آج عالم اسلام کو ایسے مشترکہ نقطہ ہائے نظر کی ضرورت ہے جو ان کو آپس میں جوڑیں رکھیں: آیت اللہ خامنہ ای
29
M.U.H
31/03/2025
تہران: رہبر انقلاب اسلامی ایران نے ایرانی حکومتی عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے ملاقات میں کہا کہ آج عالم اسلام کا ایک حصہ شدید زخمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین و لبنان زخمی ہیں اور اس علاقے میں ہونے والی بربریت کی مثال نہیں ملتی۔
رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیر کے روز مصلی امام خمینی (رح) میں عید الفطر کے موقع پر ایرانی حکومتی عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں خطاب کے اہم ترین نکات حسب ذیل ہیں:
آج کل رونما ہونے والے واقعات کا تقاضہ ہے کہ جو کوئی اپنے آپ کو ان میں شامل یا ان سے متاثر سمجھتا ہے وہ ان تمام واقعات پر غور کرے اور اپنی صورتحال واضح کرے؛ آج یہ فرض اسلامی حکومتوں پر عائد ہوتا ہے۔
آج اسلامی دنیا کو ان ہم خیال نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو ان کو آپس میں جوڑ کر ایک فعال اور موثر اکائی بنائیں۔ عید الفطر باہمی یکجہتی کے نکات میں سے ایک ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی تکریم ہے۔
آج اسلامی دنیا کا ایک حصہ شدید زخمی ہے۔ فلسطین و لبنان زخمی ہیں۔ اس خطے میں ہونے والی بربریت کی مثال نہیں ملتی۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ 2 سال سے کم عرصے میں تقریباً بیس ہزار بچے فوجی تنازع میں مارے گئے ہوں۔
اسلامی ملکوں کا اتحاد اور ان کے درمیان ہمدردی اور یک آواز بن جانا، فلسطین اور لبنان میں صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے غیر معمولی جرائم کے مؤثر مقابلہ کا واحد راستہ ہے۔
عظیم مسلم آبادی، قدرتی وسائل کی فراوانی اور دنیا کے حساس جغرافیائی محل وقوع میں واقع ہونے کی وجہ سے عالم اسلام کے لیے اہم مواقع موجود ہیں اور عالم اسلام کا اتحاد ان مواقع اور حساس حالات سے فائدہ اٹھانے کی شرط ہے۔ بلاشبہ، اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومتیں ایک ہو جائیں یا تمام ممالک یکساں سیاسی رجحانات کے حامل بن جائيں ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کو تلاش اور ان مفادات کی ایسی تدوین کی جائے جو آپس میں اختلاف، تصادم یا جھگڑنے سے بچائے رکھے۔
پوری اسلامی دنیا ایک خاندان ہے اور اسلامی حکومتوں کو اس تناظر میں سوچنا اور عمل کرنا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ( ایران) تمام اسلامی حکومتوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور اپنے آپ کو ان کا بھائی نیز عمومی اور بنیادی محاذ پر ایک سمجھتا ہے۔
اسلامی حکومتوں کے درمیان تعاون اور اتحاد جارح اور جابر طاقتوں کی جارحیت، دھونس اور بلیک میلنگ کو روک سکتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کمزور حکومتوں اور قوموں کو بلیک میل کرنا اور ان سے باج وصول کرنا بڑی طاقتوں کا ایک عام اور صریح وتیرہ بن چکا ہے، اس کے جواب میں اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ عالم اسلام کے حقوق کا دفاع کریں اور امریکہ یا کسی اور کو باج وصول کرنے کی اجازت نہ دیں۔
اسلامی حکومتوں کے باہمی اتحاد، ہمدردی اور مشترکہ موقف کے نتیجے میں دیگر طاقتیں اپنا حساب کتاب کرنے پر مجبور ہوں گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اسلامی ممالک کے حکام بھی اپنی ہمت، کوشش اور حوصلے سے کام لیکر صحیح معنوں میں امت مسلمہ کے قیام کی کوشش کریں گے۔