ایران کی استقامت اور سامراج کی ہزیمت
- سیاسی
- گھر
ایران کی استقامت اور سامراج کی ہزیمت
20
M.U.H
30/03/2026
0
0
تحریر:عادل فراز
ایران اور امریکہ کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ایران کا معاہدہ امریکہ کے ساتھ ممکن ہے مگر اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے امکانات معدوم ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران اسرائیل کوبحیثیت ریاست تسلیم نہیں کرتا۔معاہدہ ریاست کے ساتھ ممکن ہے ریاست کےگماشتوں کے ساتھ نہیں۔ایران کا مانناہے کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قابض ہے ۔اس سرزمین پر فلسطینیوں کا حق ہے لہذا اس زمین سے صہیونیوں کا انخلاء ہوناچاہیے ۔یاد رہے کہ ایران یہودیوںکو صہیونیوں سے الگ کرکے دیکھتاہے ،اس لئے انخلاء کا مطالبہ بھی صہیونیت سے ہے ۔چونکہ صہیونیت ایک تحریک ہے جس نے یہودیت کو بھی بدنام کیاہے اور انسانیت کو بھی ۔اس تحریک نے فلسطینیوں کی حق تلفی کے ساتھ ان کے خون کو بھی حلال قراردیا،جس کا خمیازہ آج پوری دنیا بھگت رہی ہے ۔غزہ میں جس طرح صہیونیوں نے وحشیانہ بمباری کی اسکی مثال دونوں عظیم جنگوں میں نہیں ملے گی۔کسی آبادی کو ختم کرنےکے لئے ضروری نہیں کہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کیاجائے ،اس کے لئے مختلف ذرائع اختیارکئے جاسکتے ہیں ۔امریکہ نے ہیروشیمااور ناگاساکی پر نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کیاتھامگر آج بھی وہاں آبادی موجودہے ۔غزہ کی آبادی بھی پوری طرح ختم نہیں کی جاسکتی مگردنیا کے سامنے ان کی منظم نسل کشی کی گئی ۔آج ایران اور امریکہ کے درمیان جو کشیدگی ہے اس کی ذمہ داری بھی صہیونیت پر عائد ہوتی ہے ۔کیونکہ اسرائیل خطے میں امریکی مفاد کا مرکز ہے لہذا وہ کبھی اس پر آنچ نہیں آنے دے گا۔امریکہ چاہتاہے کہ مشرق وسطیٰ اسرائیل کے زیر اثررہے تاکہ اسرائیل کے ذریعہ امریکہ خطے میں اپنی چودھراہٹ برقرار رکھ سکے ۔سب سے بڑا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں قدرتی ذخائر کی موجودگی ہے جس پر ہمیشہ امریکہ کی نظر رہی ۔امریکہ کو دنیا کے استحکام سے کوئی مطلب نہیں اس کا بنیادی ہدف ان ذخائر اور منابع پر قبضہ کرناہے جو اس خطے کو دنیا سے ممتاز کرتے ہیں ۔ایران میں وافر قدرتی ذخائر موجودہیں مگر ایران کے ساتھ دشمنی کی اصل وجہ ان کا آزاد اور خومختارانہ سیاسی نظریہ ہے ۔وہ دنیا میں کسی طاقت کی بالادستی کو تسلیم نہیںکرتے ،خاص طورپر امریکہ جسے ایرانی’شیطان بزرگ ‘ کہتے ہیں۔ اس لئے امریکہ ایران سے اس نظریے کاخاتمہ چاہتاہے جس نے ایران کے عوام میں امریکہ کے خلاف جذبہ استقامت کو جنم دیا۔
۲۸ فروری 2026 کو امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے اعلیٰ قیادت کو شہید کردیا۔ان کا پہلا نعرہ یہ تھاکہ ہم ایران میں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں مگر انہیں کامیابی نہیں ملی ۔اب تو امریکی عہدیدار بھی یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی ممکن نہیں۔ٹرمپ کو صہیونیت نے یہ باورکرادیاتھاکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی ذیلی قیادت اور عوام کا اتحاد پارہ پارہ ہوجائے گا۔اگر جنگی صورت حال پیداہوگی تو یہ جنگ دو تین دن سے زیادہ جاری نہیں رہے گی ۔امریکہ ہی نہیں دنیاکے بیشتر حکمرانوں کو یہ خیال تھاکہ ایران ایک ہفتے سے زیادہ میدان میں نہیں ٹک سکے گا۔اس لئے دنیا ایران پرحملے کے وقت مصلحتاًخاموش رہی اور کسی نے امریکی جارحیت کی مذمت تک نہیں کی ۔ہندوستانی حکومت کو بھی گمان تھاکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران بکھرجائے گا،یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی جو ایران پر حملے سے پہلےاسرائیل کے دورے پر تھے ،انہوں نے نہ تو ایران پر حملے کی مذمت کی اور نہ رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیتی پیغام جاری کیا۔مگر جب جنگ ایک ہفتے سے آگے بڑھنے لگی اور ایران نے دشمن پر بھرپور وارکرکے اس کو پیچھے ہٹنے پر مجبورکردیاتو دنیا کے تیوربدل گئے ۔خاص طورپر جن بحری بیڑوں کو بلند بانگ دعوئوں کےساتھ ایران کےمحاصرے کے لئے لایاگیاتھا،ایرانی حملوں کے خوف سے وہ ہزاروں کلومیٹر دور سمندر میں جاکر روپوش ہوگئے ۔ایران نے مسلم ملکوں میں موجود امریکی عسکری مراکز اور مفادات کو ہدف بنایااور آج صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجی جان کے خوف سے ہوٹلوں اورمختلف جگہوں پر چھپتے پھررہے ہیں ۔ایران کو جنگ میں بالادستی حاصل ہوئی تو دنیا کالہجہ بدل گیا۔