دنیا میں شرارت اور عدم استحکام کا منبع امریکہ و اسرائیل ہیں:سربراہ انصار الله
13
M.U.H
16/07/2026
یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" کے سربراہ "سید عبدالمالک بدر الدین الحوثی" نے کہا کہ "امریکہ"، "اسرائیل" اور ان کے اتحادی، برائی کا سرچشمہ ہیں۔ یہ شریر عناصر عالمی استحکام کے لئے خطرہ ہیں، جو فلسطین سے لے کر دیگر علاقوں تک، قوموں کی دولت کو لوٹنے کے لئے جنگوں اور بدامنی کو ہوا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے خطے میں جنگوں کو بھڑکایا ہوا ہے تاکہ "گریٹر اسرائیل" کے ناپاک منصوبے کو پورا کیا جا سکے۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کا بلاک، نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی توہین کرتا ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی پاوں تلے روندتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثقافتوں کی نابودی اور اقوام کی نسل کشی پر فخر کرتا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہماری سرزمین کے ایک وسیع حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہماری ہولناک ناکہ بندی کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہماری قوم اپنے وسائل سے استفادہ کرنے سے قاصر ہے۔
سعودی عرب بلا تفریق ہماری عوام کی جان اور ناموس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ سعودی حملہ آوروں نے ہزاروں بچوں و خواتین کو قتل اور معاشی و بنیادی رہائشی ڈھانچے کو تباہ کرکے انتہائی وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے ساتھ سعودی تعاون کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کے تباہ کُن کردار کا پہلا شکار، فلسطینی قوم ہے۔ جسے سنگین نسل کشی کا سامنا ہے۔ ایران کی صورت حال پر سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ دشمن، ایران میں نظام کو گرانا چاہتا تھا۔ لیکن ایران کو اس معرکے میں فتح ہوئی۔ ایران کی یہ کامیابی پوری امت مسلمہ اور ہمارے خطے کے تمام فرزندوں کے لئے فتح بن گئی۔ اگر ایران کے خلاف دشمن کی سازش اور منصوبہ کامیاب ہو جاتا، تو خطے کی دیگر اقوام کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ اس صورت حال میں دشمن کی جانب سے "شام" کو بھی معافی نہ ملتی۔