بحری بیڑے سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہیں جو اسے سمندر میں غرق کرسکتے ہیں: امریکی دھمکیوں پر رہبر انقلاب اسلامی کا ردعمل
97
M.U.H
18/02/2026
جنیوا: رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جنوری کی فتنہ میں ہمارے شہیدوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ فتنے کی سرکردگی کرنے والوں کے علاوہ سب مرنے والے ہمارے بچے ہیں اور ہم ان کے غم میں سوگوار ہیں۔
ارنا کے مطابق تبریز کے عوام کے تاریخی قیام کی سالگرہ کے موقع پر صوبہ مشرقی آذربائيجان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ حالہ فتنے میں شہید ہونے والوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
آپ نے فرمایا ہ سوائے ان فتنہ پرستوں اور ان لیڈروں کے اور جنہوں نے دشمن سے پیسہ اور اسلحہ لیا، باقی، خواہ وہ سیکورٹی کا دفاع کرنے والے عناصر ہوں، راہگیر ہوں یا اس میں حصہ لینے والے ہوں یہ ہمارے بچے ہیں۔ ہم ان کے لیے رحمت اور مغفرت کے طلب گار ہیں، اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں کو معاف فرمائے۔
امریکی صدر کی دھمکیوں پر سپریم لیڈر کا ردعمل
- سنا ہے کہ امریکی صدر کہتے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔ بعض اوقات دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی ایسا طمانچہ کھاتی ہے کہ پھر اٹھ نہیں پاتی۔ وہ کہتے رہتے ہیں کہ ہم نے ایک بحری بیڑا ایران بھیجا۔ ٹھیک ہے، بحری بیڑا یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن بیڑے سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں غرق کرسکتا ہے۔
- اپنی ایک حالیہ تقریر میں امریکی صدر نے کہا کہ 47 سال سے امریکہ اسلامی جمہوریہ کو تباہ نہیں کر سکا۔ گویا انہوں نے اپنے لوگوں سے شکایت کی۔ 47 سال سے امریکہ اسلامی جمہوریہ کو تباہ نہیں کر سکا۔ یہ ایک اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں: "تم یہ بھی نہیں کر سکو گے۔"
رہبر انقلاب اسلامی: مذاکرات کے نتائج کا پہلے سے تعین کرنا حماقت ہے
- یہ وہ الفاظ ہیں جو امریکی صدر کہتے ہیں۔ کبھی دھمکی دیتے ہے، کبھی کہتا ہے کہ فلاں فلاں ہونا چاہیے اور فلاں فلاں نہیں ہونا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایرانی قوم پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی قوم اپنے اسلامی اور شیعہ اسباق سے بخوبی واقف ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا۔ ایرانی قوم دراصل یہ کہہ رہی ہے کہ ہم جیسی قوم، اس ثقافت، اس تاریخ، اس اعلیٰ تعلیم کے ساتھ، ان طرح کے کرپٹ لیڈروں کی بیعت نہیں کرے گی جو آج امریکہ میں برسراقتدار ہیں۔
- اپنی ایک حالیہ تقریر میں امریکی صدر نے کہا کہ 47 سال سے امریکہ اسلامی جمہوریہ کو تباہ نہیں کر سکا۔ گویا انہوں نے اپنے لوگوں سے شکایتا یہ بات کہی ہے۔ 47 سال میں بھی امریکہ اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا۔ یہ ایک اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں: "تم یہ بھی نہیں کر سکو گے۔"
رہبر انقلاب اسلامی: مذاکرات کے نتائج کا پہلے سے تعین کرنا حماقت ہے
- یہ وہ الفاظ ہیں جو امریکی صدر کہتے ہیں۔ کبھی دھمکی دیتے ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ ہونا چاہیے اور یہ نہیں ہونا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایرانی قوم پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایرانی قوم اپنے اسلامی اور شیعہ اسباق سے بخوبی واقف ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا۔ ایرانی قوم دراصل یہی کہہ رہی ہے کہ ہم جیسی قوم، اس ثقافت، اس تاریخ، اس اعلیٰ تعلیم کے ساتھ، اس طرح کے کرپٹ لیڈروں کی بیعت نہیں کرے گی جو آج امریکہ میں برسراقتدار ہیں۔
- وہ کہہ رہے ہیں، آئیے آپ کی جوہری توانائی کے بارے میں بات چیت کریں اور مذاکرات کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس یہ توانائی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مذاکرات یہی نتیجہ نکالنا ہے تو مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے - اگر مذاکرات ہی ہونے ہیں تو مذاکرات کے نتائج کا پہلے سے تعین کرنا غلط اور حماقت ہے۔
- قوم کے پاس ڈیٹرنٹ ہتھیاروں کا ہونا ضروری اور واجب ہے۔ کوئی بھی ملک جس کے پاس ڈیٹرنٹ ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے دشمنوں کے پیروں تلے کچلا جائے گا، امریکی ہتھیاروں کے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس فلاں فلاں قسم کے میزائل یا فلان رینج کے میزائل نہیں ہونے چاہئیں۔ جبکہ اس کا تعلق ایرانی قوم سے ہے اور اس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔
"بدنام جزیرے" کے معاملے میں حیران کن کرپشن کا انکشاف مغربی تہذیب اور لبرل جمہوریت کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔
ہم نے ایک طرف مغربی لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، دوسری طرف اس جزیرے کا مسئلہ ہے۔ بلاشبہ یہ ان کی کرپشن کے بڑے پیمانے پر ہونے کی ایک مثال ہے اور جس طرح یہ معاملہ ظاہر نہیں تھا بلکہ ظاہر ہوگیا اسی طرح اور بھی بہت سے معاملات ہیں جو بعد میں سامنے آئیں گے۔
- جنگ کی دھمکیوں کے باوجود، امریکی جانتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی، اقتصادی، اور بین الاقوامی ساکھ کی وجہ سے یہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