حتیٰ کہ ناٹو میں شامل ملک بھی امریکہ کا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ گئے۔خاص طورپر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکی صدر کی فریاد پر بھی کسی نے کان نہیں دھرا ۔ایران نے امریکہ کو لوہے کے چنے چبوائے تو ہندوستان کے رخ میں بھی تبدیلی آئی۔جنگ کےدوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی سرکار نے اپنے لوگوں کو ایرانی سفارت خانے تعزیت کے لئے بھیجناشروع کردیا۔وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مستری اظہار تعزیت کے لئے ایرانی سفارت خانے پہونچے ۔ان کے بعدمختار عباس نقوی کو بھیجاگیامگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی ۔ہندوستانی عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے موقف کا انتظار کرتے رہے مگر وہ امریکہ کو ناراض نہیں کرناچاہتے تھے۔حیرت ہے وزیر اعظم ایسی صورتحال میں خاموش کیسے رہ سکتے ہیں؟ بی جے پی منموہن سنگھ پر یہ کہتے ہوئے طنز کرتی تھی کہ وہ بولتے نہیں ،مگر نریندر مودی جیسی خاموشی تو آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں دیکھی گئی ۔اسرائیل کی محبت اور امریکی دبائو نے ہماری خارجہ پالیسی اور خودمختارانہ جذبے کو ٹھیس پہونچائی اور دیرینہ دوستوں سے دور کردیا۔اس کے باوجود ہندوستانی عوام نے ایران کی بھرپور حمایت کی اور حکومت کے موقف کی پرواہ نہیں کی۔
موجودہ صور تحال یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی طرح جنگ سے نکلناچاہتاہے ۔امریکہ کو اتنانقصان اس صدی میں کبھی نہیں پہونچاجتنا نقصان ایران کے حملوں سے پہنچا۔ایران نے دعویٰ کیاہے کہ اس نے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو تہس نہس کردیااور اب امریکی فوجی ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ظاہر ہے یہ فوجی اڈے مسلم ملکوں میں موجود تھے جن پر ایرانی حملے کی مخالفت بھی کئی گئی ۔ایران نے واضح طورپر کہاکہ چونکہ مسلم ملکوں میں موجود فوجی اڈوں کو اس کے خلاف استعمال کیاگیالہذا وہ ان پر حملے کا مجاز ہے ۔ایران نے انہیں عسکری اڈوں کو نشانہ بنایاجہاں سے اس پر حملہ کیاگیاتھا۔جن کمپنیوں کو ہدف بنایاگیاان میں بھی زیادہ تر سرمایہ کاری امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کی تھی ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ قطر ،دوبئی اور دیگر مسلم ملکوں میں امریکہ اور اسرائیل نے اس قدر نفوذ پیداکرلیاکہ ان ملکوں کا مسلم تشخص بھی خطرے میں تھا۔امریکہ جسے مسلم حکمران اپنی مضبوط پناہ گاہ سمجھ رہے تھے اب اس خیال خام سے باہر آگئے ہوں گے ۔انہیں چاہیے کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر ازخود غورکریں ۔جو طاقتیں اپنا دفاع نہیں کرسکتیں وہ انہیں کیسے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں ۔ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے جدید ترین دفاعی نظام کو تباہ کرتے ہوئے ان کے عسکری مراکز پر حملہ کیاہے ۔اگر جدید ترین دفاعی نظام انہیں تحفظ فراہم نہیں کرسکے تو مسلم ملکوں کو تحفظ کیسے دے سکتے ہیں۔اس جنگ نے امریکہ کے بارے میں دنیاکے نظریے کو تبدیل کردیاہے ۔امریکہ جس کے ہتھیاروں کی دنیا میں دھوم تھی اب ماند پڑرہی ہے ۔اس کے جدید ترین طیاروں کو ایران نے نشانہ بنایا۔اس کے میزائیل اور ڈرونز کو ایران نے ناکام بنادیا۔جدید ترین دفاعی نظام کی قلعی کھول دی۔اس کے بحری بیڑے جن کے نام سے دنیا میں ہلچل پیداہوجاتی تھی ،ایران نے کامیابی سے نشانہ بنایااور اب ان کا دور دور تک اتا پتہ نہیں ۔جنگ بندی کی پیش کش بھی امریکہ کی طرف سے کی گئی ،جس سے ظاہر ہوتاہے امریکہ اس جنگ سے باہرنکلنے کے لئے کتنا بیتاب ہے ۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کو بھی کافی نقصان پہنچا لیکن ایرانی عوام کی مقاومت نے دشمن کو شکست دیدی ۔ایران کے عوام میزائیلوں اور دشمن کی بم باری سے بے خوف رات بھر سڑکوں پر رات گزارتے ہیں ۔دشمن کے خلاف ’مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہیں ۔اپنی حکومت اور نظام ولایت کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔ایران میںعوام نے اب تک کسی چیز کی قلت کی شکایت نہیں کی ۔ان کے بازاروں میں ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے ۔اس پر حکومت نے ضروری اشیاء کی فراہمی مزید آسان بنادی ۔جس ملک میں عوام کے لئے دوکانوں پر بورڈ لگادئیے گئے ہوں کہ ’یہ مذاق نہیں ہے ،جس چیز کی ضرورت ہولے جائیے ،قیمت جنگ کے بعد اداکردی جائے‘،اس قوم کو سامرجی طاقتیں کبھی شکست نہیں دے سکتیں۔