اسلامی ممالک اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، امریکا اور صیہونی حکومت پوری امت اسلامیہ کے دشمن ہیں: آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
19
M.U.H
30/08/2026
تہران :رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ختمی مرتب حضرت محمد مصطفیٰ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت امام جعفرصادق(علیہ السلام) کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا ہے کہ اسلام کے دشمنوں اور بدخواہوں کا منصوبہ یہ ہے کہ امت اسلامیہ میں اختلافات کو بڑھا چڑھاکر پیش کریں تاکہ اس کو کمزور کرکے اس پر تسلط جماسکیں۔
آپ نے جرائم پیشہ امریکا کے چہرے سے نقاب ہٹ جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، امت اسلامیہ کے اتحاد اور کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کے دفاع نیز مختلف مادی اور معنوی مسائل میں باہمی تعاون کو ضروری قرار دیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی ملکوں کے حکام کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ امریکا اور جعلی صیہونی حکومت کے جرائم پیشہ حکام، اسلامی اتحاد اورمغربی ایشیا نیز شمالی افریقا کی اقوام سمیت پوری امت اسلامیہ کے کٹر دشمن ہیں، بنابریں اپنے حقیقی دشمن کو پہنچانیں اور ان کا مقابلہ کریں۔
آپ نے ایران میں مکتب اسلام کے وحدت آفریں درس اور احکام کے قابل قبول حدتک عملی جامہ پہننے کی طرف اشارہ کیا اور ملت کے ایک ایک فرد کو نصیحت کی ہے کہ اپنے درمیان اختلاف وجود میں نہ آنے دیں۔
آپ نے اپنے اس پیغام کے ایک حصے میں فرمایا ہے کہ :
"اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان غور و فکر کریں اور واقعات کو زیادہ گہری نظروں سے دیکھیں۔ اگر مسلمان ایک متحدہ قوت ہوتے اور ایک بند مٹھی کی طرح ان کی طاقتیں مجتمع ہوتیں تو کیا فلسطینی قوم اس طرح بے یار و مددگار ہوکر غاصبوں کے ظلم و جرائم کا نشانہ بنتی؟ اور اگر خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی اقوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے اپنا اتحاد قائم کر لیتیں تو کیا یہ بے نام ونشان اور پست فطرت لٹیرے ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کی سرزمینوں اور اثاثوں پر لالچ کی نظر ڈالنے کی ہمت کر سکتے تھے؟
اسلامی ممالک کے حکمرانوں خاص طور پر مغربی ایشیا کے خطے اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے حکمرانوں کو میری پر زور اور بار بار یہی نصیحت ہے کہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیے، اس کی سازش کو سمجھ کر اس کا مقابلہ کیجیے۔ امت مسلمہ کے مسائل کا علاج اتحاد اور نیکی و بھلائی کی راہ میں دوستی اور تعاون ہے۔
جعلی صہیونی حکومت اور امریکا کےجرائم پیشہ حکام اس اتحاد اور دوستی کے کٹّر دشمن ہیں۔ وہ صرف اسلامی جمہوریۂ ایران، ایرانی قوم اور عظیم اسلامی مزاحمتی محاذ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور بالخصوص مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کی اقوام کے دشمن ہیں اور اس معاملے میں ان ممالک کے حکمراں بھی، جن میں سے بہت سے ان کے معاونین شمار ہوتے ہیں، اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں، جیسا کہ سامراجی طاقتوں کے سربراہوں کی جانب سے بعض اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کھلم کھلا توہین اور ان کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال ہمارے اور آپ کے حافظے میں موجود ہے۔
اختلاف سے اجتناب اور اتحاد کا اہم سبق، دشمن اور دوست کا سامنا کرنے کے بارے میں مکتب اسلام کا پہلا سبق ہے، اس کا دوسرا سبق کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا بچاؤ اور تیسرا سبق مسلمانوں کی مادی و معنوی زندگی کے مختلف امور، یعنی دولت، سلامتی، علم اور پیشرفت کے شعبوں میں مختلف نوعیت کے تعاون اور باہمی قوت میں اضافہ کرنا ہے اور اس راہ کی اصل منزل نئے اسلامی تمدن تک رسائی ہوگی۔
بنابریں مسلمانوں کے درمیان اتحاد، عزیز اور غالب اسلامی تمدن کے حصول کا اصل سنگ بنیاد ہے۔ یہ فکری اورنظریاتی باتیں جن میں عالم اسلام کے بارے میں ہماری آرزو پوشیدہ ہے، ایران عزیز میں قابل قبول حد تک عملی شکل اختیار کرچکی ہیں اور قوم کے تمام افراد کو اس خادم کی ایک بار پھر یہی نصیحت ہے کہ ہرگز اپنے درمیان کسی بھی اختلاف کو جنم لینے کی اجازت نہ دیں۔